واشنگٹن ہلٹن ہوٹل میں فائرنگ کا واقعہ، صدر ریگن پر حملے کی یاد تازہ

امریکی دارالحکومت میں واقع واشنگٹن ہلٹن ہوٹل ایک بار پھر خبروں کی زینت بن گیا ہے جہاں فائرنگ کے ایک حالیہ واقعے نے سکیورٹی کے حوالے سے نئے سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ کنیکٹیکٹ ایونیو پر واقع یہ ہوٹل اپنی پرتعیش خدمات کے بجائے اپنی تاریخ کے ایک سیاہ باب کی وجہ سے دنیا بھر میں جانا جاتا ہے۔

بین الاقوامی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق اس مقام پر پیش آنے والا تازہ واقعہ اس لیے بھی اہمیت اختیار کر گیا ہے کیونکہ یہ وہی ہوٹل ہے جہاں سنہ 1981 میں اس وقت کے صدر رونالڈ ریگن پر قاتلانہ حملہ کیا گیا تھا۔ اس پرانے واقعے کے زخم اب بھی امریکی تاریخ کے سینے پر تازہ ہیں اور آج کی فائرنگ نے ان یادوں کو دوبارہ بیدار کر دیا ہے۔

رونالڈ ریگن پر قاتلانہ حملے کا تاریخی پس منظر

رپورٹس کے مطابق 30 مارچ 1981 کی وہ دوپہر امریکی سیاست کے لیے ایک لرزہ خیز دن ثابت ہوئی تھی۔ اس روز حملہ آور جان ہنکلی جونیئر نے صدر رونالڈ ریگن پر اس وقت فائرنگ کی جب وہ ہوٹل میں خطاب کے بعد اپنی گاڑی کی طرف جا رہے تھے۔

صدر رونالڈ ریگن ہوٹل کے اندر ایک تقریب سے فارغ ہو کر اپنی شاہی لیموزین کی طرف بڑھ رہے تھے کہ اچانک گولیاں چل گئیں۔ اس حملے نے نہ صرف وائٹ ہاؤس کے حکام بلکہ پوری دنیا کو ہلا کر رکھ دیا تھا کیونکہ ایک طاقتور ملک کا سربراہ اس قدر قریب سے نشانے پر تھا۔

شدید چوٹیں اور ہسپتال میں طویل قیام

اگرچہ رونالڈ ریگن اس قاتلانہ حملے میں خوش قسمتی سے زندہ بچ گئے تھے، لیکن انہیں پہنچنے والے زخم نہایت گہرے تھے۔ ایک گولی صدر کی لیموزین کے آہنی پہلو سے ٹکرا کر پلٹی اور براہ راست ان کے جسم میں پیوست ہو گئی۔

اس حملے کے نتیجے میں صدر کی ایک پسلی ٹوٹ گئی اور ان کے ایک پھیپھڑے کو شدید نقصان پہنچا تھا۔ انہیں فوری طور پر قریبی جارج واشنگٹن یونیورسٹی ہسپتال منتقل کیا گیا تھا، جہاں ڈاکٹروں نے ان کی جان بچانے کے لیے سخت جدوجہد کی۔

سکیورٹی عملے اور پریس سیکریٹری کی قربانیاں

اس واقعے میں صرف صدر ہی نشانے پر نہیں تھے بلکہ ان کے قریبی ساتھی بھی اس ہولناکی کا شکار ہوئے۔ اس وقت کے وائٹ ہاؤس پریس سیکریٹری جیمز بریڈی بھی حملہ آور کی گولیوں کا نشانہ بنے اور ان کے سر میں شدید چوٹ آئی۔

جیمز بریڈی اس حملے کے بعد زندگی بھر کے لیے معذوری کا شکار ہو گئے تھے اور ان کی یہ تکلیف دہ حالت سنہ 2014 میں ان کی وفات تک برقرار رہی۔ اس کے علاوہ میٹروپولیٹن پولیس کا ایک مقامی افسر اور ایک سیکرٹ سروس اہلکار بھی فرض کی ادائیگی کے دوران زخمی ہوئے تھے۔

حملہ آور کا انجام اور ذہنی صحت کے مسائل

حملہ آور جان ہنکلی جونیئر کو موقع پر ہی گرفتار کر لیا گیا تھا لیکن اس کا عدالتی فیصلہ کئی سالوں تک بحث کا موضوع بنا رہا۔ اگلے سال عدالت نے اسے ذہنی بیماری کی بنیاد پر مجرم قرار دینے کے بجائے علاج کا حکم دیا۔

اسے واشنگٹن کے مشہور سینٹ الزبتھ ہسپتال کے انتہائی سکیورٹی والے شعبے میں زیر حراست رکھا گیا تھا۔ کئی دہائیوں تک علاج اور قید کے بعد بالآخر اسے سنہ 2016 میں رہا کیا گیا، جس پر عوامی حلقوں میں ملا جلا ردعمل سامنے آیا تھا۔

واشنگٹن ہلٹن ہوٹل کی موجودہ حیثیت اور یادگار

آج بھی واشنگٹن ہلٹن ہوٹل کی دیوار پر ایک یادگاری تختی نصب ہے جو اس تاریخی اور ہولناک فائرنگ کے واقعے کی یاد دلاتی ہے۔ یہ تختی آنے والے سیاحوں اور مقامی لوگوں کو اس دن کی تلخی یاد دلاتی ہے جب ایک صدر کی زندگی خطرے میں پڑ گئی تھی۔

حالیہ فائرنگ کے واقعے نے ہوٹل کی سکیورٹی اور اس کے گرد و نواح کے ماحول کو ایک بار پھر حساس بنا دیا ہے۔ مقامی انتظامیہ اور سکیورٹی ایجنسیاں اس بات کی تحقیقات کر رہی ہیں کہ کیا اس تازہ واقعے کا کسی قسم کا سیاسی یا تاریخی محرک موجود ہے یا یہ ایک انفرادی فعل تھا۔

تاریخی اسباق اور سکیورٹی کے نئے تقاضے

واشنگٹن ہلٹن ہوٹل کا نام اب ہمیشہ کے لیے رونالڈ ریگن کے نام کے ساتھ جڑ چکا ہے۔ امریکی تاریخ دانوں کا کہنا ہے کہ 1981 کے حملے نے وائٹ ہاؤس کی سکیورٹی کی حکمت عملی کو مکمل طور پر تبدیل کر کے رکھ دیا تھا اور سکیورٹی کے نئے پروٹوکول متعارف کرائے گئے تھے۔

اب جبکہ کنیکٹیکٹ ایونیو پر دوبارہ گولیاں گونجی ہیں، تو اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ اہم عوامی مقامات پر اب بھی خطرات موجود ہیں۔ بین الاقوامی ذرائع ابلاغ اس حوالے سے مسلسل اپ ڈیٹس فراہم کر رہے ہیں تاکہ عوام کو صورتحال سے آگاہ رکھا جا سکے۔

اس واقعے نے ایک بار پھر اس بحث کو چھیڑ دیا ہے کہ عوامی مقامات پر اہم شخصیات کی آمد و رفت کے دوران کس قسم کے غیر معمولی حفاظتی انتظامات ہونے چاہئیں۔ ماضی کے تلخ تجربات آج بھی پالیسی سازوں کے لیے ایک مشعل راہ بنے ہوئے ہیں۔

ایک تبصرہ چھوڑ دو