خلیجی تعاون کونسل کا اجلاس: ایرانی حملوں کے بعد اتحاد کا اعلان

سعودی عرب کے شہر جدہ میں خلیجی تعاون کونسل کے رکن ممالک کا ایک انتہائی اہم اور غیر معمولی اجلاس منعقد ہوا ہے۔ اس اجلاس کی خاص بات یہ ہے کہ ایران کی جانب سے خلیجی ممالک کے بنیادی ڈھانچے پر حملوں کے بعد تمام رہنما پہلی بار روبرو بیٹھے ہیں۔

الجزیرہ کی ایک حالیہ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ اگرچہ رکن ممالک کے درمیان تزویراتی معاملات پر اختلافات پائے جاتے تھے، مگر اس ملاقات نے اتحاد کا ایک مضبوط پیغام دیا ہے۔ عرب پرسپیکٹیو انسٹی ٹیوٹ کے بانی ڈائریکٹر زیڈون الکنانی نے اس حوالے سے اہم تجزیہ پیش کیا ہے۔

خلیجی اتحاد اور علاقائی چیلنجز

زیڈون الکنانی کا کہنا ہے کہ اس اجلاس نے ان تمام پیش گوئیوں کو غلط ثابت کر دیا ہے جن میں کہا جا رہا تھا کہ خلیج تقسیم ہو جائے گی۔ ان کے مطابق خلیجی ممالک نے ثابت کیا ہے کہ وہ مشترکہ خطرات کے خلاف ایک دیوار بن کر کھڑے ہو سکتے ہیں۔

اجلاس کے دوران اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ خطے کے مفادات کا تحفظ سب سے اولین ترجیح ہونی چاہیے۔ اگرچہ مختلف ممالک کے پاس مسائل کو حل کرنے کے لیے الگ الگ سوچ موجود تھی، لیکن مقصد سب کا ایک ہی تھا۔

سفارتی حل بمقابلہ دفاعی حکمت عملی

رکن ممالک میں تہران کے ساتھ نمٹنے کے لیے دو مختلف مکاتب فکر سامنے آئے ہیں۔ قطر اور عمان جیسے ممالک مسلسل اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ سفارت کاری اور مذاکرات کو ہی ترجیح دینی چاہیے۔

دوسری جانب سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کا موقف ہے کہ ایرانی خطرات کے سامنے صرف سفارت کاری کافی نہیں ہے۔ یہ ممالک ممکنہ جارحیت کے خلاف ایک مضبوط دفاعی نظام اور مدافعت کی پالیسی کو ضروری قرار دیتے ہیں۔

توانائی کے مراکز پر حملوں کے اثرات

رپورٹ کے مطابق ایران نے بحرین، کویت، عمان، قطر، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے توانائی کے مراکز کو نشانہ بنایا تھا۔ ان حملوں میں امریکی مفادات سے جڑی تنصیبات اور فوجی اڈوں کے ساتھ ساتھ سویلین علاقوں کو بھی خطرات لاحق ہوئے تھے۔

اس اجلاس میں یہ واضح کیا گیا کہ توانائی کی عالمی سپلائی لائنوں کو پہنچنے والا کوئی بھی نقصان پوری دنیا کے لیے تباہ کن ہوگا۔ خلیجی تعاون کونسل کے تمام ارکان نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ وہ اپنے دفاع کے لیے مشترکہ حکمت عملی وضع کرتے رہیں گے۔

ایک تبصرہ چھوڑ دو