سولر صارفین کے لیے بڑی خوشخبری، کیا اب فیس اور لائسنس ختم ہو گا؟

وفاقی حکومت کے پاور ڈویژن نے چھوٹے صارفین کے لیے ایک بڑے ریلیف کا منصوبہ تیار کیا ہے۔ اس سلسلے میں نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی کو باضابطہ طور پر ایک درخواست ارسال کی گئی ہے۔

اس درخواست کا بنیادی مقصد پچیس کلوواٹ تک کے سولر صارفین کے لیے لائسنس اور اس کی فیس کی شرط کو مکمل طور پر ختم کرنا ہے۔ بی بی سی کے صحافی تنویر ملک کی رپورٹ کے مطابق، یہ اقدام حکومت کی صاف توانائی کی پالیسی کا حصہ ہے۔

وفاقی وزیر توانائی اویس لغاری نے اس حوالے سے خصوصی ہدایات جاری کی تھیں۔ ان کی ہدایت پر نیپرا کو مطلع کیا گیا ہے کہ چھوٹے صارفین پر اضافی مالی بوجھ نہ ڈالا جائے۔

وفاقی وزیر توانائی کا وژن اور عوامی ریلیف

وفاقی وزیر توانائی اویس لغاری نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے ایک حالیہ بیان میں حکومت کے اس موقف کی وضاحت کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کی حکومت سولر توانائی اور صارفین کے حقوق کے تحفظ کے لیے مکمل طور پر پُرعزم ہے۔

وزیر توانائی کے مطابق، حکومت کا مقصد نظام میں موجود غیر ضروری رکاوٹوں کو ختم کرنا ہے۔ اس سے نہ صرف اخراجات میں کمی آئے گی بلکہ عام عوام کو براہِ راست ریلیف بھی ملے گا۔

حکومت چاہتی ہے کہ پاکستان میں ماحول دوست توانائی کا استعمال بڑھے۔ اسی لیے چھوٹے پیمانے پر بجلی پیدا کرنے والے شہریوں کو پیچیدہ ریگولیٹری مراحل سے بچانا ضروری سمجھا گیا ہے۔

سابقہ اور موجودہ ضوابط کا تقابلی جائزہ

سن دو ہزار پندرہ کے ضوابط کے تحت، پچیس کلوواٹ یا اس سے کم صلاحیت کے حامل نظام کے لیے نیپرا سے لائسنس لینا ضروری نہیں تھا۔ اس وقت تمام درخواستیں مقامی بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں یعنی ڈسکوز کے ذریعے نمٹائی جاتی تھیں۔

اس طریقہ کار میں صارفین سے کوئی درخواست فیس بھی وصول نہیں کی جاتی تھی۔ تاہم حالیہ برسوں میں نئے پروزیومر ریگولیشنز کے نفاذ کے بعد اختیارات نیپرا کو منتقل کر دیے گئے تھے۔

اس تبدیلی کی وجہ سے چھوٹے سولر تنصیبات پر بھی فیس عائد ہو گئی تھی۔ اب پاور ڈویژن نے دوبارہ پرانے نظام کی بحالی کی وکالت کی ہے تاکہ عمل کو سادہ بنایا جا سکے۔

اسٹیک ہولڈرز کے تحفظات اور پی پی آئی بی کا کردار

پرائیویٹ پاور اینڈ انفراسٹرکچر بورڈ نے بھی اس ریگولیٹری تبدیلی پر اپنے تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ ادارے نے نیپرا سے درخواست کی ہے کہ سابقہ طریقہ کار کو برقرار رکھا جائے تاکہ صارفین کی حوصلہ شکنی نہ ہو۔

عوامی سماعتوں کے دوران پاکستان سولر ایسوسی ایشن نے بھی ان تبدیلیوں پر سخت اعتراضات اٹھائے تھے۔ ان کا موقف تھا کہ فیس اور لائسنس کی شرط سے سولر مارکیٹ پر منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔

ان تمام اعتراضات اور عوامی دباؤ کے بعد حکومت نے اب یہ فیصلہ کیا ہے۔ اس اقدام سے گھریلو صارفین کو لائسنس کی طویل اور تھکا دینے والی کارروائی سے نجات ملنے کی امید ہے۔

صاف توانائی کے فروغ میں حائل رکاوٹیں

پاکستان میں بجلی کے بڑھتے ہوئے نرخوں کی وجہ سے لوگ تیزی سے سولر توانائی کی طرف منتقل ہو رہے ہیں۔ تاہم پیچیدہ قوانین اور فیسوں کا بوجھ اس منتقلی کی راہ میں بڑی رکاوٹ سمجھا جاتا رہا ہے۔

حکومت کا ماننا ہے کہ اگر پچیس کلوواٹ تک کے صارفین کو چھوٹ دی جاتی ہے تو اس سے گرڈ پر بوجھ کم ہوگا۔ یہ اقدام ملکی معیشت کے لیے بھی طویل مدتی فوائد کا حامل ثابت ہو سکتا ہے۔

وفاقی حکومت اس وقت توانائی کے شعبے میں اصلاحات پر کام کر رہی ہے۔ چھوٹے صارفین کے لیے لائسنس کی معافی اسی اصلاحاتی ایجنڈے کا ایک اہم ستون قرار دی جا رہی ہے۔

مستقبل کے اثرات اور عوامی توقعات

اگر نیپرا وفاقی حکومت کی اس درخواست کو منظور کر لیتا ہے، تو اس سے لاکھوں صارفین مستفید ہوں گے۔ ڈسکوز کو دوبارہ یہ اختیار مل جائے گا کہ وہ نچلی سطح پر معاملات کو حل کریں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اس فیصلے سے پاکستان میں گرین انرجی کے کلچر کو مزید تقویت ملے گی۔ عوام اب بڑی بے صبری سے نیپرا کے حتمی فیصلے کا انتظار کر رہے ہیں۔

وفاقی حکومت نے واضح کر دیا ہے کہ وہ بجلی کے شعبے میں شفافیت لانا چاہتی ہے۔ پاور ڈویژن کی یہ کوشش اس بات کا ثبوت ہے کہ حکومت عوامی شکایات کا ازالہ کرنے کے لیے سنجیدہ ہے۔

توانائی کے بحران کا پائیدار حل

پاکستان کے توانائی کے بحران کو حل کرنے کے لیے مقامی سطح پر بجلی کی پیداوار ناگزیر ہے۔ پچیس کلوواٹ کے سولر سسٹم گھروں اور چھوٹی دکانوں کے لیے کافی سمجھے جاتے ہیں۔

ان پر سے فیس کا خاتمہ شہریوں کو خود کفیل بنانے کی جانب ایک بڑا قدم ہے۔ حکومت کی جانب سے اس طرح کے اقدامات سے گردشی قرضوں میں کمی لانے میں بھی مدد مل سکتی ہے۔

حتمی طور پر، یہ پالیسی نہ صرف مالی ریلیف دے گی بلکہ انتظامی ڈھانچے کو بھی بہتر بنائے گی۔ عوام کو امید ہے کہ اب لائسنسنگ کا عمل ماضی کی طرح سادہ اور مفت ہو جائے گا۔

ایک تبصرہ چھوڑ دو