جرمن چانسلر فریڈرک مرز کا ایران کے ساتھ مذاکرات کا بڑا اعلان

جرمن چانسلر فریڈرک مرز نے تہران کے ساتھ طویل عرصے سے معطل سفارتی تعلقات کی بحالی کا اعلان کیا ہے۔ جرمن حکومت اب ایران کے ساتھ براہ راست مذاکرات کا آغاز کر رہی ہے تاکہ خطے کی کشیدہ صورتحال کو بہتر بنایا جا سکے۔ جرمنی ایران مذاکرات کا یہ عمل عالمی سیاست میں انتہائی اہمیت کا حامل ثابت ہو سکتا ہے۔

الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق چانسلر فریڈرک مرز نے تصدیق کی ہے کہ جرمنی نے ایک طویل خاموشی کے بعد تہران کے ساتھ دوبارہ بات چیت شروع کر دی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ جرمنی ایران مذاکرات اب امریکی اور یورپی شراکت داروں کے ساتھ مکمل ہم آہنگی کے ساتھ آگے بڑھائے جائیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس عمل کے لیے سنجیدہ وجوہات موجود تھیں۔

جرمنی اور ایران کے تعلقات گزشتہ کچھ عرصے سے شدید دباؤ کا شکار تھے جس کی وجہ سے سفارتی تعطل پیدا ہوا تھا۔ فریڈرک مرز کا کہنا ہے کہ جرمنی آبنائے ہرمز کی حفاظت کے لیے بین الاقوامی کوششوں میں شامل ہونے کے لیے تیار ہے۔ تاہم جرمنی ایران مذاکرات کے اس تناظر میں یہ اقدام صرف اسی صورت میں ہوگا جب امریکہ اور ایران امن معاہدے پر متفق ہوں۔

چانسلر مرز نے ڈونلڈ ٹرمپ کے حالیہ بیانات پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ نہیں سمجھتے کہ امریکی صدر کسی پوری تہذیب کو تباہ کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے اسرائیل کی لبنان میں جاری فوجی مہم کو امن عمل کے لیے ایک بڑا خطرہ قرار دیا ہے۔ ان کے بقول جرمنی ایران مذاکرات کے دوران ان علاقائی خدشات پر بھی تفصیلی بات چیت کی جائے گی۔

جرمنی کا یہ سفارتی اقدام مشرق وسطیٰ میں امن کی بحالی کی جانب ایک بڑا اور اہم قدم ثابت ہو سکتا ہے۔ اگر تہران اور واشنگٹن کے درمیان معاملات طے پا جاتے ہیں تو جرمنی سمندری تجارتی راستوں کی حفاظت میں فعال کردار ادا کرے گا۔ جرمنی ایران مذاکرات کی کامیابی سے عالمی منڈیوں اور سیکیورٹی پر مثبت اثرات مرتب ہونے کی توقع ہے۔

ایک تبصرہ چھوڑ دو