پسِ پردہ سفارت کاری: پاکستان نے ایران–امریکہ کشیدگی کیسے ختم کی؟

پاکستان نے ایران اور امریکہ کے درمیان جاری شدید کشیدگی کو ختم کرنے اور خطے کو ایک بڑی جنگ سے بچانے کے لیے ایک غیر معمولی اور تاریخی سفارتی مشن کامیابی سے مکمل کر لیا ہے۔ صحافی کامران یوسف نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنی ایک تفصیلی رپورٹ میں انکشاف کیا کہ اسلام آباد نے اپنی خاموش مگر انتہائی مؤثر سفارت کاری کے ذریعے تہران اور واشنگٹن کو ایک ایسے معاہدے پر راضی کیا ہے جس کی عالمی سطح پر توقع نہیں کی جا رہی تھی۔ اس اہم پیش رفت کے بعد مشرق وسطیٰ میں تناؤ کی کیفیت میں واضح کمی آئی ہے۔

جب پاکستان نے ایک ممکنہ ثالث کے طور پر اپنی خدمات پیش کرنے کا ارادہ ظاہر کیا تو ملک کے اندر اور باہر بہت سے حلقے اس حوالے سے شکوک و شبہات کا شکار تھے۔ مبصرین کا خیال تھا کہ شاید اسلام آباد کے پاس وہ اثر و رسوخ یا صلاحیت موجود نہیں کہ وہ ایران اور امریکہ جیسی طاقتوں کو ایک میز پر لا کر کسی بڑے معاہدے پر قائل کر سکے۔ تاہم پاکستان نے کسی بھی قسم کی تشہیر یا دعووں کے بجائے خاموشی سے اپنے کام پر توجہ مرکوز رکھی اور سفارتی چینلز کو فعال کیا۔

پاکستان کا کردار

پاکستان کی ان انتھک کوششوں کا پہلا بڑا نتیجہ دو ہفتوں کے سیز فائر کی صورت میں سامنے آیا جس نے مزید مذاکرات کے لیے زمین ہموار کی۔ اس کے فوراً بعد اسلام آباد میں ایک تاریخی آمنے سامنے کی ملاقات کا اہتمام کیا گیا جس میں دونوں فریقین کے نمائندوں نے شرکت کی۔ اگرچہ یہ ابتدائی ملاقات ڈیڈ لاک کو مکمل طور پر ختم کرنے میں ناکام رہی لیکن اس نے اس بات کی بنیاد رکھ دی کہ امن کا عمل جاری رہنا چاہیے اور سفارت کاری کے دروازے بند نہیں ہونے چاہئیں۔

اصل کہانی اس وقت شروع ہوئی جب پاکستان نے اس امن عمل کو گرنے سے بچانے کے لیے اپنی تمام تر سفارتی توانائیاں صرف کر دیں۔ ایران کی قیادت امریکی انتظامیہ پر بھروسہ کرنے کے لیے تیار نہیں تھی اور شکوک و شبہات کی فضا قائم تھی۔ اس مشکل گھڑی میں ایک انتہائی اہم اور جرات مندانہ فیصلہ کیا گیا جس کے تحت پاکستانی آرمی چیف نے خود تہران کا سفر کرنے اور ایرانی قیادت کے ساتھ براہ راست بات چیت کرنے کا فیصلہ کیا تاکہ اعتماد کی بحالی ممکن ہو سکے۔

خاموش سفارت کاری

آرمی چیف کا یہ دورہ تہران ایک انتہائی اعلیٰ خطرے والا اقدام تھا لیکن جیسا کہ فیلڈ مارشل کا قول ہے کہ جو ہمت کرتا ہے وہی جیتتا ہے۔ یہ دورہ اور اس کے بعد تہران میں ہونے والی اعلیٰ سطح کی ملاقاتیں فیصلہ کن ثابت ہوئیں جس نے پورے منظر نامے کو تبدیل کر دیا۔ اس سفارتی کامیابی کے نتیجے میں لبنان میں سیز فائر کا باقاعدہ اعلان کیا گیا اور اس کے بدلے میں ایران نے عالمی تجارت کے لیے انتہائی اہم سمندری گزرگاہ آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کا اعلان کیا۔

یہ سوال اب عالمی سطح پر زیر بحث ہے کہ آخر کس چیز نے پاکستان کی اس ثالثی کو اتنا مؤثر بنایا کہ وہ مقصد حاصل کر لیا گیا جو ناممکن نظر آتا تھا۔ اگرچہ پاکستان کے ایران کے ساتھ قریبی برادرانہ تعلقات ہیں اور ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کے ساتھ بھی اس کا ایک ورکنگ ریلیشن شپ قائم ہے لیکن کامیابی کی وجہ صرف یہی نہیں تھی۔ پاکستان کی ایک ایٹمی طاقت کے طور پر حیثیت اور اس کی مضبوط عسکری قیادت نے اس پورے عمل میں ریڑھ کی ہڈی کا کردار ادا کیا۔

آرمی چیف کا مشن

عمان یا قطر جیسے روایتی ثالثوں کے برعکس پاکستان کے پاس دفاعی اور تزویراتی لحاظ سے ایک منفرد مقام حاصل ہے جو اسے دوسرے ممالک سے ممتاز کرتا ہے۔ ایک ایٹمی طاقت اور مضبوط فوج رکھنے والا ملک ہونے کی ناطے پاکستان جیو اسٹریٹجک بساط کے تمام مہروں اور نیوکلیئر ڈائمینشن کو بخوبی سمجھتا ہے۔ پاکستان کو علاقائی سیکورٹی ڈھانچے اور سعودی عرب کے ساتھ اپنے گہرے دفاعی تعلقات کی وجہ سے وہ لیوریج حاصل تھا جو کسی اور کے پاس نہیں تھا۔

اسلام آباد نے ان تمام عوامل کو انتہائی دانشمندی سے استعمال کرتے ہوئے امن کے عمل کو پٹری سے اترنے نہیں دیا۔ تہران کو یہ واضح پیغام دیا گیا کہ اس مرحلے پر کیا گیا کوئی بھی معاہدہ ایران کے لیے ایک بڑی اسٹریٹجک جیت ثابت ہوگا۔ پاکستان نے ایرانی قیادت کو باور کرایا کہ اگر یہ موقع ہاتھ سے نکل گیا تو مستقبل انتہائی غیر یقینی ہو سکتا ہے اور شاید ایران کو دوبارہ ایسا فائدہ حاصل نہ ہو سکے جو اس وقت میز پر موجود ہے۔

امن کے ثمرات

پاکستان نے تہران کے ساتھ ساتھ واشنگٹن میں ٹرمپ انتظامیہ پر بھی اپنا اثر و رسوخ استعمال کیا تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ اسرائیل اس پورے عمل میں کوئی رکاوٹ پیدا نہ کرے۔ پاکستان کا مقصد ایک جامع علاقائی استحکام تھا جس میں تمام فریقین کے مفادات کا تحفظ ممکن ہو۔ بالآخر پاکستان نے وہ ہدف حاصل کر لیا جسے دنیا بھر کے ماہرین ناممکن قرار دے رہے تھے اور خطے کو ایک ایسی تباہی سے بچا لیا جس کے اثرات پوری دنیا پر مرتب ہو سکتے تھے۔

یہی وہ اہم وجوہات ہیں جن کی بنا پر صدر ڈونلڈ ٹرمپ اب پاکستان کی تعریف میں اس قدر پیش پیش ہیں اور عالمی سطح پر پاکستان کے کردار کو سراہا جا رہا ہے۔ پاکستان کی اس کامیابی نے ثابت کر دیا ہے کہ وہ نہ صرف ایک اہم علاقائی قوت ہے بلکہ عالمی تنازعات کے حل میں بھی کلیدی کردار ادا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس پیش رفت کے بعد مشرق وسطیٰ میں امن کی نئی راہیں کھلنے کی امید پیدا ہو گئی ہے جو عالمی معیشت کے لیے بھی خوش آئند ہے۔

ایک تبصرہ چھوڑ دو