عمران خان کی قید کے ایک ہزار دن اور معید پیرزادہ کا تجزیہ

ڈاکٹر معید پیرزادہ نے اپنے حالیہ وی لاگ میں پاکستان کی سیاست اور عالمی منظر نامے پر تفصیلی تبصرہ کیا ہے۔ انہوں نے عمران خان کی اڈیالہ جیل میں قید کے ایک ہزار دن مکمل ہونے پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔

تجزیہ کار کے مطابق اسلام آباد ہائی کورٹ میں جاری سماعتوں کے باوجود موجودہ حالات میں عمران خان کی رہائی کے امکانات بہت کم نظر آتے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ ملک کا موجودہ قانونی اور سیاسی ڈھانچہ ان کی رہائی کی راہ میں بڑی رکاوٹ بنا ہوا ہے۔

معید پیرزادہ نے اس موقع پر ایک پرانے سیاسی کارکن کا حوالہ دیا جس نے عمران خان کی قید کا موازنہ ذوالفقار علی بھٹو سے کیا۔ اس گفتگو میں یہ بات سامنے آئی کہ عوام کی ایک بڑی اکثریت عمران خان کو تمام الزامات سے مکمل طور پر معصوم سمجھتی ہے۔

پاکستان میں آئینی ترامیم اور سویلین حکمرانی کا مستقبل

پاکستان کی موجودہ فوجی اور سیاسی قیادت کے اقدامات پر تنقید کرتے ہوئے معید پیرزادہ نے دعویٰ کیا کہ ملک میں آئینی بحران شدت اختیار کر چکا ہے۔ ان کے مطابق چھبیسویں، ستائیسویں اور مجوزہ اٹھائیسویں ترامیم ملک کو ایک ایسی آمریت کی طرف لے جا رہی ہیں جس پر سویلین لبادہ اوڑھا گیا ہے۔

انہوں نے اپنی گفتگو میں اسلام آباد میں ہونے والے تحریک انصاف کی قیادت کے اسٹریٹجک اجلاس کا بھی ذکر کیا۔ ان کا ماننا ہے کہ یہ ترامیم محض سیاسی نہیں بلکہ ریاست کے بنیادی ڈھانچے کو تبدیل کرنے کی ایک منظم کوشش ہیں۔

اس کے ساتھ ہی انہوں نے پراپرٹی ٹائیکون ملک ریاض اور ان کے بیٹے کے خلاف انٹرپول کے ریڈ نوٹسز پر بھی بات کی۔ معید پیرزادہ نے ان نوٹسز کی ٹائمنگ اور متحدہ عرب امارات کے ساتھ پاکستان کے تعلقات کا باریک بینی سے جائزہ لیا ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ کی ایران کو دھمکی اور عالمی جنگ کا خطرہ

عالمی سیاست پر بات کرتے ہوئے معید پیرزادہ نے ڈونلڈ ٹرمپ کی سوشل میڈیا پوسٹ کا حوالہ دیا جس میں وہ ایک خودکار ہتھیار کے ساتھ ایران کو دھمکیاں دے رہے ہیں۔ انہوں نے ایرانی ماہرین کے حوالے سے بتایا کہ تہران میں امریکہ کے ممکنہ فوجی حملے کا شدید خوف پایا جا رہا ہے۔

ان کے مطابق ٹرمپ کا یہ جارحانہ انداز عالمی امن کے لیے ایک بڑا خطرہ بن سکتا ہے۔ اس صورتحال نے نہ صرف مشرق وسطیٰ بلکہ پوری دنیا کی معیشت کو خطرے میں ڈال دیا ہے جس کے اثرات جلد نمایاں ہوں گے۔

پیرزادہ نے مزید کہا کہ ایران کے خلاف کسی بھی قسم کی فوجی کارروائی کے نتیجے میں عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں کنٹرول سے باہر ہو سکتی ہیں۔ اس وقت بھی برینٹ کروڈ کی قیمتیں ایک سو چھبیس ڈالر تک پہنچ چکی ہیں جو عالمی معاشی بحران کا پیش خیمہ ہے۔

امریکی معیشت اور پینٹاگون کے بجٹ پر جاری تنازع

امریکی اندرونی سیاست کا ذکر کرتے ہوئے معید پیرزادہ نے بتایا کہ پینٹاگون کے پانچ ٹریلین ڈالر کے بجٹ پر امریکی کانگریس میں سخت لڑائی جاری ہے۔ قانون سازوں کے درمیان پچیس بلین ڈالر کے پہلے سے کیے گئے اخراجات پر شدید اختلاف پایا جاتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق امریکہ کے پاس ہتھیاروں اور میزائلوں کے ذخائر تیزی سے ختم ہو رہے ہیں جس پر امریکی حکام پریشان ہیں۔ اس کمی کی وجہ سے امریکہ کی عالمی دفاعی پوزیشن کمزور ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

اس کے ساتھ ہی ڈونلڈ ٹرمپ کو فیڈرل ریزرو کی جانب سے بھی مزاحمت کا سامنا ہے۔ فیڈرل ریزرو کے سربراہ جیروم پاول نے اپنی مدت ملازمت ختم ہونے سے پہلے استعفیٰ دینے سے صاف انکار کر دیا ہے، جو ٹرمپ کے لیے ایک بڑا سیاسی چیلنج ہے۔

جرمنی سے فوج نکالنے کی دھمکی اور یورپی اتحاد

معید پیرزادہ نے جرمنی اور امریکہ کے درمیان بڑھتے ہوئے تناؤ پر بھی روشنی ڈالی ہے۔ جرمن چانسلر کی جانب سے مشرق وسطیٰ میں امریکی حکمت عملی پر تنقید نے ٹرمپ کو برہم کر دیا ہے۔

جواب میں ڈونلڈ ٹرمپ نے جرمنی سے اپنے پینتیس ہزار فوجی نکالنے کی دھمکی دے دی ہے۔ اس اقدام سے یورپی اتحاد اور نیٹو کی مضبوطی پر سوالات اٹھ رہے ہیں جو کہ روس کے خلاف ایک اہم دفاعی دیوار سمجھی جاتی ہے۔

آخر میں انہوں نے خبردار کیا کہ اگر امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی بڑھتی ہے تو اس کا براہ راست اثر پاکستان کی معیشت پر بھی پڑے گا۔ تیل کی قیمتوں میں اضافہ پاکستان میں مہنگائی کا ایک نیا طوفان لا سکتا ہے جس سے نمٹنا موجودہ حکومت کے لیے ناممکن ہوگا۔

ایک تبصرہ چھوڑ دو