ایران نے ایک اہم سفارتی اور اقتصادی فیصلے میں روس سمیت اپنے قریبی دوست ممالک کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کے لیے ٹرانزٹ فیس سے مستثنیٰ قرار دے دیا ہے۔ یہ فیصلہ اس وقت سامنے آیا ہے جب خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کی وجہ سے عالمی بحری تجارت پر گہرے اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق تہران کا یہ اقدام ان ممالک کے ساتھ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کی کوشش ہے جو موجودہ جغرافیائی سیاسی صورتحال میں اس کے ساتھ کھڑے ہیں۔ اس فیصلے سے روس جیسے بڑے تجارتی شراکت داروں کو بڑی مالی ریلیف ملنے کی توقع ہے۔
سفارتی سطح پر رعایتوں کا اعلان
ماسکو میں متعین ایرانی سفیر کاظم جلالی نے روسی خبر رساں ادارے ریا نووستی کو بتایا کہ مخصوص ممالک کے لیے فیس میں نرمی کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ایران کی وزارت خارجہ اس وقت روس جیسے اتحادیوں کو رعایتیں فراہم کرنے کے عمل کو حتمی شکل دے رہی ہے۔
سفیر کا کہنا تھا کہ یہ رعایتیں فی الحال مخصوص ممالک تک محدود ہیں اور مستقبل کی پالیسی کے حوالے سے حالات کو دیکھ کر فیصلہ کیا جائے گا۔ اس سفارتی پیشرفت کو عالمی منڈی میں روس اور ایران کے بڑھتے ہوئے تعاون کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
آبنائے ہرمز کی اہمیت اور نئے چیلنجز
تہران نے امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ جاری جنگی صورتحال کے پیش نظر اس تزویراتی آبی گزرگاہ میں ٹیرف لگانے کا منصوبہ بنایا تھا۔ آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین تجارتی راہداری ہے جہاں سے عالمی تیل کی رسد کا ایک بڑا حصہ گزرتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اس گزرگاہ پر فیس عائد کرنے سے عالمی قیمتوں پر اثر پڑ سکتا ہے، تاہم دوست ممالک کو استثنیٰ دینا ایک سوچی سمجھی حکمت عملی ہے۔ اس اقدام کا مقصد مغربی پابندیوں کے اثرات کو کم کرنا اور علاقائی بلاک کو مضبوط بنانا ہے۔