کیا دنیا جنگل کے قانون کی طرف بڑھ رہی ہے؟ چینی صدر کی وارننگ

چینی صدر شی جن پنگ نے خبردار کیا ہے کہ دنیا کو جنگل کے قانون کی طرف واپسی کی اجازت نہیں دی جانی چاہیے کیونکہ مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی عالمی نظم و ضبط کے لیے خطرہ بن رہی ہے۔ بیجنگ میں ابوظہبی کے ولی عہد شیخ خالد بن محمد سے ملاقات کے دوران انہوں نے عالمی قوانین کی بالادستی پر زور دیا۔

این بی سی نیوز کی رپورٹ کے مطابق چینی صدر نے یہ ریمارکس اس وقت دیے جب ایران پر امریکی اور اسرائیلی حملوں کو چھ ہفتے سے زائد کا عرصہ گزر چکا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اقوام متحدہ کے مرکز پر مبنی بین الاقوامی نظام اور عالمی قوانین کی بنیاد پر قائم کردہ تعلقات کو ہر صورت برقرار رکھنا ناگزیر ہے۔

شی جن پنگ نے مشرق وسطیٰ میں استحکام کے لیے چار اہم تجاویز پیش کیں جن میں ریاستوں کے درمیان پرامن بقائے باہمی اور قومی خود مختاری کا احترام شامل ہے۔ ان کے بقول عالمی قوانین کا اطلاق من پسند طریقے سے نہیں ہونا چاہیے بلکہ ان کا احترام سب پر لازم ہونا چاہیے۔

صدر شی نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ترقی اور سلامتی ایک دوسرے کے لیے لازم و ملزوم ہیں اور ان کے لیے مربوط نقطہ نظر اپنانا ہوگا۔ انہوں نے بین الاقوامی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ اصولوں کی بنیاد پر عالمی نظم کو مضبوط کریں تاکہ مستقبل میں بڑے تنازعات سے بچا جا سکے۔

چین کا موقف ہے کہ اگر بین الاقوامی اصولوں کو نظر انداز کیا گیا تو دنیا ایک بار پھر انتشار کا شکار ہو جائے گی۔ اس ملاقات کو خطے میں بیجنگ کے بڑھتے ہوئے سفارتی اثر و رسوخ اور قیام امن کی کوششوں کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

ایک تبصرہ چھوڑ دو