’اپنا گھر پروگرام‘ کے تحت ایک کروڑ روپے تک کا قرض کیسے ملے گا؟

پاکستان کے عوام کے لیے اپنا گھر بنانے کا خواب حقیقت بننے کے قریب ہے کیونکہ وفاقی حکومت نے ‘اپنا گھر پروگرام’ کی تفصیلات جاری کر دی ہیں۔ وزیراعظم شہباز شریف جلد ہی اس تاریخی پیکج کا باضابطہ اعلان کریں گے جس کے ذریعے شہریوں کو مالی معاونت فراہم کی جائے گی۔

حکومتی ذرائع کے مطابق اس سکیم کے تحت مستحق افراد پچیس لاکھ روپے سے لے کر ایک کروڑ روپے تک کا قرضہ حاصل کر سکیں گے۔ اس منصوبے کا مقصد ان لوگوں کی مدد کرنا ہے جو اپنی چھت سے محروم ہیں اور مالی وسائل کی کمی کا شکار ہیں۔

قرض کی واپسی اور مارک اپ کا طریقہ کار

اس پروگرام کی سب سے بڑی خاصیت قرض کی واپسی کے لیے دیا گیا بیس سال کا طویل وقت ہے۔ پہلے دس برسوں کے دوران مارک اپ کی شرح صرف پانچ فیصد پر فکس رکھی گئی ہے تاکہ عام آدمی پر بوجھ نہ پڑے۔

اگلے دس برسوں کے لیے مارک اپ کی شرح نارمل مارکیٹ ریٹ کے مطابق ہو گی۔ اس پالیسی کا مقصد ابتدائی سالوں میں قرض لینے والوں کو زیادہ سے زیادہ ریلیف فراہم کرنا ہے تاکہ وہ سکون سے اپنا گھر تعمیر کر سکیں۔

ماہانہ اقساط کا مکمل شیڈول

پروگرام کے تحت مختلف مالیاتی سلیب مقرر کیے گئے ہیں۔ پچیس لاکھ روپے کا قرض لینے والوں کو ماہانہ 16 ہزار 499 روپے قسط ادا کرنی ہو گی جبکہ پچاس لاکھ کے قرض پر ماہانہ قسط 32 ہزار 997 روپے ہو گی۔

اسی طرح جو افراد 75 لاکھ روپے حاصل کریں گے ان کی قسط 49 ہزار 497 روپے مقرر کی گئی ہے۔ ایک کروڑ روپے کے بڑے قرضے کے لیے ماہانہ 65 ہزار 996 روپے کی ادائیگی کرنا ہو گی جو کہ ایک کرائے کے برابر رقم بنتی ہے۔

اہلیت اور درخواست کا عمل

اس سکیم سے فائدہ اٹھانے کے لیے شناختی کارڈ کا ہونا لازمی ہے اور درخواست گزار کا پہلے سے مقروض نہ ہونا بنیادی شرط ہے۔ قرض کی رقم سے دس مرلہ تک کا پلاٹ خریدا جا سکتا ہے یا بنا بنایا مکان بھی حاصل کیا جا سکتا ہے۔

فنانسنگ کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ نوے فیصد رقم حکومت فراہم کرے گی جبکہ دس فیصد حصہ انفرادی طور پر صارف کو خود برداشت کرنا ہو گا۔ درخواست گزار اسلامک بینک، کمرشل بینک یا ہاؤس بلڈنگ فنانس کمپنی سے رجوع کر سکیں گے۔

شفافیت اور مانیٹرنگ کا نظام

درخواست جمع کروانے کے لیے آن لائن پورٹل کا استعمال کیا جائے گا تاکہ انسانی مداخلت کم سے کم ہو۔ آن لائن درخواست دینے کے بعد حتمی منظوری تک کے عمل میں صرف ایک ماہ کا وقت لگے گا۔

منصوبے کی نگرانی اسٹیٹ بینک اور پاکستان ہاؤسنگ اتھارٹی فاؤنڈیشن مشترکہ طور پر کریں گے۔ اس عمل میں کسی قسم کی پیشگی فیس یا خفیہ ادائیگی کی شرط نہیں رکھی گئی ہے تاکہ شفافیت کو یقینی بنایا جا سکے۔

ایک تبصرہ چھوڑ دو