آبنائے ہرمز کی سیکورٹی پر قطر کا سخت موقف، بحالی کا مطالبہ

قطر نے عالمی سطح پر انتہائی اہمیت کی حامل آبی گزرگاہ آبنائے ہرمز کی سیکیورٹی کے حوالے سے اپنا واضح اور دوٹوک موقف پیش کر دیا ہے۔ قطری وزارت خارجہ کے ترجمان ماجد الانصاری نے میڈیا بریفنگ کے دوران اس بات پر زور دیا کہ اس اسٹریٹجک گزرگاہ کی حفاظت کو کسی بھی فریق کی جانب سے خطرے میں نہیں ڈالا جانا چاہیے۔ قطر اس وقت اپنے تمام بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے تاکہ اس اہم راستے کو دوبارہ کھولنے اور اس کی بندش کے منفی اثرات کو روکنے کے لیے راہ ہموار کی جا سکے۔

الجزیرہ کے مطابق ماجد الانصاری نے میڈیا کو بتایا کہ آبنائے ہرمز کی سیکیورٹی ایک عالمی مسئلہ ہے جس پر کسی قسم کی پیشگی شرائط قبول نہیں کی جائیں گی۔ انہوں نے اس بات کی ضرورت پر زور دیا کہ اس بحران کا حل علاقائی ہونا چاہیے جس میں وہ تمام ساحلی ریاستیں شامل ہوں جو اس گزرگاہ پر انحصار کرتی ہیں۔ قطر کا ماننا ہے کہ کسی بھی فریق کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ بین الاقوامی تجارت اور توانائی کی فراہمی کے اس اہم ترین راستے کو کسی بھی نوعیت کی دھمکی دے کر عالمی استحکام کو نقصان پہنچائے۔

علاقائی روابط اور اہمیت

اس اہم آبی گزرگاہ کی بندش سے پیدا ہونے والے منفی معاشی اثرات عالمی سطح پر محسوس کیے جا رہے ہیں جس پر قطر نے تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ترجمان کا کہنا تھا کہ ہم اپنے شراکت داروں کے ساتھ مل کر اس کوشش میں ہیں کہ آبنائے ہرمز کو غیر مشروط طور پر کھولا جائے تاکہ عالمی تجارت متاثر نہ ہو۔ قطر نے اس سلسلے میں ایک منظم سفارتی حکمت عملی اپنائی ہے جس کا مقصد کشیدگی کو کم کرنا اور فریقین کو مذاکرات کی میز پر لانا ہے تاکہ خطے کے تمام ممالک کے مفادات کا تحفظ ممکن ہو سکے۔

ماجد الانصاری نے مزید وضاحت کی کہ آبنائے ہرمز کا مسئلہ محض دو ممالک کا تنازع نہیں بلکہ یہ ان تمام ریاستوں کے لیے زندگی اور موت کا مسئلہ ہے جن کی معیشت کا دارومدار یہاں سے ہونے والی آمد و رفت پر ہے۔ قطری حکومت نے واضح کیا ہے کہ وہ کسی بھی ایسی کارروائی کی حمایت نہیں کرے گی جس سے اس گزرگاہ کی سیکیورٹی متاثر ہو۔ اس سلسلے میں علاقائی ممالک کے درمیان اعتماد سازی اور تعاون کو بڑھانے کے لیے قطر نے اپنی خدمات پیش کر دی ہیں تاکہ مستقبل میں ایسے بحرانوں سے بچا جا سکے۔

پاکستان میں متوقع مذاکرات

قطری دفتر خارجہ کے ترجمان نے بریفنگ کے دوران پاکستان کا خصوصی ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وہ پاکستان میں مذاکرات کے ایک نئے دور کی تصدیق کا انتظار کر رہے ہیں۔ ماجد الانصاری کا کہنا تھا کہ قطر ان تمام سفارتی کوششوں کی بھرپور حمایت کرتا ہے جو خطے میں پائیدار امن اور استحکام کی جانب لے جاتی ہوں۔ پاکستان میں متوقع یہ مذاکرات آبنائے ہرمز کے مسئلے اور خطے کی مجموعی صورتحال کو بہتر بنانے میں کلیدی کردار ادا کر سکتے ہیں جس کے لیے قطر مکمل طور پر پرامید ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان نے ہمیشہ علاقائی تنازعات کے حل کے لیے ایک مثبت پلیٹ فارم مہیا کیا ہے اور قطر اس ضمن میں جاری کوششوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔ مذاکرات کا مقصد ایک ایسا پائیدار حل تلاش کرنا ہے جو نہ صرف موجودہ کشیدگی کو ختم کرے بلکہ مستقبل کے لیے بھی ایک مضبوط فریم ورک فراہم کرے۔ قطر کا ہدف ایک ایسی جنگ بندی اور مستقل حل ہے جس سے تمام متعلقہ فریقین کو یکساں فائدہ پہنچے اور خطے میں ترقی کے نئے دور کا آغاز ہو سکے جو کہ موجودہ حالات میں ناگزیر ہو چکا ہے۔

مستقبل کی حکمت عملی

کشیدگی کو کم کرنے کے لیے اس وقت انتہائی گہرے علاقائی رابطے جاری ہیں جن میں قطر ایک مرکزی ثالث کے طور پر ابھرا ہے۔ ماجد الانصاری نے بتایا کہ قطر نے شروع سے ہی اس بات پر زور دیا ہے کہ مستقل حل ہی خطے کے مفاد میں ہے اور اس کے لیے تمام فریقین کو لچک دکھانی ہوگی۔ قطری سفارت کاروں کی ٹیم مختلف دارالحکومتوں کے ساتھ رابطے میں ہے تاکہ ثالثی کی کوششوں کو کامیاب بنایا جا سکے اور کسی بھی ممکنہ فوجی تصادم کے خطرے کو جڑ سے ختم کیا جا سکے۔

قطر کی یہ کوششیں صرف آبنائے ہرمز تک محدود نہیں بلکہ وہ پورے مشرق وسطیٰ میں امن کے قیام کے لیے کوشاں ہے۔ ترجمان نے میڈیا کو یقین دلایا کہ قطر اپنی ذمہ داریوں سے آگاہ ہے اور وہ عالمی توانائی کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے ہر ممکن اقدام کرے گا۔ آنے والے دن اس حوالے سے انتہائی اہم ثابت ہو سکتے ہیں کیونکہ مختلف سطحوں پر ہونے والے یہ رابطے کسی بڑے بریک تھرو کی جانب اشارہ کر رہے ہیں جو عالمی منڈیوں میں استحکام لانے کا باعث بنے گا۔

ایک تبصرہ چھوڑ دو