AI
اسلام آباد میں امریکہ اور ایران کے درمیان ممکنہ مذاکرات کے لیے تیاریاں جاری ہیں لیکن غیر یقینی صورتحال نے خطے کو تذبذب میں ڈال دیا ہے۔ دارالحکومت کی سڑکوں پر سیکیورٹی کے سخت انتظامات اور ’اسلام آباد ٹاکس‘ کے پوسٹرز آویزاں ہیں جو کسی بڑے سفارتی بریک تھرو کی امید ظاہر کر رہے ہیں۔
بی بی سی کی ایک رپورٹ کے مطابق وائٹ ہاؤس نے تصدیق کی ہے کہ جے ڈی وینس کی قیادت میں ایک اعلیٰ سطح کا امریکی وفد پاکستان کا دورہ کرے گا۔ تاہم امریکی وفد کی آمد کا حتمی وقت تاحال واضح نہیں ہو سکا جس کی وجہ سے مذاکرات کے آغاز پر سوالیہ نشان لگ گیا ہے۔
ایران کی جانب سے ان مذاکرات میں شرکت کے حوالے سے اب تک کوئی مثبت اشارہ نہیں دیا گیا بلکہ تہران کے بیانات میں غصہ پایا جاتا ہے۔ ایرانی پارلیمنٹ کے سپیکر محمد باقر قالیباف نے واضح کیا ہے کہ ایران خطرات کے سائے میں کسی بھی قسم کے مذاکرات کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہے۔
ایرانی قیادت کے اندر بھی اس وقت سخت گیر نظریات کے حامل افراد سفارت کاری کے بجائے تنازعے کے انتخاب پر زور دے رہے ہیں۔ محمد باقر قالیباف جیسی شخصیات پر مسلسل دباؤ ڈالا جا رہا ہے کہ وہ امریکہ کے ساتھ کسی بھی قسم کے سمجھوتے سے گریز کریں کیونکہ کئی سینیئر رہنما حالیہ کشیدگی میں مارے جا چکے ہیں۔
جنگ بندی کی مدت ختم ہونے میں صرف ایک دن باقی ہے اور ابھی تک یہ واضح نہیں کہ آیا یہ امن مذاکرات حقیقت کا روپ دھار سکیں گے یا نہیں۔ عوامی سطح پر ہونے والی سیاسی بیان بازی کے باوجود سفارتی ماہرین پرامید ہیں کہ ایران پس پردہ اسلام آباد سفر کی تیاری کر رہا ہو گا۔