AI
عالمی سطح پر بدلتی ہوئی سفارتی صورتحال اور علاقائی طاقتوں کے درمیان بڑھتی ہوئی قربت نے مشرق وسطیٰ کے سیاسی نقشے پر نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ معروف تجزیہ کار ڈاکٹر معید پیرزادہ نے اپنے حالیہ تجزیے میں انکشاف کیا ہے کہ اس وقت خطے میں ایک بڑی تبدیلی کی تیاری کی جا رہی ہے۔
ان کے مطابق ایران کے وزیر خارجہ ڈاکٹر عباس عراقچی اس وقت ایک وسیع اور انتہائی اہم سفارتی مہم پر نکلے ہوئے ہیں۔ انہوں نے اپنے اس دورے کے دوران پاکستان کو خاص اہمیت دی اور امریکی وفد کی موجودگی کے باوجود پاکستانی حکام سے ملاقاتوں کو ترجیح دی۔
ایران کی جارحانہ سفارت کاری اور علاقائی اثر و رسوخ
تجزیہ کار کا دعویٰ ہے کہ ایرانی وزیر خارجہ نے اپنے دورے کا آغاز پاکستان سے کیا اور پھر وہ عمان روانہ ہو گئے۔ عمان سے واپسی پر وہ دوبارہ پاکستان آئے جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ ان ملاقاتوں کا مقصد انتہائی حساس اور تزویراتی نوعیت کا تھا۔
ان سفارتی سرگرمیوں کا بنیادی مقصد خطے میں ایک نیا طاقت کا توازن پیدا کرنا ہے جس میں علاقائی ممالک کا کردار کلیدی ہو۔ ڈاکٹر معید پیرزادہ کے مطابق یہ محض روایتی دورہ نہیں تھا بلکہ اس کے پیچھے گہرے سیاسی مقاصد چھپے ہوئے تھے۔
عمان کے ساتھ سٹریٹجک شراکت داری اور آبنائے ہرمز کا مستقبل
اس تجزیے میں سب سے اہم دعویٰ آبنائے ہرمز کے حوالے سے سامنے آیا ہے جو عالمی تجارت اور تیل کی ترسیل کے لیے شہ رگ کی حیثیت رکھتی ہے۔ بتایا گیا ہے کہ ایران اور عمان ایک ایسے قانونی اور انتظامی فریم ورک پر کام کر رہے ہیں جس کے تحت اس اہم آبی گزرگاہ کا انتظام دونوں ممالک کی مسلح افواج مشترکہ طور پر سنبھالیں گی۔
اس اقدام کا مقصد اس علاقے میں غیر علاقائی طاقتوں بالخصوص امریکہ کے اثر و رسوخ کو کم کرنا ہے۔ اگر یہ معاہدہ طے پا جاتا ہے تو یہ عالمی سمندری قانون اور علاقائی سلامتی کے حوالے سے ایک تاریخی موڑ ثابت ہو سکتا ہے۔
پاکستان کا کلیدی کردار اور ٹرمپ کو بھیجی گئی اہم دستاویز
ڈاکٹر معید پیرزادہ کا کہنا ہے کہ عمان سے واپسی پر ایرانی وزیر خارجہ نے پاکستان کے آرمی چیف جنرل عاصم منیر سے ملاقات کی۔ اس ملاقات کے دوران ایک باضابطہ اور منظم تجویز پیش کی گئی جسے نو منتخب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ تک پہنچانے کی درخواست کی گئی۔
یہ تجویز ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی کو کم کرنے کے لیے ایک قدم بہ قدم فارمولے پر مبنی ہے۔ اس میں پہلے مرحلے پر امریکہ سے بحری ناکہ بندی ختم کرنے اور جواب میں ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر کھولنے کی پیشکش کی گئی ہے۔
روس کی مداخلت اور تزویراتی حمایت کا نیا رخ
سفارتی کوششوں کا یہ سلسلہ صرف پاکستان اور عمان تک محدود نہیں رہا بلکہ ایرانی وزیر خارجہ نے سینٹ پیٹرزبرگ کا دورہ بھی کیا۔ وہاں انہوں نے روسی صدر ولادیمیر پیوٹن اور وزیر خارجہ سرگئی لاوروف سے طویل مشاورت کی جس میں روسی انٹیلی جنس کے حکام بھی شریک تھے۔
اس ملاقات کے بعد اقوام متحدہ میں روس کے سفیر نے واضح کیا کہ ان کا ملک آبنائے ہرمز پر ایران کے خود مختار حق کی حمایت کرتا ہے۔ یہ بیان ایران کے لیے ایک بہت بڑی سفارتی فتح تصور کیا جا رہا ہے کیونکہ اس سے عالمی سطح پر اس کا موقف مضبوط ہوا ہے۔
امریکی ردعمل اور ڈونلڈ ٹرمپ کی پراسرار خاموشی
تجزیے کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ نے اس تجویز کا جائزہ اپنے خصوصی اجلاس کے کمرے میں لیا اور بظاہر اسے مسترد کر دیا۔ تاہم دلچسپ بات یہ ہے کہ ٹرمپ جو عام طور پر ایران کے خلاف سخت بیانات دیتے ہیں، اس معاملے پر بالکل خاموش رہے۔
ان کی یہ خاموشی سوشل میڈیا پر بھی برقرار رہی جس سے یہ تاثر مل رہا ہے کہ پس پردہ سفارت کاری کے دروازے اب بھی کھلے ہوئے ہیں۔ ماہرین کا خیال ہے کہ امریکہ اس تجویز پر مزید غور کر سکتا ہے کیونکہ موجودہ عالمی حالات میں وہ کسی نئے محاذ کا متحمل نہیں ہو سکتا۔
یورپی یونین کے خدشات اور جرمن معیشت کا بحران
دوسری جانب جرمنی سمیت کئی یورپی ممالک اس بحران سے شدید متاثر ہو رہے ہیں۔ جرمنی کے اہم سیاستدانوں نے اشارہ دیا ہے کہ ناکہ بندی کی وجہ سے ان کی معیشت تباہ ہو رہی ہے اور اب وہ ایران پر عائد پابندیاں ختم کرنے کی حمایت کر سکتے ہیں۔
سعودی عرب، قطر اور مصر جیسے ممالک بھی آبنائے ہرمز کی بحالی کے حق میں ہیں تاکہ عالمی معیشت کا پہیہ دوبارہ سے تیزی سے گھوم سکے۔ یہ عالمی دباؤ امریکہ کو اپنی پالیسیوں پر نظرثانی کرنے پر مجبور کر سکتا ہے۔
بحری ناکہ بندی کی ناکامی اور تیل کی ترسیل کے نئے راستے
ڈاکٹر معید پیرزادہ نے ایک اور سنسنی خیز دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے 34 تیل بردار بحری جہاز امریکی ناکہ بندی کو ناکام بناتے ہوئے بھارت پہنچنے میں کامیاب ہو گئے۔ ان جہازوں نے پاکستان اور ایران کے ساحلی علاقوں کا سہارا لیا اور بین الاقوامی پانیوں کے بجائے علاقائی حدود کا استعمال کیا۔
اس طریقے سے انہوں نے امریکی بحریہ کے جال کو توڑ دیا اور یہ ثابت کر دیا کہ ناکہ بندی اب اتنی موثر نہیں رہی۔ اگر ایران اسی طرح تیل کی ترسیل جاری رکھتا ہے تو امریکہ کے معاشی ہتھیار کی اہمیت کم ہو جائے گی جس سے مذاکرات کی میز پر ایران کا پلہ بھاری ہو سکتا ہے۔
عالمی مستقبل اور ممکنہ نتائج
مجموعی طور پر صورتحال یہ ظاہر کرتی ہے کہ مشرق وسطیٰ میں ایک نیا بلاک بن رہا ہے جہاں علاقائی ممالک اپنے فیصلے خود کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ روس کی حمایت اور پاکستان کا ثالثی والا کردار اس پوری کہانی میں بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔
آنے والے ہفتے انتہائی اہم ہوں گے کیونکہ ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کو یہ فیصلہ کرنا ہو گا کہ آیا وہ تصادم کا راستہ اختیار کریں گے یا ان نئی تجاویز کو قبول کر کے خطے میں امن کی بنیاد رکھیں گے۔ ایران نے اپنی چال چل دی ہے اور اب گیند امریکہ کے کورٹ میں ہے۔