کیا اقرار الحسن اور جواد احمد کے درمیان سیاسی اتحاد ہونے جا رہا ہے؟

لاہور کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر حال ہی میں ایک ایسا واقعہ پیش آیا جس نے سوشل میڈیا اور سیاسی حلقوں میں ایک نئی بحث کو جنم دے دیا ہے۔ اس واقعے میں معروف صحافتی اور سیاسی شخصیت اقرار الحسن اور وفاقی تحقیقاتی ادارے یعنی ایف آئی اے کے ایک افسر کے درمیان شدید تلخ کلامی ہوئی۔

نجی ٹی وی چینل اے بی این نیوز کے پروگرام تجزیہ میں میزبان عمر دراز گوندل سے گفتگو کرتے ہوئے اقرار الحسن نے اس واقعے کی تمام تفصیلات بیان کیں۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ ایئرپورٹ پر تعینات ایک وردی پوش افسر نے ان کے ساتھ نازیبا زبان استعمال کی اور انہیں دھمکایا۔

واقعے کا پس منظر اور تلخ کلامی کی وجوہات

اقرار الحسن کے مطابق یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب وہ اپنے اہل خانہ کے ہمراہ امیگریشن کاؤنٹر پر موجود تھے۔ وہاں تعینات ایک افسر نے انہیں دیکھتے ہی طنزیہ انداز میں کہا کہ ان کا انجام بھی جواد احمد جیسا ہی ہوگا جو کہ ایک معروف گلوکار اور سیاسی رہنما ہیں۔

اس گفتگو کے دوران افسر کا لہجہ انتہائی تحقیر آمیز تھا جس پر اقرار الحسن نے احتجاج کیا۔ انہوں نے موقف اختیار کیا کہ ایک سرکاری افسر کو ڈیوٹی کے دوران کسی بھی شہری کے ساتھ سیاسی گفتگو کرنے یا اسے تذلیل کا نشانہ بنانے کا کوئی حق حاصل نہیں ہے۔

جواد احمد سے موازنہ اور اقرار الحسن کا موقف

پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے اقرار الحسن نے واضح کیا کہ وہ جواد احمد کی شخصیت اور ان کی سیاسی جدوجہد کا بے حد احترام کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ جواد احمد کو کئی موجودہ بڑے سیاستدانوں سے کہیں زیادہ بہتر اور بااصول انسان تسلیم کرتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ان کا غصہ جواد احمد کے نام پر نہیں بلکہ اس لہجے پر تھا جس میں افسر نے یہ نام استعمال کیا۔ افسر نے یہ تاثر دینے کی کوشش کی کہ اقرار الحسن کو بھی سیاسی میدان میں اسی طرح ‘ذلیل’ کیا جائے گا جیسے ان کے بقول جواد احمد کو کیا گیا۔

ایف آئی اے افسر کی سیاسی جانبداری کے الزامات

اقرار الحسن نے الزام عائد کیا کہ متعلقہ افسر نے دوران بحث اعتراف کیا کہ وہ پاکستان تحریک انصاف کا حامی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایئرپورٹ جیسے حساس مقام پر تعینات سرکاری ملازم کا کھلے عام سیاسی وابستگی کا اظہار کرنا انتہائی تشویشناک عمل ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ عوامی شخصیات کو اکثر سوشل میڈیا پر تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے لیکن کسی سرکاری افسر کا سامنے آ کر خاندان کی موجودگی میں بدتمیزی کرنا ناقابل برداشت ہے۔ انہوں نے اس رویے کو سرکاری اختیارات کا ناجائز استعمال قرار دیا۔

جواد احمد کا ردعمل اور اسٹیبلشمنٹ پر تنقید

پروگرام میں برابری پارٹی پاکستان کے چیئرمین جواد احمد نے بھی شرکت کی اور اس صورتحال پر اپنا تجزیہ پیش کیا۔ جواد احمد کا خیال ہے کہ جب بھی شوبز یا صحافت سے تعلق رکھنے والے افراد سیاست میں آتے ہیں تو روایتی سیاسی جماعتیں اور اسٹیبلشمنٹ خطرہ محسوس کرتی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ نئے سیاسی شعور کو دبانے کے لیے اکثر اوقات سرکاری اداروں کے افراد کو استعمال کیا جاتا ہے۔ جواد احمد کے مطابق یہ سب ایک منظم منصوبے کے تحت کیا جاتا ہے تاکہ پڑھے لکھے افراد کو سیاست سے دور رکھا جا سکے۔

سوشل میڈیا اور سیاسی ٹرولنگ کا کردار

گفتگو کے دوران پاکستان تحریک انصاف کے سوشل میڈیا ونگ کو بھی کڑی تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔ جواد احمد نے الزام لگایا کہ مخصوص سیاسی جماعتوں نے اپنی حکومت کے دوران سرکاری وسائل استعمال کر کے ایک ایسی ‘ٹرول آرمی’ تیار کی جس کا کام صرف مخالفین کی کردار کشی کرنا ہے۔

انہوں نے اس ضمن میں اظہر مشوانی، ارسلان خالد اور شہباز گل جیسے ناموں کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ ان افراد نے سیاست میں بدتمیزی اور گالی گلوچ کے کلچر کو فروغ دیا۔ ان کے بقول اس ماحول کی وجہ سے اب سرکاری افسران بھی نجی محفلوں کے بجائے ڈیوٹی پر بدتمیزی کرنے لگے ہیں۔

ملکی سیاسی اشرافیہ اور عوامی مسائل

جواد احمد نے اپنے اشتراکی نظریات پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی تینوں بڑی جماعتیں یعنی ن لیگ، پی پی پی اور پی ٹی آئی صرف مراعات یافتہ طبقے کی نمائندگی کرتی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ تمام ارب پتی لیڈر عوام کو صرف آپس میں لڑانے کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ جب تک ملک میں غریب اور متوسط طبقے کی حقیقی قیادت سامنے نہیں آئے گی، تب تک اسی طرح کی بدتہذیبی جاری رہے گی۔ ان کے مطابق ملک کے اصل مسائل بھوک اور غربت ہیں جن پر کوئی بھی بڑی سیاسی جماعت بات کرنے کو تیار نہیں ہے۔

صدارتی مباحثے کی تجویز اور سیاسی مقابلہ

جواد احمد نے موجودہ سیاسی قیادت کو چیلنج دیتے ہوئے کہا کہ عمران خان، نواز شریف اور بلاول بھٹو کو چاہیے کہ وہ سوشل میڈیا کے پیچھے چھپنے کے بجائے عوام کے سامنے آئیں۔ انہوں نے امریکی طرز کے صدارتی مباحثے کی تجویز دی جہاں تمام رہنما اپنے منشور پر براہ راست بحث کریں۔

ان کا کہنا تھا کہ اس طرح کے مباحثے سے عوام کو پتہ چلے گا کہ کس کے پاس ملکی مسائل کا حقیقی حل موجود ہے۔ جواد احمد کے مطابق موجودہ لیڈران صرف نعروں کی سیاست کرتے ہیں اور کسی بھی ٹھوس نظریاتی بحث سے کتراتے ہیں۔

اقرار الحسن اور جواد احمد کے درمیان ممکنہ اتحاد

پروگرام کے میزبان نے جب دونوں شخصیات سے مستقبل میں کسی سیاسی اتحاد کے بارے میں سوال کیا تو اقرار الحسن نے محتاط جواب دیا۔ انہوں نے بتایا کہ ان کی تحریک، عوامی راج تحریک، ابھی تنظیمی مراحل سے گزر رہی ہے اور وہ اسے مکمل جمہوری انداز میں تشکیل دینا چاہتے ہیں۔

اقرار الحسن کا کہنا تھا کہ قیادت کا فیصلہ تنظیم کے اندر سے ہوگا جس میں کم از کم ایک سے دو سال کا وقت لگ سکتا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ کسی بھی سیاسی جماعت کے ساتھ اتحاد کا فیصلہ ان کی تنظیم کے منتخب ارکان ہی کریں گے، وہ اکیلے کوئی فیصلہ نہیں تھوپیں گے۔

انقلابی جماعتوں کے لیے نظریاتی سمت کی ضرورت

بحث کے اختتام پر جواد احمد نے اقرار الحسن کو مشورہ دیا کہ صرف جمہوری ڈھانچہ کسی بھی انقلابی تحریک کے لیے کافی نہیں ہوتا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر کسی تحریک کے پاس واضح نظریہ، جیسے کہ سوشلزم، نہ ہو تو اسے آسانی سے ہائی جیک کیا جا سکتا ہے۔

انہوں نے زور دیا کہ غریب اور متوسط طبقے کو متحد کرنے کے لیے ایک مضبوط نظریاتی بنیاد ضروری ہے۔ جواد احمد کے مطابق جب تک عوام کو یہ سمجھ نہیں آئے گی کہ ان کے حقوق کس نظام میں محفوظ ہیں، تب تک وہ انہی روایتی شکاریوں کے چنگل میں پھنسے رہیں گے۔

ایئرپورٹ واقعے کے دور رس اثرات

لاہور ایئرپورٹ کا یہ واقعہ محض دو افراد کے درمیان لڑائی نہیں ہے بلکہ یہ پاکستان کے سیاسی اور انتظامی نظام میں بڑھتی ہوئی پولرائزیشن کی عکاسی کرتا ہے۔ اس واقعے نے ثابت کیا ہے کہ سیاسی تقسیم اب سرکاری اداروں کی دہلیز تک پہنچ چکی ہے جو کہ ریاست کے لیے ایک خطرناک علامت ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر سرکاری ملازمین نے اپنی وردی کا بھرم برقرار نہ رکھا اور سیاسی مباحثوں میں فریق بنتے رہے تو اس سے عوام کا اداروں پر اعتماد مزید کمزور ہوگا۔ اقرار الحسن اور جواد احمد کی اس بحث نے پاکستانی سیاست کے کئی چھپے ہوئے پہلوؤں کو بے نقاب کر دیا ہے جن پر سنجیدہ غور و فکر کی ضرورت ہے۔

ایک تبصرہ چھوڑ دو