Ai
پاکستان کے تنخواہ دار طبقے نے مالی سال 2025 اور 2026 کے پہلے نو ماہ کے دوران 420 ارب روپے کا انکم ٹیکس ادا کیا ہے جو رئیل اسٹیٹ سیکٹر سے حاصل ہونے والے 197 ارب روپے کے ٹیکس کے مقابلے میں دوگنا سے بھی زیادہ ہے۔ فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے مرتب کردہ عبوری اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ تنخواہ دار طبقے کی جانب سے دیئے گئے ٹیکس میں گزشتہ سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں 29 ارب روپے یعنی سات اعشاریہ پانچ فیصد کا اضافہ ہوا ہے۔ پرافٹ پی کے کی ایک رپورٹ کے مطابق یہ اعداد و شمار بک ایڈجسٹمنٹ اور سیکشن 153 کے تحت کی جانے والی مخصوص معاہدہ ادائیگیوں کے بغیر جاری کیے گئے ہیں۔
ٹیکس وصولی کے اعداد و شمار
اعداد و شمار کی تفصیلات سے ظاہر ہوتا ہے کہ غیر کارپوریٹ ملازمین نے 187 ارب روپے کا ٹیکس جمع کرایا ہے جس میں گزشتہ سال کے مقابلے میں بارہ فیصد اضافہ دیکھا گیا ہے۔ دوسری جانب کارپوریٹ سیکٹر کے ملازمین نے 134 ارب روپے ادا کیے جو پندرہ فیصد اضافے کو ظاہر کرتے ہیں۔ وفاقی حکومت کے ملازمین کی جانب سے 41 ارب روپے کا ٹیکس دیا گیا ہے جس میں سات فیصد اضافہ ہوا جبکہ صوبائی حکومت کے ملازمین نے 59 ارب روپے ادا کیے جو گزشتہ سال کے مقابلے میں چودہ فیصد کمی کو ظاہر کرتے ہیں۔ یہ تقسیم واضح کرتی ہے کہ نجی اور کارپوریٹ شعبے کے ملازمین پر ٹیکس کا بوجھ سرکاری ملازمین کے مقابلے میں نمایاں طور پر زیادہ ہے۔
وفاقی بیورو آف ریونیو کے حکام کا کہنا ہے کہ تنخواہ دار طبقے سے حاصل ہونے والی یہ آمدنی ملکی معیشت کے استحکام میں اہم کردار ادا کر رہی ہے۔ تاہم یہ اعداد و شمار اس حقیقت کی بھی نشاندہی کرتے ہیں کہ جہاں تنخواہ دار طبقہ باقاعدگی سے ٹیکس ادا کر رہا ہے وہاں رئیل اسٹیٹ جیسے بڑے شعبے سے ٹیکس کی وصولی اب بھی چیلنج بنی ہوئی ہے۔ حکومت کی جانب سے ٹیکس بیس کو وسیع کرنے کی کوششوں کے باوجود اب بھی زیادہ تر انحصار براہ راست ٹیکسوں اور ود ہولڈنگ ٹیکسوں پر کیا جا رہا ہے۔
رئیل اسٹیٹ اور تنخواہ دار طبقہ
رئیل اسٹیٹ سیکٹر پر ٹیکس کی شرحوں میں اضافے کے باوجود اس شعبے سے کل وصولی 197 ارب روپے رہی جو پچھلے سال کے مقابلے میں سترہ فیصد زیادہ ہے۔ اس وصولی میں پلاٹوں کی فروخت پر ود ہولڈنگ ٹیکس کی مد میں 137 ارب روپے جمع ہوئے جس میں باسٹھ فیصد کا بڑا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ تاہم پلاٹوں کی خریداری پر وصول کیے گئے ٹیکس میں سولہ فیصد کی کمی آئی ہے اور یہ رقم 61 ارب روپے تک محدود رہی۔ بجٹ میں شرحوں میں کمی کے بعد خریداروں کی دلچسپی میں وہ اضافہ دیکھنے میں نہیں آیا جس کی توقع کی جا رہی تھی۔
رئیل اسٹیٹ سیکٹر میں کیپیٹل گینز سے حاصل ہونے والی آمدنی میں بھی نمایاں کمی آئی ہے جو گزشتہ سال کے 5 ارب روپے سے کم ہو کر صرف ایک اعشاریہ سات ارب روپے رہ گئی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ حکومت نے اس شعبے سے ریونیو حاصل کرنے کے لیے زیادہ تر ود ہولڈنگ ٹیکسوں پر انحصار کیا ہے کیونکہ ٹیکس نیٹ کو پھیلانے کی دیگر کوششوں کے نتائج محدود رہے ہیں۔ اس صورتحال میں تنخواہ دار طبقہ ٹیکسوں کی ادائیگی میں سب سے آگے نظر آتا ہے حالانکہ ان کی آمدنی کے ذرائع محدود ہوتے ہیں۔
معاشی دباؤ اور عوامی ردعمل
یہ ڈیٹا ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب تنخواہ دار افراد کو بڑھتے ہوئے معاشی دباؤ کا سامنا ہے۔ مشرق وسطیٰ کے تنازعے کے باعث ایندھن کی قیمتوں میں اضافے اور گھریلو اخراجات میں اضافے نے عام آدمی کی زندگی مشکل بنا دی ہے۔ مہنگائی کی بلند شرح اور ٹیکسوں کے بوجھ نے تنخواہ دار طبقے کی قوت خرید کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ عوامی حلقوں میں یہ بحث عام ہے کہ معیشت کا سارا بوجھ صرف ان لوگوں پر کیوں ڈالا جا رہا ہے جن کی آمدنی کا ریکارڈ پہلے سے موجود ہے جبکہ بڑے بڑے سرمایہ کار اب بھی ٹیکس نیٹ سے باہر ہیں۔
معاشی ماہرین کا ماننا ہے کہ صرف تنخواہ دار طبقے پر بوجھ بڑھانے سے معیشت میں عدم توازن پیدا ہو سکتا ہے۔ جب تک رئیل اسٹیٹ اور دیگر بڑے شعبوں کو مکمل طور پر ٹیکس نیٹ میں نہیں لایا جاتا تب تک مالیاتی خسارے کو کم کرنا مشکل ہو گا۔ حکومت کو ایسی پالیسیاں بنانی ہوں گی جن سے ٹیکس کا بوجھ تمام شعبوں پر برابر تقسیم ہو سکے تاکہ عوام میں پائی جانے والی بے چینی کو دور کیا جا سکے۔
مستقبل کی ٹیکس پالیسی اور آئی ایم ایف
حکومت اب پراپرٹی ٹیکس کے نظام میں نظر ثانی پر غور کر رہی ہے جس میں پلاٹوں کی خرید و فروخت پر ود ہولڈنگ ٹیکس کی شرح کو کم کرنا اور بعض لیویز کو ختم کرنا شامل ہے۔ زیر بحث تجاویز میں پلاٹوں کی فروخت پر ٹیکس کی شرح کو چار اعشاریہ پانچ فیصد سے کم کر کے ایک اعشاریہ پانچ فیصد کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ اسی طرح خریداری پر ٹیکس کی شرح کو ایک اعشاریہ پانچ فیصد سے کم کر کے صفر اعشاریہ پچیس فیصد کرنے اور پہلی بار گھر خریدنے والوں کو استثنیٰ دینے پر بھی بات ہو رہی ہے۔
یہ تجاویز جلد ہی بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے ساتھ آئندہ بجٹ ریویو سے پہلے زیر بحث لائے جانے کی توقع ہے۔ حکومت چاہتی ہے کہ رئیل اسٹیٹ سیکٹر میں سرمایہ کاری کو فروغ دیا جائے تاکہ وہاں سے بھی ریونیو پیدا ہو سکے۔ تاہم آئی ایم ایف کی شرائط اور ملکی ریونیو کے اہداف کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ فیصلہ کرنا ایک مشکل ٹاسک ہو گا۔ آنے والے مہینوں میں یہ واضح ہو جائے گا کہ کیا حکومت تنخواہ دار طبقے کو کچھ ریلیف دے پائے گی یا پھر وہی معیشت کا بوجھ اٹھاتے رہیں گے۔
اکثر پوچھے گئے سوالات
سوال 1: پاکستان میں تنخواہ دار طبقے نے نو ماہ میں کتنا ٹیکس دیا؟
جواب: پاکستان کے تنخواہ دار طبقے نے مالی سال 2025 اور 2026 کے پہلے نو ماہ کے دوران کل 420 ارب روپے کا انکم ٹیکس ادا کیا ہے جو رئیل اسٹیٹ سے کہیں زیادہ ہے۔
سوال 2: کیا رئیل اسٹیٹ سیکٹر پر ٹیکس کی شرح میں کمی کی جا رہی ہے؟
جواب: جی ہاں حکومت پلاٹوں کی خرید و فروخت پر ود ہولڈنگ ٹیکس کی شرح کو کم کرنے کی تجویز پر غور کر رہی ہے تاکہ اس شعبے میں سرمایہ کاری کو بڑھایا جا سکے۔
سوال 3: ٹیکس وصولی میں اضافے کی بنیادی وجہ کیا ہے؟
جواب: ٹیکس وصولی میں اضافے کی بڑی وجہ تنخواہ دار طبقے کے انکم ٹیکس میں سات اعشاریہ پانچ فیصد اضافہ اور کارپوریٹ سیکٹر کے ملازمین کی جانب سے زیادہ ادائیگی ہے۔