کیا ایران کے ساتھ جاری تنازع کے دوران پینٹاگون میں بغاوت ہو گئی؟

امریکہ اور ایران کے درمیان جاری شدید فوجی کشیدگی کے عین وسط میں پینٹاگون نے امریکی نیوی سیکریٹری جان فیلن کو ان کے عہدے سے ہٹا دیا ہے۔ ذرائع کے مطابق انہیں استعفیٰ دینے یا برطرفی کا سامنا کرنے کا حکم دیا گیا تھا جس نے دفاعی حلقوں میں ہلچل مچا دی ہے۔

پینٹاگون میں پیدا ہونے والا بڑا بحران

پینٹاگون کی جانب سے یہ اقدام ایران کے ساتھ جاری تنازع کے 54 ویں دن سامنے آیا ہے۔ اس وقت امریکی بحریہ کے 15 بحری جہاز مشرق وسطیٰ میں تعینات ہیں جو دوسری جنگ عظیم کے بعد سب سے بڑی ناکہ بندی کر رہے ہیں۔

اسی دوران ایرانی سرکاری میڈیا نے ایسی فوٹیج بھی جاری کی ہے جس میں ان کے فوجیوں کو آبنائے ہرمز میں کنٹینر جہازوں پر قبضہ کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ اس صورتحال میں قیادت کی تبدیلی کو انتہائی حساس قرار دیا جا رہا ہے۔

جان فیلن اور پیٹ ہیگستھ کے درمیان اختلافات

سی این این کی رپورٹ کے مطابق، وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ اور جان فیلن کے درمیان گزشتہ کئی ماہ سے سخت اختلافات چل رہے تھے۔ ہیگستھ بحری جہازوں کی اصلاحات کی سست رفتار اور فیلن کے کام کرنے کے طریقے سے نالاں تھے۔

جان فیلن جو کہ ایک بڑے ڈونر ہیں اور ان کا کوئی فوجی تجربہ نہیں ہے، وہ براہ راست صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے رابطے میں رہتے تھے۔ اس عمل کو پیٹ ہیگستھ اپنی اتھارٹی کی خلاف ورزی اور چین آف کمانڈ کی توہین تصور کرتے تھے۔

عالمی سطح پر اس کے اثرات اور خدشات

ریٹائرڈ لیفٹیننٹ جنرل مارک شوارٹز کا کہنا ہے کہ اگرچہ اس تبدیلی سے روزمرہ کی کارروائیاں متاثر نہیں ہوں گی، لیکن اس کے پیغام بہت خطرناک ہیں۔ ان کے مطابق ایران جیسے دشمن اسے امریکی دفاعی ادارے میں عدم استحکام کی علامت سمجھ سکتے ہیں۔

دی اٹلانٹک کی سینئر ایڈیٹر لورا سیکور نے مزید کہا کہ اس اقدام سے بین الاقوامی برادری میں افراتفری کا تاثر جائے گا۔ ان کے خیال میں اس وقت امریکی فوجی مقاصد اور ‘ریڈ لائنز’ کے حوالے سے پہلے ہی کافی الجھن موجود ہے۔

ایک تبصرہ چھوڑ دو