ون کانسٹی ٹیوشن ایونیو تنازع: ابصار عالم کے محسن نقوی پر سنگین الزامات

وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں واقع ون کانسٹی ٹیوشن ایونیو کے جڑواں ٹاورز ان دنوں ایک شدید قانونی اور انتظامی تنازع کی زد میں ہیں۔ معروف صحافی اور تجزیہ کار ابصار عالم نے اپنے حالیہ وی لاگ میں اس معاملے پر تفصیلی گفتگو کرتے ہوئے کئی اہم حقائق سامنے رکھے ہیں۔

انہوں نے اپنی گفتگو کا آغاز ایک وضاحتی بیان سے کیا جس میں انہوں نے بتایا کہ وہ اس عمارت میں ایک چھوٹے اپارٹمنٹ کے مالک ہیں۔ ابصار عالم کے مطابق انہوں نے یہ تقریباً سات سو مربع فٹ کا اپارٹمنٹ سنہ دو ہزار چودہ پندرہ میں خریدا تھا لیکن عدالتی حکم امتناع کی وجہ سے وہ اسے فروخت کرنے سے قاصر ہیں۔

پولیس اور رینجرز کا مبینہ چھاپہ اور طریقہ کار

صحافی ابصار عالم نے عمارت میں پیش آنے والے حالیہ واقعے کی تفصیلات بتاتے ہوئے دعویٰ کیا کہ اسلام آباد پولیس اور رینجرز نے وہاں ایک بڑا چھاپہ مارا ہے۔ اس کارروائی کے دوران دروازے توڑے گئے اور وہاں رہائش پذیر خاندانوں کو زبردستی بے دخل کیا گیا۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ سب کچھ ایک عدالتی حکم کے بہانے کیا گیا تاہم ان کے مطابق اس وقت کوئی تحریری حکم موجود نہیں تھا۔ ابصار عالم نے الزام عائد کیا کہ جج کی جانب سے درخواستوں کو محض زبانی طور پر مسترد کیا گیا تھا جس کی بنیاد پر اتنی بڑی کارروائی شروع کر دی گئی۔

وزیر داخلہ محسن نقوی پر براہ راست الزامات

اس پورے واقعے میں ابصار عالم نے وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کو براہ راست ذمہ دار ٹھہرایا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ یہ چھاپہ مار کارروائی محسن نقوی کی ایما پر کی گئی اور اس کے لیے رینجرز کا استعمال کیا گیا جو کہ فوج کی کمان میں آتے ہیں۔

صحافی کے مطابق رینجرز کی تعیناتی کے لیے اعلیٰ کمان سے ضروری اجازت نامہ حاصل نہیں کیا گیا تھا۔ انہوں نے یہ انکشاف بھی کیا کہ جیسے ہی اس کارروائی کی خبریں میڈیا پر نشر ہونا شروع ہوئیں تو محض بیس منٹ کے اندر رینجرز کو وہاں سے واپس بلا لیا گیا جو کہ کارروائی کی قانونی حیثیت پر سوال اٹھاتا ہے۔

سفارتی ردعمل اور بین الاقوامی اثرات

ابصار عالم نے اس کارروائی کے نتیجے میں پیدا ہونے والے بین الاقوامی اثرات پر بھی روشنی ڈالی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ان عمارتوں میں کئی غیر ملکی سفارت کار اور بیرون ملک مقیم پاکستانی بھی رہائش پذیر ہیں جنہیں اس کارروائی کا نشانہ بنایا گیا۔

ان کا کہنا تھا کہ اس واقعے کے بعد کم از کم چار یورپی ممالک نے پاکستان کو سفارتی احتجاجی مراسلہ یا ڈی مارش جاری کیا ہے۔ ابصار عالم کے مطابق ایسی کارروائیاں وزیر اعظم اور عسکری قیادت کی ملک میں غیر ملکی سرمایہ کاری لانے کی کوششوں کو شدید نقصان پہنچا سکتی ہیں۔

رئیل اسٹیٹ ڈیل اور مبینہ مالی محرکات

صحافی نے اس بے دخلی کے پیچھے مبینہ طور پر ایک بڑی رئیل اسٹیٹ ڈیل کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے بتایا کہ یہ جڑواں ٹاورز اسی کینال کے ایک بڑے پلاٹ کے صرف آٹھ کینال پر بنے ہوئے ہیں۔ ان کے دعویٰ کے مطابق اصل مقصد رہائشیوں کو نکال کر اس پوری زمین کی قیمت بڑھانا ہے۔

ابصار عالم نے الزام لگایا کہ اس زمین کو لاہور سے تعلق رکھنے والے ایک بڑے سرمایہ دار یا سیٹھ کو فروخت کرنے کی منصوبہ بندی کی گئی ہے۔ انہوں نے اسے پراپرٹی قبضے کی ایک کوشش قرار دیا جس کے لیے سرکاری مشینری کا استعمال کیا جا رہا ہے۔

ماضی کے واقعات سے موازنہ

اپنی گفتگو کے دوران ابصار عالم نے ان ہتھکنڈوں کا موازنہ سابق ڈی جی آئی ایس آئی جنرل فیض حمید کے دور سے کیا۔ انہوں نے ٹاپ سٹی کیس کا حوالہ دیتے ہوئے خبردار کیا کہ جو لوگ آج طاقت کا غلط استعمال کر رہے ہیں انہیں بھی مستقبل میں قانونی نتائج کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

انہوں نے وفاقی وزیر کے مالی معاملات پر بھی سوالات اٹھائے اور دبئی لیکس کا تذکرہ کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ان کی اہلیہ کے نام پر وہاں جائیدادیں موجود ہیں۔ ابصار عالم نے ملک چلانے والی مقتدر قوتوں سے اپیل کی کہ وہ ایسے افراد کی پشت پناہی بند کریں جو ذاتی مفادات کے لیے ریاستی اداروں کی ساکھ کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔

ایک تبصرہ چھوڑ دو