Screen Grab
پاکستان کے معروف تحقیقاتی صحافی اقرار الحسن نے حال ہی میں ایک ڈیجیٹل پلیٹ فارم آر ٹی ایس چوبیس پلس پر میزبان ریحان طارق کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے اپنی زندگی کے اہم ترین فیصلوں سے پردہ اٹھایا ہے۔ اس طویل مکالمے کے دوران انہوں نے جہاں اپنی پیشہ ورانہ زندگی کے خاتمے کی تصدیق کی وہیں ملک کے سیاسی منظر نامے پر ایک نئی تحریک کے آغاز کا بھی اعلان کیا۔
گفتگو کا آغاز عمران خان اور بشریٰ بی بی کے حوالے سے اقرار الحسن کے ماضی کے بیانات سے ہوا۔ ریحان طارق نے ان سے سخت سوالات کیے کہ وہ سیاسی رہنماؤں کی ذاتی زندگیوں کو نشانہ کیوں بناتے ہیں۔
اس کے جواب میں اقرار الحسن نے اپنے موقف کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ وہ عدت کیس اور اخلاقی معیارات پر کیے گئے اپنے تبصروں پر قائم ہیں۔ ان کا ماننا ہے کہ سیاسی قیادت کو معاشرے کے لیے ایک رول ماڈل ہونا چاہیے اور ان کی اخلاقی دیانت پر سوال اٹھانا عوامی حق ہے۔
سیاسی وفاداریاں اور نظریاتی تبدیلی
دورانِ گفتگو اقرار الحسن کے ماضی کے ان ٹویٹس کا بھی تذکرہ ہوا جن میں وہ تحریکِ انصاف کے حامی نظر آتے تھے۔ انہوں نے وضاحت کی کہ سال دو ہزار تیرہ سے دو ہزار اٹھارہ کے درمیان وہ عمران خان کے نظریات سے متاثر ضرور تھے لیکن وقت کے ساتھ ساتھ ان کی رائے بدل گئی۔
ان کا دعویٰ تھا کہ جب انہوں نے دیکھا کہ پی ٹی آئی مقتدر حلقوں کے ساتھ مل کر سیاست کر رہی ہے تو انہیں مایوسی ہوئی۔ انہوں نے واضح کیا کہ وہ عمران خان کی کامیابیوں کے معترف ہیں لیکن ان کے سیاسی طریقہ کار سے انہیں شدید اختلاف ہے۔
میزبان کی جانب سے جب ان پر ’بغضِ عمران‘ کا الزام لگایا گیا تو اقرار الحسن نے اسے سختی سے مسترد کر دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کی تنقید کسی شخصیت کے خلاف نہیں بلکہ وہ نظام کی اصلاح چاہتے ہیں جس میں قانون کی حکمرانی اور عدلیہ کی آزادی شامل ہو۔
عوام راج تحریک: ایک نیا سیاسی وژن
اقرار الحسن نے اپنی نئی سیاسی تحریک عوام راج تحریک کے بارے میں تفصیلات بتاتے ہوئے اسے روایتی سیاست سے الگ قرار دیا۔ ان کے مطابق یہ کوئی روایتی سیاسی جماعت نہیں ہے جو کسی ایک لیڈر کے گرد گھومتی ہو۔
انہوں نے انکشاف کیا کہ یہ تحریک مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے ایک جدید پلیٹ فارم پر مبنی ہوگی۔ اس کا مقصد متوسط طبقے کے باصلاحیت نوجوانوں کو پارلیمنٹ تک پہنچانا ہے تاکہ جاگیردارانہ نظام کا خاتمہ کیا جا سکے۔
ان کا کہنا تھا کہ اس نظام کے تحت امیدواروں کا انتخاب دولت یا خاندانی اثر و رسوخ کے بجائے خالصتاً میرٹ کی بنیاد پر کیا جائے گا۔ وہ چاہتے ہیں کہ عام شہری بھی ملک کی قانون سازی میں اپنا حصہ ڈال سکیں۔
اے آر وائی نیوز سے علیحدگی اور مالی مشکلات
پروگرام کے سب سے حساس حصے میں اقرار الحسن نے اپنی موجودہ مالی حالت اور اے آر وائی نیوز سے علیحدگی کے بارے میں بات کی۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ وہ اپنی طویل وابستگی کے بعد اس ادارے کو چھوڑ چکے ہیں۔
ان کا دعویٰ تھا کہ اس وقت ان کا بینک اکاؤنٹ تقریباً خالی ہے اور وہ اپنی واجب الادا رقم کی وصولی کے منتظر ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ اپنے خاندان کی کفالت کے لیے وہ جلد ہی رئیل اسٹیٹ کا کاروبار شروع کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔
وہ اس تاثر کو بھی زائل کرنا چاہتے تھے کہ ان کے پاس بہت زیادہ دولت ہے، بلکہ ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے ہمیشہ اپنی اقدار پر سمجھوتہ کیے بغیر کام کیا۔ انہوں نے اپنی زندگی کی اس نئی شروعات کو ایک چیلنج کے طور پر قبول کیا ہے۔
عوامی سوالات اور مستقبل کا لائحہ عمل
پوڈ کاسٹ کے آخری حصے میں لائیو سامعین نے اقرار الحسن سے تیکھے سوالات کیے۔ ان سے ان کی ماضی کی تحقیقاتی صحافت سرِ عام اور جعلی پیروں کے خلاف مہم کے حوالے سے بھی پوچھا گیا۔
کچھ لوگوں نے ان پر اسٹیبلشمنٹ کا مہرہ ہونے کا الزام بھی لگایا جس پر انہوں نے جواب دیا کہ وہ کبھی بھی کسی حکومتی عہدے یا وزارتِ عظمیٰ کے امیدوار نہیں بنیں گے۔ ان کا مقصد صرف ایک ایسا نظام بنانا ہے جو عام آدمی کو طاقتور بنا سکے۔
انہوں نے معذور افراد کے حقوق اور معاشرتی ناانصافیوں پر بھی کھل کر بات کی۔ پروگرام کے اختتام پر میزبان ریحان طارق نے ایک اصلاحی نظم پڑھی جس میں منافقانہ رویوں کی مذمت کی گئی تھی اور مہمان کا شکریہ ادا کیا گیا۔