Ai
عالمی معیشت کو ایک بار پھر شدید غیر یقینی صورتحال کا سامنا ہے کیونکہ حالیہ امن مذاکرات کسی نتیجے کے بغیر ختم ہو گئے ہیں۔ اس سفارتی ناکامی کے فوری بعد توانائی کی عالمی منڈیوں میں تیل کی قیمتوں میں اچانک اضافہ دیکھا گیا ہے جس نے ماہرین کی تشویش بڑھا دی ہے۔ بی بی سی کی ایشیا بزنس رپورٹر سورنجنا تیواری کے مطابق مذاکرات کے خاتمے نے سرمایہ کاروں کے اعتماد کو ٹھیس پہنچائی ہے۔
رپورٹ کے مطابق موجودہ حالات میں سب سے بڑی تشویش رسد یعنی سپلائی کے نظام کے بارے میں پیدا ہو گئی ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر جیو پولیٹیکل کشیدگی برقرار رہی تو عالمی منڈی میں خام تیل کی فراہمی بری طرح متاثر ہو سکتی ہے۔ اس صورتحال کا براہ راست اثر عالمی پیداواری لاگت اور نقل و حمل پر پڑے گا جو معیشت کے تمام شعبوں کو متاثر کرے گا۔
تجارتی اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ بین الاقوامی سطح پر خام تیل کی قیمتیں اس لیے بڑھ رہی ہیں کیونکہ متبادل راستوں کی تلاش مہنگی ثابت ہو رہی ہے۔ اگر سپلائی میں یہ تعطل طویل ہوا تو ترقی پذیر ممالک کے لیے اپنی توانائی کی ضروریات پوری کرنا ناممکن ہو جائے گا۔ اس سے نہ صرف صنعتی پیداوار گرے گی بلکہ عالمی تجارتی توازن بھی بگڑنے کا اندیشہ ہے۔
تیل کی قیمتیں اور سپلائی
آبنائے ہرمز کے ذریعے ہونے والی جہازرانی میں ممکنہ خلل اس وقت معاشی ماہرین کے لیے سب سے بڑا ڈراونا خواب بن چکا ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر اس اہم تجارتی راستے پر نقل و حمل متاثر ہوئی تو روزانہ تقریباً بیس لاکھ بیرل تیل کی فراہمی خطرے میں پڑ سکتی ہے۔ یہ مقدار عالمی منڈی میں قیمتوں کو آسمان تک پہنچانے کے لیے کافی ہے۔
جہازرانی کے تازہ ترین اعداد و شمار پہلے ہی ظاہر کر رہے ہیں کہ بحری ٹینکرز کی آمد و رفت میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے۔ امریکا کی جانب سے مجوزہ ناکہ بندی کے حوالے سے بڑھتے ہوئے خدشات نے انشورنس کمپنیوں اور شپنگ کمپنیوں کو محتاط کر دیا ہے۔ اس خوف کی فضا نے سپلائی چین کو پہلے ہی مفلوج کرنا شروع کر دیا ہے جس کے اثرات ہر گزرتے دن کے ساتھ واضح ہو رہے ہیں۔
توانائی کی منڈیوں میں پایا جانے والا یہ اتار چڑھاؤ صرف تیل تک محدود نہیں رہے گا بلکہ گیس اور دیگر ایندھن کی قیمتوں پر بھی اثر انداز ہو گا۔ اس کے نتیجے میں بجلی کی پیداواری لاگت بڑھے گی جس سے عالمی سطح پر مینوفیکچرنگ کا شعبہ بحران کا شکار ہو سکتا ہے۔ سرمایہ کار اب اپنے اثاثے محفوظ کرنے کے لیے سونے جیسی محفوظ پناہ گاہوں کی طرف رخ کر رہے ہیں۔
مہنگائی اور مرکزی بینک
تیل کی قیمتوں میں ہونے والا حالیہ اضافہ براہ راست عالمی مہنگائی کو ہوا دے رہا ہے کیونکہ نقل و حمل اور خوراک کی قیمتیں ایندھن سے جڑی ہوتی ہیں۔ جب پیٹرول اور ڈیزل مہنگا ہوتا ہے تو کسانوں کے لیے فصل اگانا اور تاجروں کے لیے اسے منڈی تک پہنچانا مشکل ہو جاتا ہے۔ یہ زنجیر نما ردعمل گھریلو بجٹ پر ناقابل برداشت دباؤ ڈال رہا ہے۔
دنیا بھر کے بڑے مرکزی بینکوں نے حال ہی میں بلند شرح سود سے ہٹ کر ریلیف دینے کا سوچا تھا لیکن اب یہ منصوبہ کھٹائی میں پڑتا نظر آ رہا ہے۔ اگر تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار رہیں تو افراط زر کو کنٹرول کرنے کے لیے بینکوں کو شرح سود میں کمی کا فیصلہ مؤخر کرنا پڑے گا۔ اس سے قرضوں کی لاگت میں اضافہ ہو گا اور کاروباری سرگرمیاں مزید سست پڑ جائیں گی۔
یورپ اور ایشیا کے وہ ممالک جو اپنی توانائی کی ضروریات کے لیے درآمدات پر انحصار کرتے ہیں سب سے زیادہ متاثر ہوں گے۔ ان ممالک میں عوامی اخراجات میں کمی اور معاشی ترقی کی رفتار سست ہونے کا قوی امکان موجود ہے۔ دوسری جانب تیل برآمد کرنے والے ممالک بھی عالمی طلب میں ممکنہ کمی کی وجہ سے طویل مدتی نقصان کے بارے میں فکر مند نظر آتے ہیں۔
عالمی منڈیوں کا مستقبل
عالمی حصص بازاروں یعنی اسٹاک مارکیٹس نے پہلے ہی ان منفی خبروں پر شدید ردعمل دینا شروع کر دیا ہے۔ سرمایہ کاروں میں پھیلی بے چینی کی وجہ سے بڑے مالیاتی مراکز میں حصص کی قیمتیں مسلسل گر رہی ہیں۔ یہ صورتحال اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ مارکیٹ اب ‘اسٹیگ فلیشن’ یعنی سست ترقی اور بلند مہنگائی کے دور کی توقع کر رہی ہے۔
غیر یقینی صورتحال کے اس ماحول میں عالمی معاشی پالیسی سازوں کے لیے چیلنجز بڑھتے جا رہے ہیں۔ اگر سفارتی محاذ پر فوری بہتری نہ آئی تو عالمی معیشت ایک ایسے بھنور میں پھنس سکتی ہے جہاں سے نکلنا دہائیوں کا کام ہو گا۔ ماہرین کا مشورہ ہے کہ حکومتوں کو اب توانائی کے متبادل ذرائع اور ہنگامی معاشی منصوبوں پر تیزی سے کام کرنے کی ضرورت ہے۔
آنے والے ہفتے عالمی معیشت کے رخ کا تعین کرنے میں انتہائی اہم ثابت ہوں گے۔ اگر کشیدگی کم نہ ہوئی تو صارفین کو مزید مہنگائی اور معاشی تنگی کے لیے تیار رہنا چاہیے کیونکہ سپلائی چین کے مسائل راتوں رات حل ہونے والے نہیں ہیں۔ عالمی برادری کو اب مل کر ایسے حل تلاش کرنے ہوں گے جو توانائی کی منڈیوں کو استحکام فراہم کر سکیں اور معاشی نمو کو دوبارہ بحال کر سکیں۔