Ai
پاکستان کے کپاس پیدا کرنے والے علاقوں بالخصوص سندھ میں فصل کی کٹائی سے مہینوں پہلے ہی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ بدین اور سانگھڑ جیسے اضلاع میں ایڈوانس سودوں نے پچھلے تمام ریکارڈ توڑ دیے ہیں جس سے ٹیکسٹائل سیکٹر میں بے چینی بڑھ گئی ہے۔ پاکستان میں کپاس کی قیمت اس وقت تین سال کی بلند ترین سطح پر پہنچ چکی ہے جو کاشتکاروں کے لیے خوش آئند مگر صنعت کاروں کے لیے لمحہ فکریہ ہے۔
پرافٹ پی کے کی ایک رپورٹ کے مطابق سیزن کا پہلا بڑا سودا ٹنڈو باگو کے ایک تاجر اور خانیوال کی جننگ فیکٹری کے درمیان طے پایا ہے۔ اس معاہدے میں مئی کے آخر تک فراہمی کے لیے کپاس کی قیمت 10 ہزار روپے فی من مقرر کی گئی ہے۔ دوسری جانب سانگھڑ جیسے علاقوں سے ایسی اطلاعات بھی موصول ہو رہی ہیں جہاں کپاس کی قیمت 20 ہزار روپے فی من تک رپورٹ کی گئی ہے۔
کپاس کی ریکارڈ قیمتیں
پاکستان میں کپاس کی قیمتوں میں اس اچانک اضافے کی کئی اہم وجوہات ہیں جن میں عالمی تجارتی راستوں کی بندش سرفہرست ہے۔ پاکستان اپنی ٹیکسٹائل صنعت کی ضروریات پوری کرنے کے لیے امریکہ سے بڑی مقدار میں کپاس درآمد کرتا رہا ہے۔ تاہم گزشتہ دو ماہ کے دوران ایران کے ساتھ کشیدگی اور سمندری راستوں کی بندش کی وجہ سے کپاس کی درآمدات تقریباً رک چکی ہیں۔
مقامی تاجروں کا خیال تھا کہ ملکی پیداوار سے طلب پوری کر لی جائے گی لیکن صورتحال اس کے برعکس نظر آ رہی ہے۔ عام طور پر پاکستان میں کپاس کی بوائی اپریل کے آخر سے جون تک ہوتی ہے اور کٹائی اگست سے دسمبر تک چلتی ہے۔ سندھ کے بہت سے کسان سال میں دو بار کپاس کاشت کرتے ہیں جس کی وجہ سے مئی میں بھی کچھ مقدار مارکیٹ میں آ جاتی ہے۔
فروری میں امریکہ اور اسرائیل کے ایران پر حملوں کے بعد سے تجارتی راستے بلاک ہیں جس نے سپلائی میں بڑا خلا پیدا کر دیا ہے۔ اس صورتحال میں جنرز اور تاجروں نے اپنی تمام تر توجہ سندھ کی ابتدائی فصل پر مرکوز کر دی ہے۔ ایک مقامی کسان کے مطابق طلب میں اضافے کو دیکھتے ہوئے بہت سے زمینداروں نے اس بار کپاس کے زیر کاشت رقبے میں بھی اضافہ کیا تھا۔
عالمی تجارتی رکاوٹیں
مارچ کے مہینے میں ہونے والی غیر معمولی اور شدید بارشوں نے کاشتکاروں اور تاجروں کی نیندیں اڑا دی ہیں۔ ماہرین کو خدشہ ہے کہ ان بارشوں سے کپاس کی فی ایکڑ پیداوار بری طرح متاثر ہو سکتی ہے جو قیمتوں میں مزید اضافے کا سبب بنے گی۔ ایک بڑے ڈیلر نے تو یہاں تک اعلان کر دیا ہے کہ وہ 9200 روپے کی مقررہ شرح پر لامحدود کپاس خریدنے کے لیے تیار ہے۔
پاکستان میں کپاس کی قیمت کا انحصار اب مکمل طور پر مقامی سپلائی اور بین الاقوامی مارکیٹ کی دستیابی پر ہے۔ حال ہی میں ایران اور پاکستان کے درمیان جنگ بندی کے اعلان کے باوجود تاجر تاحال محتاط رویہ اختیار کیے ہوئے ہیں۔ جب تک آبنائے ہرمز مکمل طور پر کھل نہیں جاتی اور تجارتی جہازوں کی آمد و رفت بحال نہیں ہوتی تب تک قیمتوں میں استحکام آنا مشکل نظر آتا ہے۔
عالمی منڈی میں بھی کپاس کی صورتحال کچھ زیادہ بہتر نہیں ہے کیونکہ امریکہ سمیت دیگر بڑے ممالک میں بھی پیداوار میں کمی دیکھی جا رہی ہے۔ ورلڈ ایگریکلچرل سپلائی اینڈ ڈیمانڈ ایسٹیمیٹس (WASDE) کی رپورٹ کے مطابق عالمی سطح پر کپاس کی پیداوار کم اور کھپت زیادہ ہونے کی توقع ہے۔ اس عالمی توازن کے بگڑنے سے پاکستان جیسے ممالک پر دباؤ مزید بڑھ رہا ہے۔
موسمی تبدیلیاں اور خدشات
گزشتہ دو دہائیوں کے دوران پاکستان میں کپاس کی فصل مسلسل زوال کا شکار رہی ہے جو کہ ملکی معیشت کے لیے ایک بڑا جھٹکا ہے۔ سال 2005 میں پاکستان 14 ملین بیلز پیدا کر رہا تھا جو گزشتہ سال کم ہو کر صرف 5 ملین بیلز تک رہ گئی ہیں۔ پیداوار میں 65 فیصد کی یہ نمایاں کمی ظاہر کرتی ہے کہ یہ فصل اب اپنی بین الاقوامی مسابقت کھو رہی ہے۔
کپاس جو کبھی پاکستان کے کسانوں کی پسندیدہ ترین فصل ہوا کرتی تھی اب اس کے زیر کاشت رقبے میں مسلسل کمی آ رہی ہے۔ 1991 میں کپاس 6.6 ملین ایکڑ پر کاشت کی جاتی تھی جو 2005 میں 7.9 ملین ایکڑ تک پہنچی۔ لیکن 2020 کے اعداد و شمار کے مطابق اب یہ رقبہ سکڑ کر صرف 2 ملین ہیکٹر تک محدود ہو چکا ہے جو ایک تشویشناک رجحان ہے۔
گزشتہ سال بھی پاکستان کپاس کی بوائی کے اہداف حاصل کرنے میں ناکام رہا تھا جس کی ایک بڑی وجہ کسانوں کا دیگر فصلوں کی طرف راغب ہونا ہے۔ جون 2025 تک کے اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ سندھ اور بلوچستان میں بوائی کے اہداف میں 35 فیصد تک کی کمی دیکھی گئی۔ حکومت کی جانب سے کپاس کی بحالی کے متعدد اقدامات کے باوجود نتائج تاحال حوصلہ افزا نہیں ہیں۔
کپاس کی پیداوار کا زوال
ٹیکسٹائل انڈسٹری جو پاکستان کی برآمدات کا ریڑھ کی ہڈی ہے اب مہنگی کپاس کی وجہ سے عالمی مارکیٹ میں مقابلہ کرنے سے قاصر نظر آتی ہے۔ اگر مقامی سطح پر کپاس کی قیمت اسی طرح بڑھتی رہی تو برآمدی آرڈرز پورے کرنا مشکل ہو جائے گا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ بیج کی کوالٹی اور جدید ٹیکنالوجی کے بغیر کپاس کی فصل کو دوبارہ زندگی دینا ناممکن ہے۔
مستقبل میں کپاس کی قیمتوں کا رخ اس بات پر منحصر ہوگا کہ حکومت تجارتی راستوں کی بحالی کے لیے کیا اقدامات کرتی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کے لیے کسانوں کو جدید طریقہ کار سے روشناس کرانا بھی ناگزیر ہو چکا ہے۔ اگر کپاس کی پیداوار میں فوری اضافہ نہ کیا گیا تو پاکستان کو اپنی ٹیکسٹائل صنعت بچانے کے لیے بھاری زرمبادلہ خرچ کر کے درآمدات پر انحصار کرنا پڑے گا۔
موجودہ بحران نے یہ واضح کر دیا ہے کہ پاکستان کی زرعی پالیسیوں میں بڑی تبدیلیوں کی ضرورت ہے۔ صرف قیمتوں میں اضافے سے کسان کو فائدہ تو ہو سکتا ہے لیکن طویل مدت میں پوری صنعت کا پہیہ جام ہونے کا خطرہ موجود رہتا ہے۔ ٹیکسٹائل سیکٹر اور زراعت کے درمیان بہتر ہم آہنگی ہی اس معاشی چیلنج کا واحد حل ثابت ہو سکتی ہے۔