Ai
بدنام زمانہ امریکی ارب پتی جیفری ایپسٹین کے حوالے سے ہونے والی ایک نئی اور سنسنی خیز تحقیقات نے برطانوی دارالحکومت میں کھلبلی مچا دی ہے۔ بی بی سی کی جانب سے جاری کردہ اس رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ لندن میں انسانی اسمگلنگ کا ایک باقاعدہ نیٹ ورک موجود تھا جسے جیفری ایپسٹین خود چلا رہا تھا۔
جنوری میں جاری ہونے والی لاکھوں خفیہ فائلوں کے تجزیے سے معلوم ہوا ہے کہ برطانیہ اس گھناؤنے کاروبار کا ایک اہم مرکز بن چکا تھا۔ اس رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ جیفری ایپسٹین نے لندن کے مہنگے ترین علاقوں میں اپنی مجرمانہ سرگرمیوں کے لیے باقاعدہ اڈے قائم کر رکھے تھے۔
لندن کے پوش علاقوں میں خفیہ ٹھکانوں کا انکشاف
تحقیقات کے دوران لندن کے معروف اور پوش علاقے کینزنگٹن اور چیلسی میں چار مخصوص پتے تلاش کیے گئے ہیں۔ ان رہائشی فلیٹس کو جیفری ایپسٹین ان خواتین کو رکھنے کے لیے استعمال کرتا تھا جنہیں وہ بدترین استحصال کا نشانہ بناتا تھا۔
بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق ان فلیٹس کا کرایہ اور وہاں موجود خواتین کے اخراجات جیفری ایپسٹین کے کریڈٹ کارڈ سے ادا کیے جاتے تھے۔ اس مالیاتی ریکارڈ سے ثابت ہوتا ہے کہ ان ٹھکانوں کا براہ راست تعلق اس کے نیٹ ورک سے تھا جہاں خواتین کو قید رکھا جاتا تھا۔
پولیس کی غفلت اور متاثرین کی فریاد
سال دو ہزار پندرہ میں اس وقت کی ایک اہم متاثرہ خاتون ورجینیا جوفری نے میٹ پولیس میں باضابطہ شکایت درج کروائی تھی۔ انہوں نے پولیس کو بتایا تھا کہ انہیں دو ہزار کی دہائی کے اوائل میں جیفری ایپسٹین کے ذریعے اسمگل کر کے برطانیہ لایا گیا تھا۔
حیران کن طور پر اس سنگین شکایت کے باوجود برطانوی پولیس نے کوئی جامع تحقیقات شروع نہیں کیں۔ ریکارڈ سے پتا چلتا ہے کہ پولیس کی اس خاموشی کے بعد بھی جیفری ایپسٹین دیدہ دلیری کے ساتھ خواتین کو برطانیہ لاتا اور لے جاتا رہا۔
لندن سے پیرس تک اسمگلنگ کا راستہ
خفیہ فائلوں سے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ دو ہزار پندرہ کے بعد بھی جیفری ایپسٹین باقاعدگی سے خواتین کو لندن سے فرانس منتقل کر رہا تھا۔ ان خواتین کو یورو اسٹار ٹرین کے ذریعے پیرس میں واقع اس کے اٹھارہ کمروں کے وسیع گھر میں منتقل کیا جاتا تھا۔
یہ انکشاف اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ بین الاقوامی سرحدوں پر سیکیورٹی کے باوجود یہ نیٹ ورک بغیر کسی خوف کے کام کرتا رہا۔ پولیس کی جانب سے اس معاملے کو نظر انداز کرنا اب ایک بڑے اسکینڈل کی شکل اختیار کر چکا ہے۔
حکومتی عہدیداروں اور ماہرین کا ردعمل
برطانوی پولیس کے سابق سینئر جاسوس اور جدید غلامی کے خلاف کام کرنے والے پہلے آزاد کمشنر کیون ہائی لینڈ نے اس صورتحال پر شدید برہمی کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ انتہائی افسوسناک ہے کہ متاثرین کے سامنے آنے کے باوجود جیفری ایپسٹین کو اپنی سرگرمیاں جاری رکھنے کی اجازت دی گئی۔
کیون ہائی لینڈ کے مطابق یہ نظام کی ایک بہت بڑی ناکامی ہے جس نے مجرم کو تحفظ فراہم کیا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اگر بروقت کارروائی کی جاتی تو کئی مزید خواتین کو اس ظلم سے بچایا جا سکتا تھا۔
عوامی انکوائری اور قانونی مطالبات
انسانی حقوق کی معروف وکیل ٹیسا گریگوری اور کئی متاثرین نے اب برطانیہ میں اس معاملے پر عوامی انکوائری کا مطالبہ کیا ہے۔ ٹیسا گریگوری کا موقف ہے کہ برطانیہ پر یہ قانونی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ انسانی اسمگلنگ کے خلاف فوری اور آزادانہ تحقیقات کرے۔
انہوں نے مزید کہا کہ قانون کے مطابق یہ حکومت کا فرض ہے کہ وہ ایسے جرائم کی چھان بین کرے چاہے متاثرہ فرد خود سامنے آئے یا نہ آئے۔ اس وقت پورے برطانیہ میں انصاف کے حصول کے لیے دباؤ بڑھتا جا رہا ہے۔
میٹ پولیس کا باضابطہ دفاعی موقف
ان سنگین الزامات کے جواب میں میٹ پولیس نے ایک بیان جاری کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ وہ اپنی قانونی ذمہ داریاں پوری کرنے کے حوالے سے پر اعتماد ہیں۔ پولیس کے مطابق انہوں نے اس وقت دستیاب معلومات کی روشنی میں بہترین کام کرنے کی کوشش کی تھی۔
تاہم میٹ پولیس نے یہ تسلیم کیا ہے کہ وہ اب بھی اس بات کا جائزہ لے رہے ہیں کہ آیا برطانوی ہوائی اڈوں کو انسانی اسمگلنگ کے لیے ٹرانزٹ پوائنٹ کے طور پر استعمال کیا گیا یا نہیں۔ اس جائزے کے نتائج کا شدت سے انتظار کیا جا رہا ہے۔
برطانوی معاشرے پر اس اسکینڈل کے اثرات
اس نئی رپورٹ نے برطانیہ کے نظام انصاف اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی ساکھ کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ عوامی سطح پر یہ سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ ایک طاقتور اور امیر شخص کیسے برسوں تک قانون کی گرفت سے بچا رہا۔
یہ انکشافات صرف ایک فرد کا جرم نہیں بلکہ پورے ریاستی ڈھانچے کی کمزوریوں کو ظاہر کرتے ہیں۔ جیفری ایپسٹین کے اس جال نے لندن کے قلب میں جو زخم لگائے ہیں، ان کا مداوا اب صرف شفاف تحقیقات سے ہی ممکن ہے۔
مستقبل کی تحقیقات اور انصاف کی امید
متاثرہ خواتین اب بھی پرامید ہیں کہ ایک دن انہیں مکمل انصاف ملے گا اور ذمہ داروں کا تعین کیا جائے گا۔ بی بی سی کی یہ رپورٹ اس طویل جدوجہد میں ایک اہم سنگ میل ثابت ہو سکتی ہے۔
اب تمام نظریں برطانوی حکومت پر جمی ہیں کہ وہ اس معاملے پر عوامی انکوائری کا حکم دیتی ہے یا نہیں۔ عالمی سطح پر بھی اس کیس کی مانیٹرنگ کی جا رہی ہے تاکہ مستقبل میں ایسے نیٹ ورکس کا جڑ سے خاتمہ کیا جا سکے۔