KFUEIT
رحیم یار خان کی خواجہ فرید یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ انفارمیشن ٹیکنالوجی میں پاکستان کے فعال سفارتی کردار کو اجاگر کرنے کے لیے ایک پروقار سیمینار کا انعقاد کیا گیا۔ اس تقریب کا عنوان امن اور سفارت کاری: پاک امریکہ ایران مذاکرات میں پاکستان کا مثبت کردار رکھا گیا تھا جس میں عالمی امن کے لیے پاکستان کی کوششوں کو سراہا گیا۔
یونیورسٹی کی جانب سے جاری کردہ پریس ریلیز کے مطابق وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر عامر اعظم خان نے تقریب میں بطور مہمان خصوصی شرکت کی۔ سیمینار میں میاں امیر شہباز، لیفٹیننٹ کمانڈر میاں افتخار، ڈی جی کٹ ڈاکٹر احمد صہیب، صدر ڈسٹرکٹ پریس کلب راؤ نعمان اسلم اور چیمبر آف کامرس کے صدر ولید اقبال بھی موجود تھے۔
سیمینار کے اہم شرکاء
تقریب کے شرکاء نے وزیراعظم میاں شہباز شریف اور فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر کی قیادت میں پاکستان کی بین الاقوامی سطح پر امن کے قیام کی کوششوں کو بھرپور خراج تحسین پیش کیا۔ ماہرین نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان کا متوازن کردار خطے میں استحکام لانے کے لیے انتہائی ناگزیر ثابت ہو رہا ہے۔

وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر عامر اعظم خان نے اپنے خطاب میں کہا کہ پاکستان کی عالمی امن کے لیے قربانیوں اور شراکت کی ایک طویل اور قابل فخر تاریخ موجود ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کا امن کے فروغ میں کردار ہمیشہ سنہری حروف میں یاد رکھا جائے گا کیونکہ ملک نے ہمیشہ مفاہمت کو ترجیح دی ہے۔
ڈاکٹر عامر اعظم خان نے اس بات پر روشنی ڈالی کہ وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر کی قیادت میں پاکستان نے دنیا بھر کی اقوام میں ایک ممتاز مقام حاصل کیا ہے۔ انہوں نے یقین ظاہر کیا کہ پاکستان مشکل حالات کے باوجود مخالف فریقین کو مذاکرات کی میز پر لانے میں کامیاب رہا ہے جو ایک بڑی سفارتی جیت ہے۔
قیادت کی سفارتی کوششیں
لیفٹیننٹ کمانڈر میاں افتخار نے سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ علاقائی امن کو یقینی بنانے میں پاکستان کا کردار کلیدی اہمیت کا حامل ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان کی مسلح افواج نے ملکی دفاع اور عالمی استحکام پر کبھی کوئی سمجھوتہ نہیں کیا ہے اور نہ ہی مستقبل میں کریں گے۔
میاں امیر شہباز کا کہنا تھا کہ پاک امریکہ ایران مذاکرات پاکستان کی امن سے وابستگی کی عکاسی کرتے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ موجودہ قیادت کی انتھک محنت نے ملک کا عالمی وقار بلند کیا ہے کیونکہ اسلام بھی لوگوں کے درمیان صلح اور ہم آہنگی کا درس دیتا ہے جو ہماری خارجہ پالیسی کا حصہ ہے۔
سیمینار کے دوران ماہرین نے اس حقیقت پر بھی غور کیا کہ پاکستان کی جغرافیائی اہمیت اسے ایک قدرتی ثالث بناتی ہے۔ مقررین نے کہا کہ عالمی طاقتوں کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے لیے پاکستان نے ہمیشہ ایک پل کا کردار ادا کیا ہے جس کے مثبت نتائج اب سامنے آنا شروع ہو گئے ہیں۔
معاشی اور تجارتی پہلو
چیمبر آف کامرس کے صدر ولید اقبال نے معاشی پہلوؤں پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ امریکہ اور ایران کے درمیان تناؤ کی وجہ سے عالمی تجارت بری طرح متاثر ہوئی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اسلام آباد میں ہونے والے حالیہ مذاکرات پاکستان کے لیے سفارتی اور معاشی دونوں لحاظ سے انتہائی سودمند ثابت ہوں گے۔
ولید اقبال نے مزید کہا کہ اگر خطے میں امن قائم ہوتا ہے تو اس سے تجارتی راہداریوں کو تحفظ ملے گا اور پاکستان کی برآمدات میں اضافہ ہوگا۔ انہوں نے تاجر برادری کی جانب سے حکومت اور عسکری قیادت کی ان کوششوں کو مکمل تعاون کا یقین دلایا جو ملکی معیشت کی بہتری کا سبب بن رہی ہیں۔
سیمینار میں طلباء نے بھی پاکستان کی عظمت کے موضوع پر تقاریر کیں اور حب الوطنی کے جذبے کا اظہار کیا۔ ڈائریکٹر سٹوڈنٹ افیئرز ڈاکٹر اسلم خان اور دیگر فیکلٹی ممبران نے طلباء کی حوصلہ افزائی کی کہ وہ عالمی سیاست میں پاکستان کے مثبت امیج کو فروغ دینے کے لیے اپنا تعلیمی کردار ادا کریں۔
علاقائی امن کا مستقبل
تقریب کے اختتام پر مقررین نے اس امید کا اظہار کیا کہ پاکستان کی کوششوں سے امریکہ اور ایران کے درمیان دیرینہ مسائل حل کرنے میں مدد ملے گی۔ انہوں نے کہا کہ دشمن عناصر کی تمام سازشیں ناکام ہوں گی اور پاکستان ترقی و خوشحالی کی راہ پر گامزن رہے گا کیونکہ ہماری بنیادیں مضبوط سفارتی اصولوں پر استوار ہیں۔
سیمینار میں سیاسی، سماجی، کاروباری اور دفاعی شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ اس موقع پر مقررین اور منتظمین میں شیلڈز اور سرٹیفکیٹ بھی تقسیم کیے گئے تاکہ ان کی خدمات کا اعتراف کیا جا سکے اور مستقبل میں ایسی علمی سرگرمیوں کی حوصلہ افزائی ہو۔
تقریب کے شرکاء نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ ملکی قیادت کے امن مشن میں ان کے ساتھ کھڑے ہیں۔ سیمینار کا اختتام پاکستان کی سلامتی اور عالمی امن کے لیے خصوصی دعاؤں کے ساتھ ہوا جس میں یونیورسٹی کے عملے اور طلباء نے بھرپور شرکت کی۔