سام سنگ کے وارث لی جے یونگ کی کہانی: اقتدار، جیل اور خاندانی تنازعہ

دنیا کی بڑی کمپنیوں میں جب اقتدار کی تبدیلی ہوتی ہے تو عموماً عام لوگ اس پر توجہ نہیں دیتے۔ اگر مصنوعات کی فروخت بہتر ہو اور سروسز میں کوئی خلل نہ آئے تو بورڈ روم میں ہونے والی تبدیلیاں خبروں کی زینت نہیں بنتیں لیکن جنوبی کوریا کی مشہور کمپنی سام سنگ کے معاملے میں ایسا نہیں ہے۔

اس کمپنی کے پیچھے موجود خاندانی سلطنت اس قدر پیچیدہ اور ملکی معیشت کے لیے اتنی اہم ہے کہ اس کی ہر حرکت عالمی میڈیا کی سرخیوں میں جگہ بناتی ہے۔ بی بی سی کی ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق یہ سلسلہ اس وقت شدت اختیار کر گیا جب سنہ 2017 میں سام سنگ کے متوقع وارث لی جے یونگ، جنہیں جے وائی لی بھی کہا جاتا ہے، کو ایک بڑے بدعنوانی کے سکینڈل میں جیل بھیج دیا گیا۔

ایک عظیم کاروباری سلطنت کا آغاز اور اثر و رسوخ

سام سنگ کی بنیاد سنہ 1930 کی دہائی میں ایک عام کریانے کی دکان کے طور پر رکھی گئی تھی۔ اس وقت سے لے کر اب تک یہ مکمل طور پر لی خاندان کے مضبوط کنٹرول میں رہی ہے۔

مشہور مصنف جیفری کین نے اپنی کتاب ’سام سنگ رائزنگ‘ میں لی جے یونگ کو ٹیکنالوجی کی تاریخ کے طاقتور ترین افراد میں شمار کیا ہے۔ جنوبی کوریا میں اس خاندان کو ایک شاہی خاندان کا درجہ دیا جاتا ہے جنہوں نے اس کاروبار کو ایک عالمی طاقت میں تبدیل کر دیا ہے۔

اس سلطنت میں نہ صرف ٹیکنالوجی بلکہ انشورنس، میموری چپس اور تعمیرات جیسے بڑے شعبے بھی شامل ہیں۔ تاہم اس وسیع و عریض کاروبار کو خاندان کے قبضے میں رکھنے کے لیے انتہائی پیچیدہ انضمامات اور خریداریوں کا سہارا لیا گیا جس نے قانونی مسائل کو جنم دیا۔

بدعنوانی کا سکینڈل اور سیاسی بحران

سنہ 2015 میں جب لی جے یونگ کے والد اور اس وقت کے چیئرمین لی کن ہی دل کے دورے کے بعد ہسپتال میں تھے، تو جانشینی کا معاملہ غیر محفوظ تھا۔ ان پر الزام عائد کیا گیا کہ انہوں نے سابق صدر پارک گُن ہائے کی قریبی دوست کے زیرِ انتظام فاؤنڈیشنز کو بھاری رقوم فراہم کیں۔

استغاثہ کا دعویٰ تھا کہ ان رقوم کے بدلے میں ایک ایسے کاروباری انضمام کے لیے سیاسی حمایت حاصل کی گئی جس سے کمپنی پر ان کی گرفت مضبوط ہونی تھی۔ اس انضمام میں سام سنگ سی اینڈ ٹی اور چیئل انڈسٹریز کے درمیان حصص اور اکاؤنٹنگ میں فراڈ کے الزامات بھی لگائے گئے۔

اس سکینڈل نے سیول کی سڑکوں پر لاکھوں افراد کے احتجاج کو جنم دیا جس کے نتیجے میں ملک کے صدر کو بھی اپنے عہدے سے ہاتھ دھونا پڑے۔ اگرچہ لی جے یونگ ہمیشہ ان الزامات کی تردید کرتے رہے، لیکن 2017 میں انہیں رشوت دینے کے جرم میں سزا سنائی گئی۔

وراثت کا بھاری ٹیکس اور جانشینی کی جنگ

لی جے یونگ کو اپنے والد کی وفات کے بعد قیادت کے لیے منتخب تو کیا گیا لیکن ان کی راہ میں کئی رکاوٹیں تھیں۔ سب سے بڑا مسئلہ 10 ارب ڈالر سے زائد کا وراثتی ٹیکس تھا جس کی ادائیگی کے لیے حصص فروخت کرنے کی صورت میں خاندان کا کنٹرول ختم ہونے کا خطرہ تھا۔

دوسری جانب لی جے یونگ کی اپنی شخصیت پر بھی سوالات اٹھائے گئے کیونکہ ان کے والد انتہائی جارحانہ مزاج کے مالک تھے جبکہ انہیں شرمیلا اور محتاط سمجھا جاتا تھا۔ ان کی بہن کو ان سے زیادہ باصلاحیت قرار دیا گیا اور ان کے کچھ ذاتی منصوبوں کی ناکامی پر بھی تنقید کی گئی۔

یہ خاندان پہلے بھی جانشینی کی جنگوں سے گزر چکا ہے جب لی جے یونگ کے والد نے اپنے بڑے بھائیوں کو پیچھے چھوڑ کر قیادت حاصل کی تھی۔ ان کے چچا لی مینگ ہی نے چالیس سال بعد قانونی دعویٰ دائر کر کے اس وراثت کو واپس لینے کی کوشش کی تھی جس سے خاندان کے اندرونی اختلافات کھل کر سامنے آ گئے تھے۔

عدالتی بریت اور مستقبل کا نیا وعدہ

جولائی 2025 میں سیول ہائی کورٹ نے لی جے یونگ کی بریت کو برقرار رکھتے ہوئے ان کے خلاف ایک دہائی سے جاری فوجداری الزامات کا خاتمہ کر دیا۔ اس فیصلے نے سام سنگ کے چیئرمین کو بڑی راحت فراہم کی اور ان کی قیادت پر موجود قانونی بادلوں کو چھانٹ دیا۔

تاہم اس قانونی جنگ کے دوران لی جے یونگ نے ایک ایسا اعلان کیا جس نے سب کو حیران کر دیا۔ انہوں نے وعدہ کیا کہ وہ اب اپنی اولاد کو انتظامی حقوق منتقل نہیں کریں گے اور جانشینی سے متعلق کوئی نیا تنازع پیدا نہیں ہونے دیں گے۔

یہ فیصلہ جنوبی کوریا کے خاندانی کاروباروں کی تاریخ میں ایک بہت بڑی تبدیلی کی علامت سمجھا جا رہا ہے۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر یہ عظیم سلطنت لی خاندان کے پاس نہیں رہے گی تو مستقبل میں اس کی باگ ڈور کون سنبھالے گا؟

ایک تبصرہ چھوڑ دو