کیا خاموشی ہی اب پاکستان میں صحافیوں کی بقا کا واحد راستہ ہے؟

کسی بھی معاشرے میں جب اختلاف رائے کو خاموش کر دیا جاتا ہے تو اس کی فکری ترقی رک جاتی ہے۔ خیالات خاموشی سے نہیں بلکہ بحث اور مباحثے سے جنم لیتے ہیں۔ ہیگل کے فلسفے کے مطابق مکالمہ ہی وہ انجن ہے جو انسانی ارتقا اور جمہوری کلچر کو آگے بڑھاتا ہے۔

پاکستان میں میڈیا فریڈم کی موجودہ رپورٹ بتاتی ہے کہ ملک میں اظہار رائے کی آزادی شدید دباؤ کا شکار ہے۔ میڈیا فریڈم رپورٹ کے مطابق جب صحافی سچ بولنے سے ڈرنے لگیں تو معاشرہ زوال کی طرف بڑھتا ہے۔ آج پاکستان میں میڈیا کے حالات ماضی کے مقابلے میں زیادہ سنگین صورتحال اختیار کر چکے ہیں۔

میڈیا کی صورتحال

ورلڈ پریس فریڈم انڈیکس 2025 کی رپورٹ کے مطابق پاکستان 180 ممالک میں 158 ویں نمبر پر آ گیا ہے۔ یہ درجہ بندی گزشتہ سال کے مقابلے میں مزید تنزلی کی نشاندہی کرتی ہے۔ پاکستان کا میڈیا فریڈم اسکور اب عالمی اوسط سے بہت نیچے جا چکا ہے جو کہ ایک لمحہ فکریہ ہے۔

اعداد و شمار محض نمبرز نہیں بلکہ ان لوگوں کی جدوجہد کی کہانی ہیں جو طاقت کے ایوانوں میں سچ بولتے ہیں۔ سال 2025 میں اب تک کئی صحافیوں کے قتل اور گرفتاریوں کے واقعات ریکارڈ کیے گئے ہیں۔ میڈیا ہاؤسز پر دباؤ بڑھ رہا ہے کہ وہ مخصوص بیانیے کی تشہیر کریں اور تنقیدی آوازوں کو خاموش کر دیں۔

صحافیوں کے مسائل

سی پی این ای کی رپورٹ کے مطابق سال 2025 میں کئی صحافیوں کو قانونی مقدمات اور گرفتاریوں کا سامنا کرنا پڑا۔ رپورٹس کے مطابق کم از کم پانچ سے آٹھ صحافی اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریوں کے دوران جان کی بازی ہار گئے۔ بہت سے معروف اینکرز کو آف ایئر کر دیا گیا ہے تاکہ ان کی آواز عوام تک نہ پہنچ سکے۔

ارشد شریف جیسے نامور صحافی کو 2022 میں ملک چھوڑنا پڑا اور بعد میں کینیا میں ان کا قتل کر دیا گیا۔ تحقیقاتی اداروں اور کینیا کی عدالت نے اسے ایک منصوبہ بند قتل قرار دیا ہے۔ اسی طرح عمران ریاض خان کی جبری گمشدگی اور دیگر صحافیوں جیسے حبیب اکرم اور عارف حمید بھٹی پر دباؤ کے واقعات میڈیا کی آزادی پر بڑے سوالات اٹھاتے ہیں۔

آئینی حقوق اور حقیقت

پاکستان کا آئین آرٹیکل 19 کے تحت ہر شہری کو آزادی اظہار رائے اور پریس کی آزادی کی ضمانت دیتا ہے۔ تاہم اس آزادی پر لگائی گئی مناسب پابندیاں اکثر صحافیوں کے خلاف استعمال کی جاتی ہیں۔ آئینی حقوق اور زمینی حقیقت کے درمیان ایک واضح خلیج موجود ہے جو جمہوریت کے لیے نقصان دہ ہے۔

جب عوامی مکالمے کو روکا جاتا ہے تو احتساب کا عمل کمزور پڑ جاتا ہے اور پالیسیاں غیر شفاف رہتی ہیں۔ ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر سیکیورٹی کے نام پر پابندیاں لگا کر معلومات تک رسائی کو محدود کیا جا رہا ہے۔ یہ صورتحال معاشرے میں خود ساختہ سنسرشپ کو جنم دے رہی ہے جہاں لوگ خوف کی وجہ سے خاموش ہیں۔

اصلاحات اور مستقبل

پاکستان میں میڈیا کی آزادی کو یقینی بنانے کے لیے فوری اور شفاف قانونی اصلاحات کی ضرورت ہے۔ صحافت کو ایک پیشہ ورانہ خطرے کے بجائے ایک عوامی خدمت کے طور پر تسلیم کیا جانا چاہیے۔ ڈیجیٹل قوانین کو واضح ہونا چاہیے تاکہ ان کا غلط استعمال نہ ہو سکے اور صحافیوں کو تحفظ ملے۔

جامعات میں بھی آزادانہ بحث و مباحثے کے کلچر کو فروغ دینا چاہیے تاکہ نئی نسل سوال کرنا سیکھ سکے۔ ایک مضبوط ریاست وہی ہوتی ہے جو تنقید سے ڈرنے کے بجائے اس سے سیکھ کر خود کو بہتر بنائے۔ پاکستان کی بقا اور ترقی ایک ایسے نظام میں ہے جہاں ہر آواز کو سنا جائے اور اسے عزت دی جائے۔

اکثر پوچھے گئے سوالات

سوال: ورلڈ پریس فریڈم انڈیکس 2025 میں پاکستان کا کیا نمبر ہے؟
جواب: پاکستان اس وقت 180 ممالک کی فہرست میں 158 ویں نمبر پر ہے جو کہ میڈیا کی آزادی کی بگڑتی ہوئی صورتحال کو ظاہر کرتا ہے۔

سوال: کیا پاکستان کا آئین آزادی اظہار رائے کی اجازت دیتا ہے؟
جواب: جی ہاں، آئین پاکستان کا آرٹیکل 19 آزادی اظہار رائے اور میڈیا کی آزادی کی ضمانت دیتا ہے لیکن اس پر کچھ قانونی پابندیاں بھی عائد ہیں۔

ایک تبصرہ چھوڑ دو