ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی اہم مذاکرات کے لیے روس پہنچ گئے

ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی پیر کی صبح ایک اہم سفارتی مشن پر روس کے شمال مغربی شہر سینٹ پیٹرزبرگ پہنچ گئے ہیں۔ ایرانی سرکاری خبر رساں ادارے ارنا کے مطابق روسی حکام اور ایران کے سفیر کاظم جلالی نے ان کا ہوائی اڈے پر استقبال کیا۔

اس دورے کو خطے کی موجودہ صورتحال کے تناظر میں انتہائی اہمیت کا حامل قرار دیا جا رہا ہے۔ تہران اور ماسکو کے درمیان اس اعلیٰ سطح کے رابطے سے مستقبل کی حکمتِ عملی واضح ہونے کی توقع ہے۔

پرواز میناب 168 کی علامتی اہمیت اور پیغام

ایرانی ذرائع ابلاغ کے مطابق وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے اس اہم دورے کے لیے پرواز میناب 168 کا انتخاب کیا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اسی جہاز کے ذریعے انہوں نے حال ہی میں پاکستان کا بھی دورہ کیا تھا۔

اس مخصوص پرواز کا نام ایران کے صوبہ ہرمزگان کے ایک سکول سے منسوب ہے جہاں مبینہ طور پر غیر ملکی حملوں میں معصوم بچے جاں بحق ہوئے تھے۔ تہران اس نام کے ذریعے عالمی برادری کو ایک مخصوص پیغام پہنچانا چاہتا ہے۔

سفارتی مشن اور علاقائی صورتحال پر مشاورت

وزیرِ خارجہ کے اس دورے کا بنیادی مقصد روسی صدر ولادیمیر پوتن سے ملاقات اور اہم امور پر گفتگو کرنا ہے۔ ایرانی میڈیا کا کہنا ہے کہ دونوں رہنماؤں کے درمیان ملاقات میں خطے کی مجموعی صورتحال اور دفاعی تعاون پر بات ہوگی۔

روس روانگی سے قبل عباس عراقچی نے عمان کا دورہ کیا اور پھر مختصر قیام کے لیے دوبارہ پاکستان پہنچے تھے۔ گزشتہ تین دنوں میں ان کا اسلام آباد کا یہ دوسرا دورہ تھا جہاں انہوں نے اعلیٰ حکام سے مشاورت کی۔

تہران اور ماسکو کے بڑھتے ہوئے تعلقات

موجودہ حالات میں ایران اور روس کے درمیان بڑھتا ہوا تعاون عالمی طاقتوں کی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ عباس عراقچی کا یہ دورہ دونوں ممالک کے درمیان اسٹریٹجک شراکت داری کو مزید ٹھوس شکل دے گا۔

تہران کے حکام کا ماننا ہے کہ علاقائی مسائل کا حل پڑوسی اور دوست ممالک کے تعاون سے ہی ممکن ہے۔ اسی مقصد کے لیے ایران کی سفارتی مشینری اس وقت بھرپور طریقے سے متحرک نظر آ رہی ہے۔

ایک تبصرہ چھوڑ دو