Ai
آج کی جدید دنیا میں جہاں مصنوعات ایک براعظم میں ڈیزائن کی جاتی ہیں اور دوسرے میں تیار ہو کر پوری دنیا میں فروخت ہوتی ہیں وہاں عالمی تجارتی نظام بظاہر انتہائی مربوط نظر آتا ہے۔ تاہم اس ظاہری ہمواری کے نیچے ایک ایسی حقیقت چھپی ہے جو بہت کم مستحکم ہے اور کسی بھی وقت بڑے بحران کا شکار ہو سکتی ہے۔
عالمی معیشت کا یہ موجودہ ڈھانچہ اس قدر حساس ہے کہ دنیا کے کسی ایک حصے میں ہونے والی معمولی سی رکاوٹ بھی تمام براعظموں پر اپنے گہرے اثرات مرتب کرتی ہے۔ ریپبلک پی کے کی رپورٹ کے مطابق ایک نہر کی بندش یا سیاسی تنازع جدید معیشتوں کے چند مخصوص راستوں پر انحصار کو بے نقاب کرنے کے لیے کافی ہے۔
تجارتی راستوں کی بندش
عالمی تجارت کا ایک بڑا حصہ مخصوص سمندری راستوں اور تنگ گزرگاہوں سے گزرتا ہے جنہیں عالمی معیشت کی شہ رگ کہا جاتا ہے۔ مارچ 2021 میں نہر سویز میں پھنسنے والے ایور گیون نامی جہاز نے ثابت کیا کہ ایک چھوٹی سی غلطی پوری دنیا کی تجارت کو کیسے مفلوج کر سکتی ہے۔
اس واقعے کے دوران چھ دنوں تک نہر سویز میں ٹریفک معطل رہی جس سے عالمی تجارت کو روزانہ تقریبا نو ارب ڈالر سے زائد کا نقصان برداشت کرنا پڑا۔ سینکڑوں بحری جہازوں کو متبادل اور طویل راستوں کا انتخاب کرنا پڑا جس سے نہ صرف وقت ضائع ہوا بلکہ نقل و حمل کے اخراجات میں بھی کئی گنا اضافہ دیکھا گیا۔
یہ واقعہ واضح کرتا ہے کہ عالمی معیشت کے پاس مساوی متبادل راستوں کی شدید کمی ہے اور ہم چند مخصوص راہداریوں پر ضرورت سے زیادہ انحصار کر رہے ہیں۔ اس حساسیت کی وجہ سے عالمی سطح پر سپلائی چین کا پورا نظام کسی بھی ہنگامی صورتحال میں ریت کی دیوار ثابت ہو سکتا ہے۔
معاشی بحرانوں کا پس منظر
تاریخ پر نظر ڈالی جائے تو 1973 کا تیل کا بحران اس بات کی بہترین مثال ہے کہ سیاسی فیصلے کس طرح عالمی معیشت کو عدم استحکام کا شکار کر سکتے ہیں۔ اوپیک ممالک کی جانب سے تیل کی فراہمی پر پابندی نے عالمی منڈیوں میں قیمتوں کو آسمان پر پہنچا دیا تھا اور صنعتی ممالک شدید معاشی سست روی کا شکار ہو گئے تھے۔
اسی طرح کرونا وائرس کی عالمی وبا نے بھی سپلائی چین کے کمزور پہلوؤں کو پوری دنیا کے سامنے عیاں کر دیا۔ فیکٹریوں کی بندش اور جہاز رانی میں تاخیر کے باعث طبی آلات اور بنیادی ضرورت کی اشیاء کی شدید قلت پیدا ہو گئی جس نے عالمی نظام کی نزاکت کو واضح کر دیا۔
کئی دہائیوں سے دنیا جسٹ ان ٹائم کے ماڈل پر کام کر رہی تھی جہاں اشیاء کی ذخیرہ اندوزی کے بجائے بروقت فراہمی کو ترجیح دی جاتی تھی۔ اگرچہ اس نظام نے اخراجات کم کرنے میں مدد دی لیکن عالمی جھٹکوں کے سامنے یہ ماڈل مکمل طور پر ناکام ثابت ہوا اور پوری سپلائی چین متاثر ہوئی۔
عالمی ردعمل اور تبدیلی
موجودہ حالات کو دیکھتے ہوئے اب دنیا کے بڑے ممالک اپنی تجارتی حکمت عملی میں نمایاں تبدیلیاں لا رہے ہیں۔ جاپان اور جرمنی جیسے ممالک اب جسٹ ان کیس کے ماڈل کی طرف منتقل ہو رہے ہیں جہاں ہنگامی حالات کے لیے اشیاء کے اسٹریٹجک ذخائر کو یقینی بنایا جاتا ہے۔
جاپان نے 2011 کے زلزلے اور سونامی کے بعد اپنی سپلائی چین کو متنوع بنانے پر توجہ دی تاکہ مستقبل میں کسی بھی بڑی آفت سے نمٹا جا سکے۔ اس حکمت عملی کی بدولت جاپانی صنعتوں نے کرونا وبا کے دوران دیگر ممالک کے مقابلے میں بہتر استحکام کا مظاہرہ کیا اور پیداواری عمل کو جاری رکھا۔
اب عالمی سطح پر اس بات کو تسلیم کیا جا رہا ہے کہ صرف کارکردگی اور کم قیمت پر توجہ دینا کافی نہیں ہے بلکہ نظام میں لچک اور استحکام پیدا کرنا ناگزیر ہے۔ سپلائی چین کو متنوع بنانا اور متبادل سپلائرز کی تلاش اب ہر ملک کی معاشی پالیسی کا لازمی حصہ بن چکا ہے۔
مستقبل کے معاشی چیلنجز
مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی جیو پولیٹیکل کشیدگی اور امریکہ و ایران کے درمیان تنازعات نے عالمی توانائی کی منڈیوں کو ایک بار پھر خطرے میں ڈال دیا ہے۔ اگرچہ ابھی تک کوئی بڑی جنگ نہیں چھڑی لیکن کشیدگی کے خدشے نے ہی بحری جہازوں کے انشورنس ریٹ اور تیل کی قیمتوں میں اضافہ کر دیا ہے۔
ماہرین کا خیال ہے کہ مستقبل میں معاشی استحکام کے لیے ممالک کو توازن کا راستہ اختیار کرنا ہوگا جہاں وہ صرف ایک ذریعے پر انحصار نہ کریں۔ اسٹریٹجک ذخائر کا قیام اور علاقائی تجارتی شراکت داریوں کو مضبوط بنانا اب وقت کی اہم ضرورت بن چکا ہے تاکہ کسی بھی بحران کا مقابلہ کیا جا سکے۔
عالمی نظام میں ان تبدیلیوں سے اگرچہ تجارتی اخراجات میں اضافہ ہو سکتا ہے لیکن یہ قیمت معاشی استحکام کو یقینی بنانے کے لیے ادا کرنا ضروری ہے۔ عالمگیریت نے جہاں دنیا کو قریب لایا ہے وہیں اسے حساس بھی بنا دیا ہے اور اب مستقبل کا چیلنج اس تعلق کو مزید مضبوط اور پائیدار بنیادوں پر استوار کرنا ہے۔