کیا مہنگائی مزید بڑھے گی؟ وفاقی ادارہ شماریات کے حیران کن اعداد و شمار

پاکستان میں گذشتہ ماہ اپریل کے دوران مہنگائی کی لہر میں ایک بار پھر شدید تیزی دیکھی گئی ہے جس نے حکومتی اہداف کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ بی بی سی کے مطابق وفاقی ادارہ شماریات نے حالیہ اعداد و شمار جاری کیے ہیں جن میں قیمتوں کے بڑھنے کی رفتار میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق کنزیومر پرائس انڈیکس کے تحت مہنگائی کی شرح اپریل میں سالانہ بنیاد پر 10.9 فیصد تک جا پہنچی ہے۔ یاد رہے کہ مارچ کے مہینے میں یہ شرح 7.3 فیصد تھی جو اب ایک بڑی جست لگا کر بلند ترین سطح پر آگئی ہے۔

یہ حالیہ اضافہ سٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے مقرر کردہ 5 سے 7 فیصد کے ہدف سے کہیں زیادہ ہے۔ پاکستان بیورو آف سٹیٹکس کے مطابق یہ شرح جولائی 2024 کے بعد اب تک کی سب سے زیادہ سطح پر پہنچ چکی ہے۔

حیران کن طور پر یہ اضافہ مرکزی بینک کی جانب سے پالیسی ریٹ میں سو بیسز پوائنٹس کے اضافے کے محض چار دن بعد سامنے آیا ہے۔ اس وقت ملک میں شرح سود 11.5 فیصد ہو چکی ہے لیکن اس کے باوجود مہنگائی کا دباؤ کم نہیں ہو سکا ہے۔

مہنگائی میں اس مجموعی اضافے کی بنیادی وجہ ٹرانسپورٹ کے اخراجات میں ہونے والا غیر معمولی اضافہ قرار دیا جا رہا ہے۔ ٹرانسپورٹ کے شعبے میں قیمتیں 12.5 فیصد سے بڑھ کر اب 29.9 فیصد کی سطح تک پہنچ گئی ہیں۔

اسی طرح رہائشی سہولیات اور بجلی و گیس کے اخراجات بھی 11.5 فیصد سے بڑھ کر 16.8 فیصد ہو چکے ہیں۔ اشیائے خورونوش اور غیر الکحل مشروبات کی قیمتوں میں بھی 3.6 فیصد سے بڑھ کر 7.6 فیصد کا اضافہ دیکھا گیا ہے جس سے عام آدمی کی زندگی متاثر ہوئی ہے۔

ایک تبصرہ چھوڑ دو