Ai
پاکستان اور ایران کے درمیان حالیہ سفارتی رابطوں نے عالمی سطح پر ایک نئی بحث کا آغاز کر دیا ہے، جہاں خطے میں قیام امن کے لیے کوششیں تیز کر دی گئی ہیں۔ اسلام آباد میں ہونے والی حالیہ ملاقاتوں کا مقصد تہران اور واشنگٹن کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کو کم کرنا اور مذاکرات کی راہ ہموار کرنا ہے۔
عباس عراقچی کی پاکستان سے روانگی اور اہم ملاقاتیں
ایرانی سرکاری خبر رساں ادارے ارنا کے مطابق ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی اپنے اہم دورے کے بعد اسلام آباد سے روانہ ہو گئے ہیں۔ ان کی روانگی کے حوالے سے روئٹرز نے بھی تصاویر جاری کی ہیں، جن میں ایک موٹر کیڈ کو روانہ ہوتے دیکھا جا سکتا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ ایرانی وزیر خارجہ کی روانگی کا مقصد دیگر علاقائی ممالک سے مشاورت کرنا ہے۔ یہ دورہ ایک ایسے وقت میں ہوا ہے جب مشرق وسطی کی صورتحال انتہائی حساس مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔
شہباز شریف اور ایرانی وزیر خارجہ کے درمیان گفتگو
وزیر اعظم شہباز شریف نے عباس عراقچی سے ملاقات کے بعد سوشل میڈیا پر اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ علاقائی صورتحال پر نہایت گرمجوشی سے اور خوشگوار انداز میں تبادلہ خیال کیا گیا۔
پاکستانی وزیر اعظم نے مزید بتایا کہ دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے پر بھی بات چیت ہوئی۔ اس ملاقات میں پاکستان اور ایران کے برادرانہ تعلقات کو ایک نئی جہت دینے کا عزم دہرایا گیا۔
سفارت کاری کی اہمیت اور طویل ملاقات
پاکستان کے نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار نے اس ملاقات کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ شہباز شریف اور عباس عراقچی کے درمیان گفتگو تقریباً دو گھنٹے تک جاری رہی۔ یہ طویل ملاقات اس بات کا ثبوت ہے کہ دونوں ممالک اہم مسائل پر گہرا اتفاق رائے رکھتے ہیں۔
اسحاق ڈار کے مطابق وزیر اعظم نے خطے اور اس سے باہر امن و استحکام کے لیے مکالمے کی اہمیت پر زور دیا۔ ان کا ماننا ہے کہ صرف سفارت کاری کے ذریعے ہی پیچیدہ مسائل کا حل نکالا جا سکتا ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ کا بڑا فیصلہ اور امریکی وفد کی منسوخی
دوسری جانب امریکہ سے ایک بڑی خبر سامنے آئی ہے جہاں صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے نمائندوں کو پاکستان جانے سے روک دیا ہے۔ فاکس نیوز کی رپورٹ کے مطابق امریکی ایلچی سٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر اب مذاکرات کے لیے اسلام آباد نہیں آئیں گے۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے اس فیصلے کی وجہ وقت کی بچت اور سفر کی طوالت کو قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ نہیں چاہتے کہ ان کے لوگ محض زبانی گفتگو کے لیے 18 گھنٹے کی طویل پرواز لیں۔
ٹروتھ سوشل پر امریکی صدر کا بیان
امریکی صدر نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر لکھا کہ انھوں نے ایرانیوں سے مذاکرات کے لیے جانے والے وفد کا دورہ منسوخ کر دیا ہے۔ ان کے مطابق سفر میں بہت زیادہ وقت ضائع ہو جاتا ہے اور اس وقت کام بہت زیادہ ہے۔
انھوں نے مزید کہا کہ تمام پتے امریکہ کے پاس ہیں اور اگر ایرانی بات کرنا چاہتے ہیں تو وہ ہمیں فون کر سکتے ہیں۔ صدر ٹرمپ نے ایرانی قیادت میں مبینہ اختلافات اور ابہام کا بھی ذکر کیا ہے۔
ایرانی وزیر خارجہ کا موقف اور دورے کے نتائج
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اپنے دورے کو انتہائی مفید قرار دیا ہے۔ انھوں نے پاکستان کی جانب سے خطے میں امن کی بحالی کی کوششوں کی تعریف کی اور اسے برادرانہ عمل قرار دیا۔
ان کا کہنا تھا کہ ایران نے جنگ کے مستقل خاتمے کے لیے ایک قابل عمل فریم ورک پیش کر دیا ہے۔ تاہم انھوں نے سوال اٹھایا کہ کیا امریکہ واقعی سفارت کاری میں سنجیدہ ہے یا یہ محض دکھاوا ہے۔
مستقبل کی توقعات اور سی بی ایس کی رپورٹ
امریکی نشریاتی ادارے سی بی ایس کے مطابق پاکستانی حکام کو امید ہے کہ عباس عراقچی جلد ہی دوبارہ پاکستان آئیں گے۔ توقع کی جا رہی ہے کہ وہ اتوار یا پیر کو دوبارہ اسلام آباد کا رخ کر سکتے ہیں۔
فی الحال وہ عمان کے دارالحکومت مسقط کی جانب سفر کر رہے ہیں جہاں وہ دیگر علاقائی رہنماؤں سے ملیں گے۔ ان کی واپسی پاکستان کی ثالثی کی کوششوں کے لیے انتہائی اہم تصور کی جا رہی ہے۔
ثالثی کا کردار اور درپیش چیلنجز
بی بی سی کے مطابق اسلام آباد میں آج کا دن انتہائی مصروف رہا ہے۔ دونوں فریقین کو دوبارہ ایک میز پر لانا اب ایک مشکل چیلنج بن چکا ہے۔
پاکستان نے خود کو ایک پل کے طور پر پیش کیا ہے تاکہ ایران اور امریکہ کے درمیان خلیج کو کم کیا جا سکے۔ تاہم صدر ٹرمپ کے حالیہ سخت بیانات اور وفد کی منسوخی نے اس عمل کو مزید کشیدہ کر دیا ہے۔
علاقائی صورتحال پر اثرات
اس تمام صورتحال کا اثر براہ راست مشرق وسطی کے امن پر پڑے گا۔ اگر پاکستان کی کوششیں کامیاب ہوتی ہیں تو یہ ایک بڑی سفارتی جیت ہو گی۔ لیکن موجودہ حالات میں تناؤ بڑھنے کے خدشات اب بھی موجود ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران کی جانب سے پیش کردہ متحدہ تجویز ہی وہ واحد راستہ ہے جس پر عمل کر کے جنگ کا خاتمہ ممکن ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ واشنگٹن اس پر کیا ردعمل دیتا ہے۔