آبنائے ہرمز پر ایران کا حق ہے، روس کا اقوام متحدہ میں بڑا اعلان

نیویارک میں موجود اقوام متحدہ کے صدر دفتر میں عالمی سیاست کے حوالے سے ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ روس نے مشرق وسطیٰ کی کشیدہ صورتحال میں ایران کا بھرپور دفاع کرتے ہوئے اسے اپنے دفاع کے لیے اہم اقدامات کا حقدار قرار دیا ہے۔

الجزیرہ کی ایک تازہ رپورٹ کے مطابق روس کے مستقل مندوب واسیلی نیبنزیا نے کہا ہے کہ ایران کو اپنی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے آبنائے ہرمز میں بحری ٹریفک کو کنٹرول کرنے اور محدود کرنے کا پورا حق حاصل ہے۔ انہوں نے مغربی ممالک پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنی کارروائیوں کو چھپانے کے لیے قانون کا سہارا لیتے ہیں جبکہ دوسروں پر بلاوجہ الزامات عائد کرتے ہیں۔

مغربی ممالک پر بحری قزاقی کا الزام

روسی سفیر واسیلی نیبنزیا نے اپنے خطاب کے دوران مغربی طاقتوں کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے ان کے رویے کو بحری قزاقی کے مترادف قرار دیا ہے۔ ان کا موقف تھا کہ مغربی ممالک ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت تمام تر ذمہ داری ایران پر ڈالنے کی کوشش کر رہے ہیں، جیسے کہ تمام حملوں کا ذمہ دار وہی ہو۔

انہوں نے مزید کہا کہ وہ بحری قزاق جو اپنے جہازوں پر کھوپڑی والے کالے جھنڈے لہراتے ہیں، ان کے برعکس مغربی ممالک اپنے غیر قانونی اقدامات کو یکطرفہ جابرانہ اقدامات کا نام دے کر چھپانے کی کوشش کرتے ہیں۔ ان کے بقول یہ رویہ بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی اور سراسر منافقت پر مبنی ہے۔

سفارتی گفتگو کے دوران واسیلی نیبنزیا نے بین الاقوامی قانون کے ایک اہم نکتے کی جانب توجہ دلائی۔ انہوں نے واضح کیا کہ جنگی حالات کے دوران کوئی بھی ساحلی ریاست جو حملوں کی زد میں ہو، وہ اپنی سلامتی کی خاطر اپنی سمندری حدود میں جہاز رانی کو محدود کرنے کا اختیار رکھتی ہے۔

روسی مندوب نے یوکرین کے ذریعے بحیرہ اسود میں روسی تجارتی جہازوں پر ہونے والے حملوں کا تذکرہ بھی کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ یورپی ممالک ان حملوں کی حمایت کر رہے ہیں، جو کہ عالمی تجارت اور سمندری تحفظ کے حوالے سے ان کے دوہرے معیار کو ظاہر کرتا ہے۔

روسی سفیر کے مطابق ایران کو اپنے پڑوسیوں پر حملوں کا ذمہ دار ٹھہرانا حقیقت کے منافی ہے۔ انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ زمینی حقائق کو مدنظر رکھتے ہوئے کسی بھی ملک کے دفاعی حقوق کا احترام کرے، بجائے اس کے کہ صرف مخصوص سیاسی ایجنڈے کو فروغ دیا جائے۔

ایک تبصرہ چھوڑ دو