ایبٹ آباد آپریشن کے پندرہ سال، اسامہ بن لادن کی ہلاکت کے تمام خفیہ حقائق

پاکستان کے شہر ایبٹ آباد میں ہونے والے اس تاریخی آپریشن کو پندرہ برس بیت چکے ہیں جس نے دنیا کے سب سے مطلوب شخص اسامہ بن لادن کا خاتمہ کیا تھا۔ سی آئی اے کی جاری کردہ ایک رپورٹ کے مطابق یہ مشن برسوں کی محنت، جدید ترین انٹیلی جنس تجزیوں اور انتہائی پیچیدہ نگرانی کا نتیجہ تھا۔

اس مشن کی کامیابی کے پیچھے انٹیلی جنس کمیونٹی کے وہ تمام ادارے تھے جنہوں نے نائن الیون کے فوراً بعد سے کام شروع کر دیا تھا۔ امریکی حکام کا دعویٰ ہے کہ اسامہ بن لادن کی تلاش کا عمل محض ایک دن کی کوشش نہیں تھی بلکہ یہ ایک دہائی پر محیط صبر آزما جدوجہد تھی۔

ایک گمنام قاصد اور خفیہ ٹھکانے کی تلاش

رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ اسامہ بن لادن تک پہنچنے کا سراغ ایک قاصد کے ذریعے ملا جسے صرف اس کے فرضی نام سے جانا جاتا تھا۔ برسوں کی تگ و دو کے بعد انٹیلی جنس ایجنسیوں نے اس فرضی نام کو ایک حقیقی شناخت میں تبدیل کرنے میں کامیابی حاصل کی۔

سنہ دو ہزار دس کے اواخر میں انٹیلی جنس اداروں کو اطلاع ملی کہ یہ قاصد خیبر پختونخوا کے شہر ایبٹ آباد میں ایک بڑی رہائش گاہ میں مقیم ہے۔ یہ مقام اسلام آباد سے تقریباً پینتیس میل دور شمال میں واقع تھا اور اپنی ساخت کے لحاظ سے انتہائی غیر معمولی تھا۔

ایبٹ آباد کمپاؤنڈ کی پراسرار ساخت

اس رہائش گاہ کی دیواریں غیر معمولی طور پر بلند تھیں جن کے اوپر خاردار تاریں لگائی گئی تھیں۔ گھر کے اندر داخل ہونے کے لیے دوہرے آہنی گیٹ نصب تھے اور کھڑکیوں کو بھی اس طرح بنایا گیا تھا کہ باہر سے کچھ نظر نہ آ سکے۔

حیران کن طور پر اس بڑی عمارت میں انٹرنیٹ یا ٹیلی فون کی کوئی سہولت موجود نہیں تھی اور وہاں کا کچرا بھی باہر پھینکنے کے بجائے اندر ہی جلایا جاتا تھا۔ ان حقائق نے سی آئی اے کے اس شبہ کو یقین میں بدل دیا کہ یہاں کوئی انتہائی اہم شخصیت روپوش ہے۔

آپریشن نیپچون سپیئر کی تیاری اور منظوری

اس مشن کے لیے امریکی صدر بارک اوباما نے انتیس اپریل کو باقاعدہ منظوری دی تھی۔ اس سے قبل امریکی اسپیشل فورسز نے ایبٹ آباد کمپاؤنڈ کی ایک مکمل نقل تیار کر کے اس پر سخت مشقیں کی تھیں تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹا جا سکے۔

اس آپریشن کا بنیادی مقصد کسی بھی قسم کے عام شہریوں کے جانی نقصان کو کم کرنا اور اسامہ بن لادن کی موجودگی کی تصدیق کرنا تھا۔ دو مئی دو ہزار گیارہ کی رات جب ایبٹ آباد کے شہری گہری نیند سو رہے تھے، دو امریکی ہیلی کاپٹر وہاں پہنچے۔

وہ نو منٹ جنہوں نے دنیا بدل دی

آپریشن کے آغاز میں ہی ایک امریکی ہیلی کاپٹر تکنیکی خرابی کے باعث گر کر تباہ ہو گیا، تاہم فورسز نے مشن جاری رکھا۔ اسامہ بن لادن عمارت کی تیسری منزل پر پائے گئے اور محض نو منٹ کے اندر انہیں ہلاک کر دیا گیا۔

اس دوران وائٹ ہاؤس کے سچویشن روم میں صدر اوباما اور ان کی ٹیم لمحہ بہ لمحہ صورتحال کی نگرانی کر رہی تھی۔ القاعدہ کے سربراہ کی ہلاکت کی تصدیق کے بعد ان کی لاش کو ایک بیگ میں ڈال کر نچلی منزل پر منتقل کیا گیا اور وہاں سے ہیلی کاپٹر کے ذریعے افغانستان روانہ کر دیا گیا۔

خفیہ دستاویزات اور اسامہ بن لادن کے آخری خطوط

آپریشن کے دوران امریکی فورسز نے عمارت سے بڑی تعداد میں کمپیوٹرز، ہارڈ ڈرائیوز اور دیگر دستاویزات قبضے میں لیں۔ ان دستاویزات سے معلوم ہوا کہ اسامہ بن لادن روپوشی کے باوجود اپنی تنظیم کے آپریشنل معاملات میں مکمل طور پر سرگرم تھے۔

انکشاف ہوا ہے کہ اسامہ بن لادن ایبٹ آباد کے اس ٹھکانے سے کہیں اور منتقل ہونے کی منصوبہ بندی کر رہے تھے۔ چودہ جنوری دو ہزار گیارہ کو لکھے گئے ایک خط میں انہوں نے ان بھائیوں کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے انہیں آٹھ سال تک پناہ دی تھی، لیکن ساتھ ہی ان کے درمیان تلخ کلامی کا بھی ذکر تھا۔

محاصرے سے تنگ پناہ دینے والے بھائی

رپورٹ کے مطابق اسامہ بن لادن کی حفاظت پر مامور بھائیوں پر دباؤ اس قدر بڑھ چکا تھا کہ وہ اب مزید اس ذمہ داری کو نبھانے سے قاصر تھے۔ فروری دو ہزار گیارہ کے ایک خط میں القاعدہ سربراہ نے تسلیم کیا کہ ان کے میزبان اب تھک چکے ہیں اور علیحدگی چاہتے ہیں۔

ان کی منتقلی کے لیے ستمبر دو ہزار گیارہ کی تاریخ طے کی گئی تھی، لیکن اس سے پہلے ہی مئی میں امریکی کارروائی نے ان کے تمام منصوبے خاک میں ملا دیے۔ اگر یہ آپریشن کچھ ماہ کی تاخیر کا شکار ہوتا تو شاید تاریخ کا یہ باب مختلف انداز میں لکھا جاتا۔

آپریشن کے عالمی اثرات اور القاعدہ کا مستقبل

اسامہ بن لادن کی ہلاکت کو القاعدہ کے لیے ایک بڑا دھچکا قرار دیا گیا کیونکہ وہ تنظیم کے واحد امیر اور فنڈز جمع کرنے والی مرکزی شخصیت تھے۔ ان کی موت کے بعد تنظیم اپنی سابقہ قوت بحال کرنے میں ناکام رہی اور اس کے اثر و رسوخ میں واضح کمی دیکھی گئی۔

آج پندرہ سال گزرنے کے بعد بھی ایبٹ آباد آپریشن کو جدید دور کی انٹیلی جنس اور فوجی تاریخ کا ایک اہم ترین واقعہ سمجھا جاتا ہے۔ اس مشن نے نہ صرف عالمی سیاست پر گہرے اثرات مرتب کیے بلکہ انسداد دہشت گردی کی جنگ کے ایک طویل باب کا خاتمہ بھی کیا۔

 

اکثر پوچھے گئے سوالات

Q: ایبٹ آباد آپریشن کا کوڈ نام کیا تھا؟

A: اسامہ بن لادن کے خلاف ہونے والے اس خفیہ امریکی مشن کا کوڈ نام ‘آپریشن نیپچون سپیئر’ تھا۔

Q: اسامہ بن لادن کی لاش کے ساتھ کیا کیا گیا؟

A: امریکی حکام کے مطابق اسامہ بن لادن کی لاش کو بحیرہ عرب میں طیارہ بردار جہاز یو ایس ایس کارل ونسن سے سمندر برد کر دیا گیا تھا۔

Q: کیا اسامہ بن لادن ایبٹ آباد سے کہیں اور منتقل ہونے والے تھے؟

A: جی ہاں، قبضے میں لی گئی دستاویزات سے معلوم ہوا کہ وہ ستمبر 2011 میں اس ٹھکانے کو چھوڑ کر کسی دوسری جگہ منتقل ہونے کی منصوبہ بندی کر چکے تھے۔

ایک تبصرہ چھوڑ دو