Screen Grab
ایران اور امریکہ کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی نے عالمی سطح پر ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ بحرین میں سابق امریکی سفیر ایڈم ایریلی کا ماننا ہے کہ ایران پر لگائی جانے والی امریکی ناکہ بندی شاید وہ نتائج حاصل نہ کر سکے جس کی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو توقع ہے۔
ان کے مطابق، ایرانی قیادت نے اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے پہلے ہی متبادل منصوبے تیار کر رکھے ہیں۔ ایڈم ایریلی نے یہ خیالات الجزیرہ کے پروگرام ‘دس از امریکہ’ میں گفتگو کرتے ہوئے ظاہر کیے۔
ایرانی مزاحمت اور متبادل حکمت عملی
ایڈم ایریلی نے وضاحت کی کہ ایران نے اپنے تیل کی ذخیرہ اندوزی اور فروخت کے لیے متبادل ذرائع تلاش کر لیے ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ ایران کا نظام کسی بھی سخت ناکہ بندی یا پابندیوں کے باوجود بقا کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ ایرانیوں نے اس طرح کی صورتحال کے لیے طویل عرصے سے تیاری کر رکھی ہے۔ اس لیے امریکی دباؤ شاید ایرانی قیادت کے ارادوں کو تبدیل کرنے میں ناکام رہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ کی سیاسی مجبوریاں
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سامنے صرف خارجی محاذ نہیں بلکہ داخلی سیاسی دباؤ بھی ایک بڑا چیلنج بن کر ابھرا ہے۔ ایڈم ایریلی کے مطابق، ٹرمپ اپنی انتخابی حکمت عملی اور سخت خارجہ پالیسی کے درمیان توازن برقرار رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
انہوں نے اشارہ دیا کہ امریکہ میں جاری سیاسی صورتحال ٹرمپ کے فیصلوں پر اثر انداز ہو سکتی ہے۔ امریکی عوام کا صبر اور انتخابی مہم اس پوری پالیسی کا رخ بدل سکتی ہے۔
ناکہ بندی کے اثرات اور مستقبل
امریکی بحریہ کی جانب سے ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی اور تیل بردار جہازوں کو قبضے میں لینا ایک پالیسی کے طور پر تو ٹھیک معلوم ہوتا ہے۔ تاہم، ماہرین کا کہنا ہے کہ زمینی حقائق اس کے بالکل برعکس ثابت ہو سکتے ہیں۔
ایڈم ایریلی کا ماننا ہے کہ ایرانی مزاحمت صدر ٹرمپ کے صبر سے کہیں زیادہ طویل ثابت ہو سکتی ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ واشنگٹن کی ایران پالیسی اور انتخابی حکمت عملی میں سے کون سی چیز پیچھے ہٹتی ہے۔