واشنگٹن میں صحافیوں کے عشائیے میں فائرنگ، صدر ٹرمپ کو بحفاظت نکال لیا گیا

امریکی دارالحکومت واشنگٹن میں وائٹ ہاؤس کے صحافیوں کے اعزاز میں منعقدہ ایک پروقار عشائیے کے دوران اس وقت خوف و ہراس پھیل گیا جب ہال میں فائرنگ کی آوازیں سنی گئیں۔ اس اچانک پیش آنے والے واقعے کے فوراً بعد امریکی سیکرٹ سروس کے اہلکاروں نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو حفاظتی حصار میں لے کر فوری طور پر ہال سے باہر نکال لیا۔

بین الاقوامی خبر رساں ادارے بی بی سی کے مطابق اس واقعے کے دوران سات سے آٹھ گولیاں چلنے کی آوازیں سنی گئیں جس نے پوری تقریب میں کھلبلی مچا دی۔ سیکیورٹی حکام نے تیزی سے کارروائی کرتے ہوئے ہال کو کلیئر کرایا اور صدر کو ایک قریبی محفوظ کمرے میں منتقل کر دیا تاکہ صورتحال کا جائزہ لیا جا سکے۔

سیکیورٹی اہلکاروں کی فوری کارروائی اور صدر کا انخلا

عشائیے میں موجود سیکیورٹی اہلکاروں کا کہنا ہے کہ جیسے ہی فائرنگ کی آواز آئی، صدارتی حفاظتی دستے نے بجلی کی سی تیزی سے صدر ٹرمپ کو گھیرے میں لے لیا۔ واشنگٹن ہلٹن کے بال روم میں موجود سینکڑوں شرکا اس اچانک افتاد سے پریشان ہو گئے اور ہر طرف افراتفری کا منظر دیکھنے میں آیا۔

سیکیورٹی ذرائع نے ابتدائی طور پر بتایا کہ فائرنگ اس مقام کے قریب ہوئی جہاں سے لوگ میٹل ڈیٹیکٹر سے گزر کر ہال میں داخل ہو رہے تھے۔ بی بی سی کے مطابق صدر ٹرمپ نے بعد ازاں سوشل میڈیا پر اپنی خیریت کی اطلاع دی اور بتایا کہ ان کی حفاظت پر مامور ٹیم نے بہترین کام کیا ہے۔

حملہ آور کی گرفتاری اور واقعے کی تفصیلات

مشتبہ حملہ آور کے حوالے سے شروع میں متضاد اطلاعات سامنے آتی رہیں کہ آیا اسے موقع پر ہلاک کیا گیا ہے یا گرفتار کیا گیا ہے۔ تاہم صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خود سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر تصدیق کی کہ حملہ آور کو ’گرفتار‘ کر لیا گیا ہے اور وہ اب قانون نافذ کرنے والے اداروں کی تحویل میں ہے۔

تفتیشی اداروں کے مطابق ایک شخص نے بھاری اسلحے کے ساتھ میٹل ڈیٹیکٹر سے گزرنے کی کوشش کی تھی جس پر سیکیورٹی اہلکاروں نے اسے روکنے کی کوشش کی۔ فاکس نیوز کی رپورٹر جیکی ہینریچ نے انکشاف کیا کہ حملہ آور بظاہر سیکیورٹی حصار توڑنے کی کوشش کر رہا تھا لیکن اسے فوری طور پر قابو کر لیا گیا۔

سیکرٹ سروس اہلکار پر گولی اور صدارتی خاندان کی حفاظت

اس فائرنگ کے نتیجے میں سیکرٹ سروس کا ایک اہلکار بھی زخمی ہوا جسے فوری طبی امداد دی گئی۔ صدر ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ اہلکار کو گولی لگی تھی لیکن بلٹ پروف جیکٹ پہننے کی وجہ سے اس کی جان بچ گئی اور وہ اب خطرے سے باہر ہے۔

صدر نے اس بات کی بھی تصدیق کی کہ خاتون اول میلانیا ٹرمپ، نائب صدر اور کابینہ کے تمام اراکین مکمل طور پر محفوظ ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگرچہ یہ ایک خطرناک صورتحال تھی لیکن تمام اہم شخصیات کو وقت پر وہاں سے نکال لیا گیا تھا جس کی وجہ سے کوئی بڑا جانی نقصان نہیں ہوا۔

ماضی کے واقعات اور ریپبلکن قیادت کو درپیش خطرات

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے صحافیوں سے گفتگو کے دوران اس بات پر زور دیا کہ یہ گزشتہ دو سالوں میں ان پر ہونے والا پہلا حملہ نہیں ہے۔ انہوں نے پینسلوینیا میں ایک سیاسی ریلی کے دوران ہونے والی فائرنگ اور فلوریڈا کے پام بیچ پر گالف کھیلتے وقت پیش آنے والے واقعے کا بھی تذکرہ کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ ریپبلکن ارکان کو مسلسل نشانہ بنانے کی کوششیں کی جا رہی ہیں جو کہ انتہائی تشویشناک ہے۔ صدر نے زیر حراست ملزم کو ’انتہائی بیمار شخص‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ معاشرے میں اس طرح کی پرتشدد کارروائیوں کی کوئی جگہ نہیں ہونی چاہیے۔

واشنگٹن ہلٹن میں سیکیورٹی کے سخت انتظامات

واشنگٹن ہلٹن میں ہونے والی اس تقریب کو شہر کی محفوظ ترین تقریبات میں شمار کیا جاتا ہے جہاں سیکیورٹی کے انتہائی سخت انتظامات ہوتے ہیں۔ بی بی سی کے نامہ نگار ڈینیئل بش کے مطابق شرکا کو ہوائی اڈے جیسی سخت چیکنگ سے گزرنا پڑتا ہے، جس کے بعد اس طرح کا واقعہ پیش آنا حیران کن ہے۔

اس واقعے کے بعد مستقبل میں ایسی بڑی تقریبات کے سیکیورٹی پروٹوکول پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر اتنی سخت سیکیورٹی کے باوجود کوئی مسلح شخص اندر پہنچنے کی کوشش کر سکتا ہے تو سیکیورٹی کے نظام میں موجود خامیوں کو دور کرنا ناگزیر ہو گیا ہے۔

واقعے کے بعد کی صورتحال اور وائٹ ہاؤس میں میڈیا بریفنگ

فائرنگ کے فوراً بعد پورے علاقے کو سیل کر دیا گیا اور ایف بی آئی کے ڈائریکٹر کاش پٹیل کو بھی عمارت سے باہر لے جایا گیا۔ عینی شاہدین کے مطابق صدارتی موٹر کیڈ کو انتہائی تیز رفتاری سے ہوٹل سے روانہ ہوتے دیکھا گیا جس کے بعد ہوٹل کے گرد پولیس کا کڑا پہرہ لگا دیا گیا۔

تقریب میں موجود تمام صحافیوں کو بحفاظت وائٹ ہاؤس کے پریس بریفنگ روم پہنچا دیا گیا جہاں انہوں نے صدر کے خطاب کا انتظار کیا۔ صدر ٹرمپ نے بعد ازاں وہاں پہنچ کر میڈیا کو صورتحال سے آگاہ کیا اور بتایا کہ واشنگٹن ہلٹن اب ایک کرائم سین بن چکا ہے اس لیے وہاں مزید قیام ممکن نہیں تھا۔

تقریب کا دوبارہ انعقاد

صدر ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ اگرچہ خاتون اول اس واقعے سے شدید صدمے میں ہیں، لیکن وہ خوفزدہ ہونے والے نہیں ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ صحافیوں کے لیے یہ عشائیہ اگلے 30 دنوں کے اندر دوبارہ منعقد کیا جائے گا اور اس بار یہ پہلے سے زیادہ شاندار ہوگا۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ حکومت سیکیورٹی کے انتظامات کو مزید بہتر بنائے گی تاکہ آئندہ ایسے کسی ناخوشگوار واقعے کا سدباب کیا جا سکے۔ صدر نے تمام منتظمین اور سیکیورٹی ایجنسیوں کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے اپنی جان خطرے میں ڈال کر صدر اور دیگر شرکا کی حفاظت کو یقینی بنایا۔

ایک تبصرہ چھوڑ دو