Screen Grab
نیویارک میں منعقدہ ایک خصوصی نشست کے دوران معروف صحافی مہدی حسن نے مشرق وسطیٰ کی تیزی سے بدلتی ہوئی صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ اس مباحثے میں انسانی حقوق کی وکیل نورہ اراکت اور ایرانی نژاد امریکی محقق نرجس باجغلی نے شرکت کی۔
زیٹیو کے پلیٹ فارم پر نشر ہونے والے اس پروگرام میں ماہرین نے واضح کیا کہ خطے میں جاری کشیدگی صرف مقامی تنازع نہیں بلکہ ایک گہرا عالمی مسئلہ ہے۔ مہدی حسن نے زور دیا کہ اس وقت عام لوگوں کی بجائے حقیقی ماہرین کی رائے سننا وقت کی اہم ضرورت بن چکا ہے۔
خود مختاری کا واہمہ اور مستقل جنگی صورتحال
انسانی حقوق کی ماہر نورہ اراکت نے گفتگو کرتے ہوئے مشرق وسطیٰ میں جنگ بندی کی کوششوں کو ایک واہمہ قرار دیا۔ ان کے مطابق اسرائیل کے قیام اور اس کی توسیع پسندی نے پڑوسی ممالک کی خود مختاری کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ فلسطینی اور لبنانی عوام کو ان کے دفاع کے بنیادی حق سے مسلسل محروم رکھا جا رہا ہے۔ نورہ اراکت نے دلیل دی کہ علاقائی سلامتی صرف اسی صورت ممکن ہے جب تمام اقوام کو برابر کی خود مختاری حاصل ہو۔
بین الاقوامی قوانین کی ناکامی اور مغربی بالادستی
زیٹیو کے پینل کے دوران بین الاقوامی اداروں بالخصوص اقوام متحدہ کے کردار پر سخت تنقید کی گئی۔ نورہ اراکت کا کہنا تھا کہ عالمی ادارے اب بین الاقوامی قوانین نافذ کرنے میں مکمل طور پر ناکام ہو چکے ہیں۔
انہوں نے حالیہ امریکی اور اسرائیلی حملوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ان جارحانہ اقدامات کی کوئی مذمت نہیں کی گئی۔ ان کے بقول موجودہ نظام کو ایک مخصوص قواعد پر مبنی نظام سے بدل دیا گیا ہے جو صرف مغربی طاقتوں کے مفادات کا تحفظ کرتا ہے۔
مشرق وسطیٰ بطور جنگی تجربہ گاہ
محقق نرجس باجغلی نے ایک انتہائی اہم نکتے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ انقلاب ایران کے بعد سے خطے کو جنگی تجربہ گاہ بنا دیا گیا ہے۔ یہاں جدید جنگی ہتھیاروں اور نگرانی کی ٹیکنالوجی کے تجربات کیے جاتے ہیں۔
ان تجربات کے بعد ان طریقوں کو دنیا بھر میں برآمد کیا جاتا ہے جو انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کا باعث بنتے ہیں۔ نرجس باجغلی نے دعویٰ کیا کہ امریکہ کا خارجہ پالیسی کا ڈھانچہ مستقل طور پر جنگوں کا عادی ہو چکا ہے۔
ایران کی غیر روایتی جنگی حکمت عملی
ایران کی دفاعی حکمت عملی پر بات کرتے ہوئے نرجس باجغلی نے بتایا کہ تہران نے دہائیوں سے طویل مدتی تنازع کی تیاری کر رکھی ہے۔ ایران عراق جنگ کے تجربات نے انہیں غیر روایتی جنگ کے فن میں ماہر بنا دیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ایران جانتا ہے کہ وہ روایتی اسلحہ میں امریکہ کا مقابلہ نہیں کر سکتا اس لیے اس نے علاقائی اتحاد بنائے ہیں۔ یہ اتحاد کسی بھی بڑی فوجی کارروائی کے خلاف ایک مضبوط ڈھال کے طور پر کام کرتے ہیں۔
کیا یہ ویتنام سے بڑی شکست ثابت ہوگی؟
مہدی حسن نے سوال اٹھایا کہ کیا امریکہ کو مشرق وسطیٰ میں ویتنام سے بھی بڑی شکست کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ اس کے جواب میں ماہرین نے کہا کہ موجودہ صورتحال امریکی سلطنت کی بنیادوں کے لیے خطرہ بن چکی ہے۔
نرجس باجغلی نے وضاحت کی کہ ایران کا بحیرہ عرب اور آبنائے ہرمز پر اثر و رسوخ عالمی تجارت کو متاثر کر سکتا ہے۔ اگر یہ تجارتی راستے بند ہوئے تو پیٹرو ڈالر کی حیثیت اور مغربی معاشی بالادستی کو ناقابل تلافی نقصان پہنچے گا۔
پروپیگنڈا اور میڈیا کے بیانیے کا خاتمہ
مباحثے میں ایرانی تارکین وطن کے درمیان پائے جانے والے اختلافات پر بھی روشنی ڈالی گئی۔ نرجس باجغلی کے مطابق مغربی فنڈڈ پروپیگنڈا مہمات نے کمیونٹی کو تقسیم کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے تاکہ غیر ملکی مداخلت کا جواز پیدا کیا جا سکے۔
تاہم غزہ کی صورتحال نے روایتی میڈیا کے بیانیے کو بری طرح شکست دی ہے۔ نرجس باجغلی نے کہا کہ نوجوان نسل اب متبادل ذرائع ابلاغ کی طرف دیکھ رہی ہے جس سے طاقتور حلقوں کا بیانیہ کنٹرول ختم ہو رہا ہے۔
عالمی نظام کی تبدیلی اور عوامی ذمہ داری
پینل کے اختتام پر مہدی حسن نے شرکاء اور سامعین کو ان کی ذمہ داریوں کا احساس دلایا۔ انہوں نے کہا کہ مایوسی کا احساس پیدا کرنا فاشسٹ نظاموں کا ایک حربہ ہے جس سے بچنا ضروری ہے۔
انہوں نے زور دیا کہ لوگوں کو اپنے کام کی جگہوں اور برادریوں میں جمود کو توڑنے کے لیے متحرک ہونا چاہیے۔ ماہرین نے اتفاق کیا کہ دوسری جنگ عظیم کے بعد بننے والا عالمی نظام اب دم توڑ چکا ہے اور اب ایک نئی ترتیب کا وقت قریب ہے۔