X/IrnaEnglish
فیلڈ مارشل عاصم منیر نے اپنے دورہ ایران کے دوسرے روز تہران میں ایرانی صدر مسعود پیزشکیان اور پاسدارانِ انقلاب کے اعلیٰ حکام سمیت دیگر اہم رہنماؤں سے ملاقاتیں کیں۔ ان ملاقاتوں کا بنیادی مقصد خطے میں جاری کشیدگی کو کم کرنا اور دیرپا امن کی راہ ہموار کرنا ہے۔ بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق پاکستانی وفد میں وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی بھی شامل تھے جنہوں نے تہران پہنچنے پر ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی سے ملاقات کی تھی۔
تہران میں اعلیٰ ملاقاتیں
فیلڈ مارشل عاصم منیر نے تہران میں مصروف دن گزارا اور ایرانی پارلیمنٹ کے سپیکر محمد باقر قالیباف سے بھی تفصیلی ملاقات کی۔ ایرانی صدر مسعود پیزشکیان کے ساتھ ہونے والی ملاقات میں پاکستانی آرمی چیف نے خطے کی بدلتی ہوئی صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ اگرچہ موجودہ جنگ جلد ختم ہو جائے گی لیکن خطہ اپنے سابقہ حالات پر واپس نہیں آئے گا۔
پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ نے اس ملاقات کی باضابطہ تفصیلات تاحال جاری نہیں کیں تاہم ایرانی سرکاری خبر رساں اداروں نے ان ملاقاتوں کی تصاویر جاری کی ہیں۔ فیلڈ مارشل عاصم منیر نے زور دیا کہ تمام ممالک کو تعمیرِ نو، استحکام اور دیرپا امن کے لیے اب مل کر کام کرنا چاہیے۔ انہوں نے سعودی عرب، مصر اور ترکی کی سفارتی کوششوں کی بھی تعریف کی جو اس بحران کے دوران کی گئی ہیں۔
ایرانی صدر مسعود پیزشکیان نے جنگ بندی کی کوششوں میں پاکستان کے ذمہ دارانہ کردار کو سراہا اور اسے امت مسلمہ کے لیے اہم قرار دیا۔ صدر کا کہنا تھا کہ ایران خطے میں امن اور برادرانہ تعلقات کا خواہاں ہے اور اسے پاکستان کے کردار پر مکمل اعتماد ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ مسلم دنیا کا اتحاد ہی اسرائیل کے عزائم کو ناکام بنا سکتا ہے اور خطے میں استحکام لا سکتا ہے۔
پاک ایران تعلقات کا پس منظر
پاکستان اور ایران کے درمیان گہرے مذہبی، تاریخی اور ثقافتی رشتے موجود ہیں جو دونوں ملکوں کو ایک لڑی میں پروتے ہیں۔ فیلڈ مارشل عاصم منیر نے اپنی گفتگو میں اس بات پر زور دیا کہ دونوں ممالک کے درمیان جلد ہی اہم معاہدے طے پا سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جنگیں ہمیشہ تباہی اور نقصان لاتی ہیں اس لیے سفارت کاری کو ترجیح دینا وقت کی ضرورت ہے۔
سپیکر پارلیمنٹ محمد باقر قالیباف نے ملاقات کے دوران امریکی وعدوں کی خلاف ورزیوں کو خطے میں امن کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ قرار دیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ پڑوسی ممالک کے ساتھ جامع تعلقات استوار کرنا ایران کی ایک مستقل اور فیصلہ کن پالیسی ہے۔ قالیباف نے امید ظاہر کی کہ ماضی کے عدم اعتماد والے رویوں کو ترک کر کے امن کی طرف بڑھا جائے گا۔
فیلڈ مارشل نے تہران میں پاسدارانِ انقلاب کے خاتم الانبیا سینٹرل ہیڈ کوارٹرز کا دورہ کیا جہاں ان کا استقبال کمانڈروں نے کیا۔ اس موقع پر جنگ کے خاتمے کے فریم ورک کے تحت کیے گئے اقدامات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ فریقین نے خطے کی مجموعی صورتحال اور مستقبل میں امن کے امکانات پر تفصیلی بات چیت کی جو کہ دونوں ملکوں کے لیے اہمیت کی حامل ہے۔
عالمی و علاقائی ردعمل
ایرانی عسکری کمانڈروں نے ملاقات کے دوران فیلڈ مارشل عاصم منیر کو مقامی طور پر تیار کردہ اسلحے اور دفاعی صلاحیتوں کے بارے میں بریفنگ دی۔ اعلیٰ ایرانی کمانڈر نے کہا کہ ایران کسی بھی بیرونی جارحیت کا جواب دینے کے لیے پوری طرح تیار ہے اور اس کی مسلح افواج مضبوط ہیں۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ ایران نے موجودہ بحران میں جو ہتھیار استعمال کیے وہ ایرانی نوجوانوں کے تیار کردہ تھے۔
فیلڈ مارشل عاصم منیر نے اس موقع پر کشیدگی میں کمی کے لیے جاری بین الاقوامی کوششوں کو تسلسل کے ساتھ آگے بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان خطے میں ثالثی اور جنگ بندی کے عمل میں اپنا بھرپور کردار ادا کرتا رہے گا۔ ایرانی قیادت نے اسلام آباد میں ایرانی وفد کی میزبانی پر پاکستان کا شکریہ ادا کیا اور اسے ایک مثبت قدم قرار دیا۔
مبصرین کا کہنا ہے کہ اس دورے سے پاک ایران دفاعی اور سفارتی تعلقات میں ایک نئے باب کا اضافہ ہوا ہے۔ علاقائی طاقتوں کی جانب سے اس دورے کو انتہائی اہمیت دی جا رہی ہے کیونکہ یہ ایک نازک وقت میں ہوا ہے۔ پاکستان کی جانب سے متوازن خارجہ پالیسی کا مظاہرہ تہران میں واضح طور پر دیکھا گیا جس کی ایرانی حکام نے بھی تائید کی ہے۔
مستقبل کے ممکنہ اثرات
اس دورے کے نتیجے میں پاکستان اور ایران کے درمیان سیکیورٹی تعاون میں اضافے کے قوی امکانات پیدا ہو گئے ہیں۔ فیلڈ مارشل عاصم منیر کی جانب سے دیے گئے بیانات ظاہر کرتے ہیں کہ پاکستان خطے میں قیام امن کے لیے ایک کلیدی کھلاڑی کے طور پر ابھرا ہے۔ مستقبل میں دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی اور دفاعی معاہدوں کی توقع کی جا رہی ہے جو خطے کی تقدیر بدل سکتے ہیں۔
صدر پیزشکیان نے اپنے خطاب میں واضح کیا کہ ایرانی عوام اب امریکہ پر اعتماد نہیں کرتے کیونکہ اس نے بارہا وعدوں کی خلاف ورزی کی ہے۔ ایران اب بین الاقوامی قوانین کے دائرے میں رہ کر اپنے حقوق کے تحفظ پر اصرار کرتا ہے۔ پاکستان اور ایران کے درمیان بڑھتا ہوا تعاون نہ صرف دونوں ملکوں کے لیے بلکہ پورے مشرق وسطیٰ کے لیے سودمند ثابت ہو سکتا ہے۔
آخر میں یہ دورہ اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ پاکستان اپنی مغربی سرحد پر امن برقرار رکھنے کے لیے ایران کے ساتھ قریبی رابطے میں ہے۔ فیلڈ مارشل عاصم منیر کی تہران میں ہونے والی یہ ملاقاتیں آنے والے دنوں میں خطے کی سیاست پر گہرے اثرات مرتب کریں گی۔ دونوں ممالک اب ایک ایسے فریم ورک پر کام کر رہے ہیں جو دشمن کے عزائم کو ناکام بنانے اور استحکام لانے میں مددگار ہوگا۔