Ai
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیل اور لبنان کے درمیان فوری جنگ بندی کا باضابطہ اعلان کر دیا ہے جو آج رات سے نافذ العمل ہوگی۔ اس اہم پیشرفت کی اطلاع الجزیرہ نے صدر ٹرمپ کے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری کردہ بیان کے حوالے سے دی ہے۔ صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ یہ اقدام خطے میں مستقل امن کی جانب پہلا قدم ہے۔
جنگ بندی کا آغاز
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے واضح کیا کہ اسرائیل اور لبنان کے درمیان اسرائیل لبنان جنگ بندی کا باقاعدہ آغاز آج رات نو بجے جی ایم ٹی سے ہوگا۔ انہوں نے بتایا کہ اس سلسلے میں لبنانی صدر جوزف عون اور اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو سے انتہائی مفید گفتگو ہوئی ہے۔ دونوں رہنماؤں نے اتفاق کیا ہے کہ اپنے ممالک کے درمیان امن کے قیام کے لیے وہ اس دس روزہ جنگ بندی پر سختی سے عمل کریں گے۔
صدر ٹرمپ کے مطابق یہ جنگ بندی مشرقی وقت کے مطابق شام پانچ بجے سے شروع ہوگی جس کا مقصد دونوں جانب سے جاری فوجی کارروائیوں کو روکنا ہے۔ اس عارضی وقفے کے دوران دونوں ممالک کے نمائندے مستقل امن کے فارمولے پر غور کریں گے۔ اسرائیل لبنان جنگ بندی کے اس اعلان کو مشرق وسطیٰ کی حالیہ صورتحال میں ایک بڑی سفارتی کامیابی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
امریکی صدر نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ خطے میں خونی تصادم کے خاتمے کے لیے ہر ممکن کوششیں جاری رکھیں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اسرائیل لبنان جنگ بندی کا مقصد صرف ہتھیاروں کو خاموش کرنا نہیں بلکہ ایک دیرپا معاہدے کی بنیاد رکھنا ہے۔ اس پیشرفت سے خطے میں جاری انسانی بحران کو کم کرنے میں بھی مدد ملنے کی توقع ہے۔
واشنگٹن میں مذاکرات
صدر ٹرمپ نے انکشاف کیا کہ واشنگٹن ڈی سی میں منگل کے روز دونوں ممالک کے نمائندوں کے درمیان گزشتہ چونتیس سالوں میں پہلی بار براہ راست ملاقات ہوئی ہے۔ اس اہم اجلاس کی میزبانی امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کی جنہوں نے فریقین کو مذاکرات کی میز پر لانے میں اہم کردار ادا کیا۔ اس ملاقات کو سفارتی حلقوں میں ایک غیر معمولی اور تاریخی واقعہ قرار دیا جا رہا ہے۔
مستقل امن کے ہدف کو حاصل کرنے کے لیے صدر ٹرمپ نے نائب صدر جے ڈی وینس اور وزیر خارجہ مارکو روبیو کو خصوصی ہدایات جاری کر دی ہیں۔ ان کے ہمراہ جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کے چیئرمین ڈین ریزن کین بھی اسرائیل اور لبنان کے ساتھ مل کر کام کریں گے۔ ان تمام اعلیٰ حکام کا مقصد ایک ایسا امن معاہدہ تیار کرنا ہے جو آنے والی دہائیوں تک قائم رہ سکے۔
اسرائیل لبنان جنگ بندی کے بعد اب توجہ کا مرکز وائٹ ہاؤس میں ہونے والی مستقبل کی ملاقاتیں ہوں گی۔ صدر ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ وہ اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو اور لبنانی صدر جوزف عون کو وائٹ ہاؤس میں مدعو کریں گے۔ یہ 1983 کے بعد پہلا موقع ہوگا جب دونوں ممالک کے سربراہان کسی بامعنی امن مذاکرات کے لیے ایک ہی جگہ موجود ہوں گے۔
عالمی سطح پر ردعمل
صدر ٹرمپ نے اپنے بیان میں فخریہ طور پر کہا کہ وہ اب تک دنیا بھر میں نو مختلف جنگوں کو ختم کرنے کا اعزاز رکھتے ہیں۔ انہوں نے اسرائیل لبنان جنگ بندی کو اپنی دسویں بڑی کامیابی قرار دیتے ہوئے اسے جلد از جلد مکمل کرنے کا عہد کیا ہے۔ ان کے مطابق دونوں اطراف کے عوام امن کے خواہش مند ہیں اور اس بار وہ اسے حقیقت بنا کر دم لیں گے۔
عالمی میڈیا اس پیشرفت کو امریکی خارجہ پالیسی میں ایک بڑے موڑ کے طور پر دیکھ رہا ہے جس کے اثرات پورے خطے پر پڑیں گے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ اسرائیل لبنان جنگ بندی سے نہ صرف دونوں ممالک بلکہ شام اور دیگر پڑوسی ریاستوں میں بھی استحکام آئے گا۔ صدر ٹرمپ کی جانب سے براہ راست مداخلت نے ان مذاکرات کو بین الاقوامی سطح پر انتہائی اہم بنا دیا ہے۔
تاہم بعض تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اسرائیل لبنان جنگ بندی کے دس دن بہت نازک ہوں گے کیونکہ اس دوران کسی بھی چھوٹی خلاف ورزی سے پورا عمل متاثر ہو سکتا ہے۔ امریکی انتظامیہ نے واضح کیا ہے کہ وہ اس معاہدے کی نگرانی کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے گی۔ اس عمل میں لبنانی اور اسرائیلی سیکیورٹی اداروں کا تعاون بھی کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔
مستقبل کے اثرات
اسرائیل لبنان جنگ بندی کے بعد کا مرحلہ سیاسی طور پر انتہائی پیچیدہ ہونے کی توقع ہے جس میں سرحدی تنازعات سرفہرست ہیں۔ وائٹ ہاؤس میں ہونے والی ملاقاتوں میں سرحدوں کے تعین اور سیکیورٹی ضمانتوں پر تفصیلی بات چیت کی جائے گی۔ صدر ٹرمپ کو یقین ہے کہ فریقین کے درمیان پایا جانے والا حالیہ اعتماد کا فقدان ان مذاکرات کے ذریعے ختم کیا جا سکتا ہے۔
اگر یہ دس روزہ جنگ بندی کامیاب رہتی ہے تو اسے مشرق وسطیٰ کے دیگر تنازعات کے حل کے لیے ایک ماڈل کے طور پر استعمال کیا جا سکتا ہے۔ اسرائیل لبنان جنگ بندی کی کامیابی کا دارومدار اس بات پر ہے کہ فریقین اپنی عسکری پوزیشنوں سے کتنا پیچھے ہٹنے پر تیار ہوتے ہیں۔ صدر ٹرمپ نے زور دیا ہے کہ اب وقت آگیا ہے کہ جنگوں کی جگہ تجارت اور سفارت کاری کو دی جائے۔
آنے والے دنوں میں امریکی وزارت خارجہ اس سلسلے میں مزید تفصیلات جاری کرے گی جس میں مذاکرات کا ایجنڈا شامل ہوگا۔ اسرائیل لبنان جنگ بندی کا یہ معاہدہ ٹرمپ انتظامیہ کی مشرق وسطیٰ کی پالیسی کا ایک اہم ترین ستون ثابت ہو سکتا ہے۔ پوری دنیا کی نظریں اب وائٹ ہاؤس پر جمی ہیں جہاں قیام امن کے لیے ایک نئی تاریخ رقم ہونے جا رہی ہے۔
اکثر پوچھے گئے سوالات
سوال: اسرائیل اور لبنان کے درمیان جنگ بندی کب سے شروع ہو رہی ہے؟
جواب: صدر ٹرمپ کے مطابق اسرائیل لبنان جنگ بندی کا آغاز آج رات 21:00 جی ایم ٹی سے ہوگا۔
سوال: کیا دونوں ممالک کے درمیان طویل عرصے بعد کوئی ملاقات ہوئی ہے؟
جواب: جی ہاں واشنگٹن میں ہونے والی حالیہ ملاقات گزشتہ 34 سالوں میں اپنی نوعیت کی پہلی براہ راست ملاقات تھی۔
سوال: وائٹ ہاؤس میں ہونے والے مذاکرات میں کون شریک ہوگا؟
جواب: ان مذاکرات میں اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو اور لبنانی صدر جوزف عون شریک ہوں گے۔