بیلجیئم کے وزیر خارجہ کا اسرائیل پر اندھا دھند حملوں کا الزام

بیلجیئم کے وزیر خارجہ میکسیم پریوٹ نے لبنان میں اسرائیل کی حالیہ فوجی کارروائیوں کو مکمل طور پر ناقابل قبول قرار دیتے ہوئے یورپی یونین سے اسرائیل کے ساتھ طے شدہ ایسوسی ایشن معاہدے کو جزوی طور پر معطل کرنے کا مطالبہ کر دیا ہے۔ رائٹرز نیوز ایجنسی کی ایک رپورٹ کے مطابق وزیر خارجہ نے یہ سخت بیان لکسمبرگ میں یورپی وزرائے خارجہ کے اہم اجلاس سے قبل میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے دیا۔

لبنان میں اسرائیلی فوجی کارروائی

بیلجیئم اسرائیل لبنان تنازع اب ایک نئی سفارتی موڑ پر پہنچ گیا ہے جہاں یورپی ممالک کے اندر اسرائیل کی پالیسیوں پر شدید اختلافات ابھر رہے ہیں۔ میکسیم پریوٹ نے واضح کیا کہ لبنان میں اسرائیل کا ردعمل غیر متناسب ہے جس میں عام شہریوں اور شہری ڈھانچے کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی قوانین کا احترام ہر ملک پر لازم ہے اور اسرائیل اس کی کھلی خلاف ورزی کر رہا ہے۔

وزیر خارجہ نے اس بات پر زور دیا کہ بیلجیئم اسرائیل لبنان تنازع کے حل کے لیے عالمی برادری کو اپنا موثر کردار ادا کرنا ہوگا۔ انہوں نے اسرائیلی افواج کی جانب سے لبنان کے گنجان آباد علاقوں میں کی جانے والی بمباری کو انسانی حقوق کے خلاف قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس قسم کی کارروائیاں خطے میں مزید نفرت اور عدم استحکام کا باعث بن رہی ہیں۔

پریوٹ نے حزب اللہ کے ان ابتدائی حملوں کی بھی مذمت کی جنہوں نے لبنان کو ایک ایسی جنگ میں دھکیل دیا جو اس کی عوام نہیں چاہتی تھی۔ تاہم انہوں نے اسرائیل کی جوابی کارروائی کو اندھا دھند قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے انسانی بحران جنم لے رہا ہے۔ بیلجیئم اسرائیل لبنان تنازع کے باعث اب تک لاکھوں افراد بے گھر ہو چکے ہیں۔

یورپی یونین اور اسرائیل کے تعلقات

یورپی یونین اور اسرائیل کے درمیان تجارتی اور سیاسی تعلقات ایک طویل عرصے سے ایسوسی ایشن معاہدے کے تحت قائم ہیں۔ بیلجیئم کے وزیر خارجہ نے تجویز دی ہے کہ اس معاہدے کی معطلی اسرائیل پر دباؤ ڈالنے کا ایک اہم ذریعہ ثابت ہو سکتی ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ اسرائیل کو یہ پیغام جانا چاہیے کہ انسانی حقوق کی پامالی کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے۔

میکسیم پریوٹ نے تسلیم کیا کہ یورپی یونین کے تمام رکن ممالک شاید مکمل معطلی پر متفق نہ ہوں کیونکہ بلاک کے اندر مختلف آراء موجود ہیں۔ جرمنی اور چیک ریپبلک جیسے ممالک عموماً اسرائیل کے دفاع کے حق کی حمایت کرتے ہیں جبکہ اسپین، آئرلینڈ اور بیلجیئم تنقیدی رویہ رکھتے ہیں۔ اس کے باوجود انہوں نے جزوی معطلی کو ایک عملی قدم قرار دیا۔

بیلجیئم اسرائیل لبنان تنازع کے تناظر میں یہ مطالبہ انتہائی اہمیت کا حامل ہے کیونکہ یورپی یونین اسرائیل کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار ہے۔ اگر یہ معاہدہ معطل ہوتا ہے تو اسرائیل کی معیشت اور سفارتی اثر و رسوخ کو بڑا دھچکا لگ سکتا ہے۔ وزیر خارجہ نے کہا کہ خاموشی اب کوئی آپشن نہیں رہی ہے۔

حزب اللہ کا کردار اور علاقائی کشیدگی

میکسیم پریوٹ نے اپنی گفتگو میں حزب اللہ کے اقدامات کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ ایران کے ساتھ یکجہتی کے نام پر لبنان کی سلامتی کو داؤ پر لگایا گیا۔ انہوں نے کہا کہ عسکریت پسند گروپ کے حملوں نے اسرائیل کو مداخلت کا بہانہ فراہم کیا ہے جس کا خمیازہ عام لبنانی عوام بھگت رہے ہیں۔ بیلجیئم اسرائیل لبنان تنازع کی جڑیں کئی دہائیوں پرانی ہیں۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ میکسیم پریوٹ خود اس جنگ کی شدت کا مشاہدہ کر چکے ہیں جب وہ رواں ماہ کے اوائل میں بیروت کے سفارتی مشن پر تھے۔ ایک اسرائیلی میزائل حملہ ان کے مقام سے محض چند سو میٹر کے فاصلے پر ہوا جس نے انہیں زمینی حقائق سے براہ راست آگاہ کیا۔ اس تجربے نے اسرائیل کے خلاف ان کے موقف کو مزید سخت کر دیا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ بیلجیئم اسرائیل لبنان تنازع میں صرف عسکری طاقت کا استعمال مسئلے کا حل نہیں ہے۔ لبنان کی خود مختاری کا احترام کیا جانا چاہیے اور کسی بھی غیر ملکی مداخلت کو فوری طور پر بند ہونا چاہیے۔ بین الاقوامی برادری کو چاہیے کہ وہ دونوں فریقین کو مذاکرات کی میز پر لانے کے لیے دباؤ بڑھائے۔

مشرق وسطیٰ میں مستقبل کی سفارتی صورتحال

بیلجیئم اسرائیل لبنان تنازع کے باعث مشرق وسطیٰ کا نقشہ تیزی سے تبدیل ہو رہا ہے اور سفارتی محاذ پر اسرائیل تنہائی کا شکار ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔ میکسیم پریوٹ کا یہ سخت بیان ظاہر کرتا ہے کہ اب مغربی ممالک میں اسرائیل کی فوجی پالیسیوں کے خلاف آوازیں بلند ہو رہی ہیں۔ یہ صورتحال مستقبل میں اسرائیل کے لیے مزید سفارتی مشکلات پیدا کر سکتی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر بیلجیئم کی تجویز پر دیگر یورپی ممالک نے بھی غور شروع کیا تو یہ ایک تاریخی تبدیلی ہوگی۔ بیلجیئم اسرائیل لبنان تنازع پر یورپی یونین کا اتحاد برقرار رکھنا اب ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے۔ مستقبل قریب میں لکسمبرگ اور برسلز میں ہونے والے اجلاسوں میں اس حوالے سے مزید اہم فیصلے متوقع ہیں۔

آخر میں میکسیم پریوٹ نے اعادہ کیا کہ بیلجیئم انسانی اقدار اور بین الاقوامی انصاف کے لیے اپنی آواز بلند کرتا رہے گا۔ بیلجیئم اسرائیل لبنان تنازع کا واحد حل فوری جنگ بندی اور انسانی امداد کی بلاتعطل فراہمی میں پنہاں ہے۔ انہوں نے عالمی برادری سے اپیل کی کہ وہ بے گناہ جانوں کے ضیاع کو روکنے کے لیے اپنا اثر و رسوخ استعمال کرے۔

ایک تبصرہ چھوڑ دو