راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں قید سابق وزیراعظم عمران خان کو گزشتہ شب طبی معائنے کے لیے اسلام آباد کے پمز ہسپتال منتقل کیا گیا۔ اڈیالہ جیل کے حکام اور پمز انتظامیہ کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق انہیں رات کے پچھلے پہر ہسپتال لایا گیا جہاں ماہر ڈاکٹروں کی ٹیم نے ان کا تفصیلی معائنہ کیا۔
آنکھوں کا علاج اور طبی معائنہ
ہسپتال ذرائع کے مطابق عمران خان کو ان کی آنکھ کے علاج کے سلسلے میں انٹرا ویٹریئل انجیکشن کی چوتھی خوراک دی گئی۔ پمز کے اعلامیے میں بتایا گیا ہے کہ انجیکشن لگانے سے قبل ان کا آپٹیکل کوہیرنس ٹوموگرافی ٹیسٹ بھی کیا گیا جس میں ان کی طبی حالت میں بہتری دیکھی گئی۔
ماہرین چشم نے معائنے کے بعد سابق وزیراعظم کی مجموعی صحت کو مستحکم قرار دیا ہے۔ پمز انتظامیہ کا کہنا ہے کہ تمام طبی مراحل عمران خان کی مکمل رضامندی اور طے شدہ حفاظتی پروٹوکولز کے تحت مکمل کیے گئے ہیں۔
پی ٹی آئی قیادت کا ردعمل
پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر خان نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر اس طبی معائنے کی تصدیق کی ہے۔ انہوں نے اپنے بیان میں کہا کہ عمران خان کو انجیکشن اور معائنے کے لیے ہسپتال لایا جانا ان کے علم میں ہے۔
تاہم بیرسٹر گوہر خان نے مطالبہ کیا ہے کہ عمران خان اور بشریٰ بی بی کو مستقل طور پر ہسپتال منتقل کیا جانا چاہیے۔ ان کا موقف ہے کہ دونوں کا علاج ان کے ذاتی معالجین کی زیر نگرانی اور اہل خانہ کی موجودگی میں ہونا ان کا بنیادی حق ہے۔
جیل واپسی
تقریباً دو گھنٹے تک ہسپتال میں رہنے کے بعد عمران خان کو صبح چار بجے دوبارہ اڈیالہ جیل منتقل کر دیا گیا ہے۔ ڈاکٹروں نے انہیں ڈسچارج کرتے وقت مستقبل میں نگہداشت اور فالو اپ سے متعلق ضروری دستاویزات بھی فراہم کر دی ہیں۔
ہسپتال انتظامیہ نے واضح کیا ہے کہ قیام کے دوران سابق وزیراعظم کی حالت تسلی بخش رہی۔ عمران خان کی آنکھوں کے علاج کی تفصیلی رپورٹ جلد ہی متعلقہ حکام کو پیش کر دی جائے گی۔