اسلام آباد ہائی کورٹ میں عمران خان کی سزا معطلی کی سماعت کا مکمل احوال

اسلام آباد ہائی کورٹ میں القادر ٹرسٹ کیس کے حوالے سے سابق وزیر اعظم عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کی سزاؤں کے خلاف اپیلوں پر ایک اہم اور تفصیلی سماعت منعقد ہوئی۔ اس سماعت کی صدارت چیف جسٹس سرفراز ڈوگر اور جسٹس محمد آصف پر مشتمل دو رکنی بینچ نے کی۔

صحافی مطیع اللہ جان کے وی لاگ (ایم جے ٹی وی) میں بیرسٹر سلمان صفدر نے انکشاف کیا کہ عدالت کے سامنے اس وقت سب سے بڑا سوال یہ تھا کہ کیا مرکزی اپیلوں پر بحث کی جائے یا پہلے سزاؤں کی معطلی کی درخواستوں پر فیصلہ کیا جائے۔ یہ اپیلیں گزشتہ 15 ماہ سے زیر التوا تھیں جنہیں اب اچانک سماعت کے لیے مقرر کیا گیا ہے۔

عمران خان کی صحت اور بینائی سے متعلق تشویشناک دعوے

بیرسٹر سلمان صفدر نے اڈیالہ جیل میں عمران خان سے ہونے والی ملاقات کا احوال بتاتے ہوئے عدالت کو مطلع کیا کہ سابق وزیر اعظم کی ایک آنکھ کی بینائی بری طرح متاثر ہوئی ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ عمران خان کی آنکھ کی 85 فیصد بصارت ختم ہو چکی ہے اور صرف 15 فیصد باقی رہ گئی ہے۔

وکیل کے مطابق پمز ہسپتال کے ڈاکٹروں نے بھی اس بات کی تصدیق کی ہے کہ آنکھ کا یہ نقصان مستقل ہے اور اب اس کی بحالی ممکن نہیں رہی۔ انہوں نے مزید بتایا کہ عمران خان نے اس تلخ حقیقت کو تسلیم کر لیا ہے لیکن ان کے لیے سب سے زیادہ تکلیف دہ پہلو جیل میں دی جانے والی قید تنہائی ہے۔

قید تنہائی اور ذہنی تشدد کے الزامات

عدالتی کارروائی کے دوران عمران خان کے وکیل نے یہ نکتہ اٹھایا کہ ان کے موکل اور ان کی اہلیہ کو اڈیالہ جیل میں قید تنہائی میں رکھا جا رہا ہے جو کہ ذہنی تشدد کے مترادف ہے۔ بیرسٹر سلمان صفدر نے سوال اٹھایا کہ کیا احتساب عدالت کے فیصلے میں اس طرح کی قید لکھی گئی تھی۔

انہوں نے پاکستان پینل کوڈ کی دفعہ 73 کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ جیل حکام اپنی مرضی سے ایسی سزا نہیں دے سکتے۔ انہوں نے عدالت سے مطالبہ کیا کہ آئی جی جیل خانہ جات اور سپرنٹنڈنٹ جیل کو طلب کر کے اس معاملے کی وضاحت لی جائے کہ کس قانون کے تحت انہیں تنہائی میں رکھا جا رہا ہے۔

نیب کی پیشکش اور قانونی پیچیدگیاں

سماعت کے دوران نیب کی جانب سے یہ پیشکش سامنے آئی کہ اگر دفاعی وکلاء ضمانت کی درخواستیں واپس لے لیں تو مرکزی اپیلوں پر روزانہ کی بنیاد پر سماعت کر کے 7 سے 10 دنوں میں فیصلہ کیا جا سکتا ہے۔ تاہم بیرسٹر سلمان صفدر نے اس پیشکش پر تحفظات کا اظہار کیا۔

وکیل صفائی کا کہنا تھا کہ جب تک قید تنہائی اور طبی مسائل کا حل نہیں نکلتا تب تک اپیلوں پر بحث کرنا مناسب نہیں ہوگا۔ انہوں نے عدالت کو مشورہ دیا کہ اس معاملے پر آزادانہ قانونی ماہرین یا ‘ایمیکس کیوری’ (Amicus Curiae) کی رائے لی جائے تاکہ شفافیت برقرار رہے۔

عالمی فورمز پر بحث اور برطانوی پارلیمنٹ کا تذکرہ

بیرسٹر سلمان صفدر نے دوران سماعت یہ بھی تذکرہ کیا کہ القادر ٹرسٹ کیس اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی بازگشت اب برطانوی پارلیمنٹ میں بھی سنائی دے رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر مقامی عدالتیں انصاف فراہم نہیں کریں گی تو عالمی سطح پر یہ معاملات مزید سنگین رخ اختیار کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ نیلسن منڈیلا رولز اور اقوام متحدہ کے چارٹر کے مطابق کسی بھی قیدی کو غیر انسانی حالات میں رکھنا بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہے۔ عدالت نے ان تمام دلائل کو غور سے سنا اور پیر کے روز ان معاملات پر فیصلہ سنانے کا عندیہ دیا ہے۔

آئندہ کی حکمت عملی اور ریلیف کی توقعات

بیرسٹر سلمان صفدر نے مطیع اللہ جان سے گفتگو میں امید ظاہر کی کہ پیر کے روز عدالت سے انہیں ریلیف ملے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ وہ اپنی درخواستوں میں میڈیکل ریکارڈ کی طلبی اور آئی جی جیل خانہ جات کی پیشی پر اصرار کریں گے۔

انہوں نے مزید کہا کہ بشریٰ بی بی کی سزا معطلی کی درخواست بھی طبی بنیادوں پر زیر التوا ہے اور اس پر بھی جلد فیصلے کی ضرورت ہے۔ ان کے مطابق 15 ماہ کی طویل تاخیر کے بعد اب وقت آگیا ہے کہ انصاف کے تقاضے پورے کیے جائیں اور ملزمان کے قانونی حقوق کا تحفظ یقینی بنایا جائے۔

نیب ترامیم اور وفاقی آئینی عدالت کا اثر

سماعت کے دوران نیب قوانین میں ہونے والی حالیہ ترامیم کا بھی ذکر آیا۔ بیرسٹر سلمان صفدر نے اپنی رائے دیتے ہوئے کہا کہ ان کی نظر میں نیب کے مقدمات عام فوجداری مقدمات کی طرح ہیں جنہیں موجودہ سپریم کورٹ سننے کا مکمل اختیار رکھتی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ وہ وفاقی آئینی عدالت کی جانب جانے کے بجائے موجودہ عدالتی نظام سے ہی ریلیف کی توقع رکھتے ہیں۔ انہوں نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ نیب کی جانب سے بار بار تاخیری حربے استعمال کیے گئے جس کی وجہ سے یہ کیس اتنا طویل عرصہ لٹکا رہا۔

خلاصہ اور عدالتی توقعات

پوری سماعت کے دوران عدالت کا رویہ اپیلوں کو جلد نمٹانے کی جانب مائل نظر آیا۔ چیف جسٹس نے اشارہ دیا کہ وہ پیر کو ان اہم قانونی نکات پر اپنا فیصلہ دیں گے جن میں قید تنہائی کا خاتمہ اور سزا معطلی کی درخواستوں کی سماعت شامل ہے۔

دفاعی ٹیم کا کہنا ہے کہ وہ کسی بھی قیمت پر اپنے موکلین کے انسانی حقوق پر سمجھوتہ نہیں کریں گے۔ اب تمام نظریں پیر کی سماعت پر جمی ہیں جہاں یہ طے ہوگا کہ کیا عمران خان اور بشریٰ بی بی کو فوری طور پر کوئی ریلیف مل سکے گا یا قانونی جنگ مزید طوالت اختیار کرے گی۔

ایک تبصرہ چھوڑ دو