تہران میں نظام کی تبدیلی کی امریکی کوششیں ناکام کیوں ہوئیں؟

الجزیرہ کی ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق، 28 فروری 2026 کو امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر شروع کی گئی فوجی مہم اب ایک بڑی امریکی پسپائی پر ختم ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔ اس جنگ کا مقصد ایران کے کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم اور ایٹمی پروگرام کو تباہ کرنا تھا، لیکن معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس مہم نے روایتی فضائی طاقت کی حدود کو بے نقاب کر دیا ہے۔

ماہرین کے مطابق، صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو نیتن یاہو اور موساد کے سربراہ ڈیوڈ برنیا نے اس یقین دہانی پر جنگ کے لیے راضی کیا تھا کہ شدید بمباری سے ایرانی حکومت اندرونی طور پر ٹوٹ جائے گی۔ تاہم، یہ اندازہ غلط ثابت ہوا کیونکہ ایران نے اپنی 5000 سالہ تاریخ اور قومی غیرت کی بنیاد پر بیرونی جارحیت کا بھرپور مقابلہ کیا۔

وینزویلا کی غلط مثال اور تاریخی پس منظر

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ امریکی قیادت نے ایران کا موازنہ وینزویلا سے کرنے کی بڑی غلطی کی۔ اگرچہ جنوری 2026 میں سی آئی اے نے وینزویلا میں حکومت بدلنے میں کامیابی حاصل کی تھی، لیکن تہران کے حالات بالکل مختلف ہیں۔ ایران ایک قدیم تہذیب ہے جس نے گزشتہ 40 سالوں سے پابندیوں کے باوجود اپنی دفاعی صنعت کو اس قدر مضبوط کر لیا ہے کہ وہ کسی بھی روایتی حملے کا جواب دے سکے۔

مزید برآں، 1953 کی فوجی بغاوت کی یادیں آج بھی ایرانی عوام کے ذہنوں میں تازہ ہیں، جب امریکہ اور برطانیہ نے ایک منتخب حکومت کو ختم کیا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ بیرونی حملے کے وقت ایرانی عوام اپنی حکومت کے پیچھے کھڑے ہو گئے، جو امریکی منصوبہ سازوں کے لیے ایک بڑا جھٹکا تھا۔

عالمی معیشت اور توانائی کا تحفظ

جنگ کے پھیلاؤ کو عالمی معیشت کے لیے تباہ کن قرار دیا جا رہا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر ایران کے بنیادی ڈھانچے پر مزید حملے کیے گئے تو جواب میں خطے کے تیل، گیس اور پانی صاف کرنے کے پلانٹس کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے، جس سے عالمی منڈیوں میں شدید بحران پیدا ہوگا۔

آبنائے ہرمز: ایران نے اس اہم بحری راستے پر اپنا مکمل کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔

تیل کی قیمتیں: جنگ کے باعث عالمی سطح پر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافے کا خدشہ ہے۔

علاقائی اثرات: خلیجی ممالک کے پانی کے پلانٹس کی تباہی ایک انسانی المیے کو جنم دے سکتی ہے۔

پاکستانی تناظر: علاقائی استحکام پر اثرات

پاکستان کے لیے امریکہ اور اسرائیل کی اس مہم کی ناکامی اور امریکی پسپائی کے گہرے اثرات ہیں۔ ایران کا پڑوسی ہونے کے ناطے، پاکستان کو اپنی توانائی کی ضروریات اور سفارتی توازن برقرار رکھنے میں مشکلات کا سامنا ہے۔ اسلام آباد کے معاشی مبصرین کا خیال ہے کہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ پاکستان کی کمزور معیشت کے لیے بڑا چیلنج ثابت ہو سکتا ہے۔

اس کے علاوہ، بدلتے ہوئے علاقائی حالات میں پاکستان کو اپنی خارجہ پالیسی پر نظرثانی کرنی ہوگی۔ خلیج میں امریکی موجودگی کم ہونے کے بعد پاکستان کو چین اور دیگر علاقائی ممالک کے ساتھ مل کر سی پیک (CPEC) جیسے منصوبوں کے تحفظ اور تجارتی راستوں کو محفوظ بنانے کے لیے نئی حکمت عملی اپنانی ہوگی۔

ٹیکنالوجی کا فرق: ڈرون بمقابلہ میزائل

اس جنگ نے ثابت کر دیا ہے کہ جدید عسکری ٹیکنالوجی اب ایران جیسی قوتوں کے حق میں جا رہی ہے۔ ماہرین کے مطابق ایران کے ایک ڈرون کی قیمت محض 20 ہزار ڈالر ہے، جبکہ اسے گرانے کے لیے امریکہ جو میزائل استعمال کرتا ہے اس کی قیمت 40 لاکھ ڈالر ہے۔ یہ معاشی تفاوت امریکہ کے لیے اس جنگ کو جاری رکھنا ناممکن بنا رہا ہے۔

ایران نے اپنے مقامی بیلسٹک میزائلوں اور ڈرون ٹیکنالوجی کے ذریعے خلیج میں امریکی بحری بیڑوں کی برتری کو ختم کر دیا ہے۔ 40 سالہ پابندیوں کے باوجود یہ ایران کا ایک بڑا قومی کارنامہ ہے جس نے جدید جنگی اصولوں کو بدل کر رکھ دیا ہے۔

امریکی پالیسی کی ناکامی

امریکی انتظامیہ کے اندرونی اختلافات نے اس جنگ کی حقیقت کو مزید واضح کر دیا ہے۔ نیشنل کاؤنٹر ٹیررازم سینٹر کے ڈائریکٹر جو کینٹ کا استعفیٰ اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ جنگ کسی ضرورت کے تحت نہیں بلکہ محض ضد کی بنیاد پر شروع کی گئی تھی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ مار اے لاگو میں لیے گئے فیصلے زمینی حقائق سے کوسوں دور تھے۔

نتیجہ: سفارت کاری کی طرف واپسی

2026 کی اس جنگ کا اختتام ایران کی تزویراتی فتح پر ہوتا نظر آ رہا ہے۔ امریکہ کو اب یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ فوجی طاقت کے ذریعے حکومتیں بدلنے کا دور گزر چکا ہے۔ ماہرین کا خلاصہ یہ ہے کہ اب وقت آ گیا ہے کہ دنیا طاقت کے بجائے بین الاقوامی قوانین اور سفارت کاری کے ذریعے مسائل کا حل تلاش کرے۔

ایک تبصرہ چھوڑ دو