پاکستان کی معیشت اور سیاست اس وقت ایک انتہائی پیچیدہ دور سے گزر رہی ہے جہاں ہر نیا فیصلہ عوامی زندگی پر گہرے اثرات مرتب کر رہا ہے۔ صحافی اسد اللہ خان نے اپنے حالیہ تجزیے میں ملکی معاشی صورتحال اور سیاسی جوڑ توڑ کے حوالے سے کئی اہم انکشافات کیے ہیں۔
ان کے مطابق حکومت بین الاقوامی مالیاتی فنڈ یعنی آئی ایم ایف کے ساتھ ہونے والے معاہدے کی شرائط پر عمل درآمد کرنے کے لیے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ کرنے کی تیاری کر رہی ہے۔ اس اقدام کا مقصد محصولات میں اضافہ کرنا ہے جو کہ عالمی ادارے کی جانب سے ایک لازمی شرط قرار دی گئی ہے۔
پیٹرولیم قیمتوں میں ممکنہ اضافے کے محرکات
اسد اللہ خان کا دعویٰ ہے کہ وزیر اعظم شہباز شریف کی جانب سے پیٹرولیم قیمتوں میں اضافے کا اشارہ دیا گیا ہے جو کہ عوام کے لیے مہنگائی کا ایک نیا طوفان ثابت ہو سکتا ہے۔ آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدے کے تحت پیٹرولیم لیوی کو ایک سو ساٹھ روپے تک لے جانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔
اس لیوی کی تقسیم کچھ اس طرح ہے کہ اسی روپے پیٹرول اور اسی روپے ڈیزل پر عائد کیے جائیں گے۔ چونکہ حکومت اس وقت ڈیزل پر پچپن روپے کم وصول کر رہی ہے اس لیے ڈیزل کی قیمت میں کم از کم پچپن روپے فی لیٹر اضافے کا قوی امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
حکومتی اعداد و شمار پر اٹھنے والے سوالات
تجزیہ کار نے وزیر اعظم کے اس دعوے کو بھی کڑی تنقید کا نشانہ بنایا ہے جس میں کہا گیا تھا کہ پاکستان کا ہفتہ وار تیل کی درآمد کا بل تین سو ملین ڈالر سے بڑھ کر آٹھ سو ملین ڈالر تک پہنچ گیا ہے۔ اسد اللہ خان کے مطابق عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں بیس سے تیس فیصد اضافہ ہوا ہے لیکن درآمدی بل کا تین گنا بڑھ جانا سمجھ سے بالاتر ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ ملک میں مہنگائی کی بلند شرح کے باعث پیٹرولیم مصنوعات کی کھپت میں واضح کمی آئی ہے۔ ایسے میں درآمدی بل میں اس قدر بڑا اضافہ معاشی منطق کے برعکس دکھائی دیتا ہے جس کی وضاحت ضروری ہے۔
توانائی بچت پالیسی کے معاشی نقصانات
حکومت کی جانب سے رات آٹھ بجے بازار بند کرنے کی پالیسی پر گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے ایک معروف اخبار کی رپورٹ کا حوالہ دیا۔ اسد اللہ خان نے انکشاف کیا کہ اس پالیسی کے نتیجے میں صرف ایک ماہ کے دوران کاروباری طبقے کو ایک سو ارب روپے کا بھاری نقصان اٹھانا پڑا ہے۔
اس تجارتی نقصان کا براہ راست اثر حکومتی ٹیکسوں کی وصولی پر بھی پڑا ہے کیونکہ جب کاروبار سکڑتا ہے تو ٹیکس ریونیو میں بھی کمی واقع ہوتی ہے۔ یوں توانائی بچانے کی یہ کوشش معاشی طور پر حکومت کے لیے الٹا بوجھ ثابت ہوئی ہے۔
اپوزیشن کی خاموشی اور سیاسی جمود
ویلاگ میں اس بات پر حیرت کا اظہار کیا گیا ہے کہ ملک میں بڑھتی ہوئی مہنگائی کے باوجود سیاسی اپوزیشن مکمل طور پر خاموش دکھائی دے رہی ہے۔ اسد اللہ خان نے ماضی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ عمران خان کے دور میں پیٹرول کی قیمت میں معمولی اضافے پر بھی مسلم لیگ ن کے رہنما پریس کانفرنسوں کا تانتا باندھ دیتے تھے۔
آج صورتحال یہ ہے کہ کوئی بھی بڑی سیاسی قوت حکومت کو معاشی ناکامیوں یا غلط پالیسیوں پر جوابدہ نہیں بنا رہی۔ یہ سیاسی خلا ملک میں جمہوریت اور عوامی نمائندگی کے حوالے سے کئی سوالات کو جنم دے رہا ہے۔
تحریک انصاف کے اندرونی اختلافات
پاکستان تحریک انصاف کے اندرونی حالات پر بات کرتے ہوئے اسد اللہ خان نے بتایا کہ اپوزیشن لیڈر محمود اچکزئی پر کارکنوں کا شدید دباؤ ہے کہ وہ عمران خان کی رہائی کے لیے آواز اٹھائیں۔ تاہم انہوں نے اس معاملے پر مسلسل خاموشی اختیار کر رکھی ہے جو کہ کئی شکوک و شبہات کو جنم دے رہی ہے۔
اطلاعات کے مطابق محمود اچکزئی نے عمران خان کی ہمشیرہ سے ملاقات کرنے سے بھی معذرت کر لی ہے جس سے یہ تاثر ابھر رہا ہے کہ پارٹی کی حکمت عملی اور قیادت کے درمیان ہم آہنگی کا فقدان ہے۔ یہ سیاسی دوری پی ٹی آئی کے مستقبل کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے۔
اڈیالہ جیل کے باہر تلخ جملوں کا تبادلہ
جیل کے باہر پیش آنے والے ایک واقعے کا ذکر کرتے ہوئے اسد اللہ خان نے بتایا کہ سلمان اکرم راجہ اور عمران خان کی بہنوں کے درمیان سرد جنگ جاری ہے۔ دونوں فریقین نے ایک دوسرے کو مکمل طور پر نظر انداز کیا جس کی وجہ ماضی میں کی گئی تلخ گفتگو بتائی جاتی ہے۔
علیمہ خان اس بات پر نالاں ہیں کہ قانونی ٹیم ان کے بھائی کی رہائی کے لیے موثر اقدامات نہیں کر رہی۔ دوسری جانب سلمان اکرم راجہ ان ریمارکس سے دلبرداشتہ ہیں جس کی وجہ سے پارٹی کے اندرونی حلقوں میں ایک واضح تقسیم نظر آ رہی ہے۔
لاہور دورے کی منسوخی کے اسباب
تحریک انصاف کی قیادت کے لاہور کے مجوزہ دورے کی منسوخی پر روشنی ڈالتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ اس کی بنیادی وجہ تنظیم سازی کی کمی تھی۔ لاہور کی مقامی تنظیم نے اس دورے کے لیے کوئی خاص تیاری نہیں کی تھی اور نہ ہی مرکزی قیادت کے ساتھ کوئی رابطہ موجود تھا۔
اس کے علاوہ پولیس کریک ڈاؤن کے خدشات اور ایک اہم سیاستدان کے خاندان میں شادی کی تقریبات بھی اس منسوخی کی وجہ بنیں۔ ان عوامل نے پارٹی کے احتجاجی پروگراموں اور عوامی مہم کو بری طرح متاثر کیا ہے۔
عدالتی تبادلے اور انتظامی مداخلت
عدالتی معاملات پر گفتگو کرتے ہوئے اسد اللہ خان نے ان ججوں کے تبادلوں کا ذکر کیا جنہوں نے اداروں کی مداخلت کے خلاف خط لکھا تھا۔ جسٹس محسن اختر کیانی، جسٹس بابر ستار اور جسٹس ثمن رفعت جیسے ججوں کو مختلف عدالتوں میں بھیج دیا گیا ہے جس سے ان کی سنیارٹی متاثر ہوئی ہے۔
مثال کے طور پر جسٹس کیانی جو اسلام آباد ہائی کورٹ میں دوسرے سینئر ترین جج تھے اب لاہور ہائی کورٹ میں بارہویں نمبر پر چلے گئے ہیں۔ یہ اقدام عدالتی آزادی پر اثر انداز ہونے کی ایک کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
سیاسی مداخلت اور ججوں کا تقرر
دلچسپ بات یہ ہے کہ جسٹس خادم سومرو اور جسٹس ارباب طاہر کے تبادلے آخری وقت پر روک دیے گئے۔ اسد اللہ خان نے دعویٰ کیا ہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی نے ان تبادلوں میں مداخلت کی ہے تاکہ سندھ ہائی کورٹ میں ان کی مرضی کے مطابق معاملات چل سکیں۔
کہا جا رہا ہے کہ آصف علی زرداری سندھ میں ایسے ججوں کی تعیناتی نہیں چاہتے جو آزادانہ فیصلے کرنے کی شہرت رکھتے ہوں۔ یہ صورتحال عدلیہ اور انتظامیہ کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی اور سیاسی مفادات کی عکاسی کرتی ہے۔