حیاتیاتی علوم اور مصنوعی ذہانت کا ملاپ: سائنسی مستقبل کی نئی سمت

انسٹی ٹیوٹ آف بائیولوجیکل سائنسز نے حال ہی میں ڈی این اے ڈے کی مناسبت سے ایک پروقار اور علمی تقریب کا انعقاد کیا۔ اس ایونٹ کا بنیادی مقصد روایتی حیاتیاتی سائنس اور ابھرتی ہوئی مصنوعی ذہانت کے مابین تعلق کو واضح کرنا تھا۔

مصنوعی ذہانت اور حیاتیاتی سائنس کا جدید ملاپ

خواجہ فرید یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ انفارمیشن ٹیکنالوجی کی جانب سے جاری کردہ معلومات کے مطابق اس تقریب کا افتتاح پروفیسر ڈاکٹر شہزاد مرتضیٰ نے کیا۔ انہوں نے ادارے کی تعلیمی فضیلت اور اختراعی سیکھنے کے ماحول کو برقرار رکھنے کی کوششوں کو بے حد سراہا۔

اپنے خطاب کے دوران انہوں نے مستقبل کے سائنسی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے بائیولوجیکل سائنسز کو جدید ٹیکنالوجی کے ساتھ منسلک کرنے پر زور دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اے آئی کا استعمال تحقیق کے شعبے میں نئے افق روشن کر سکتا ہے۔

معزز مہمانوں کی شرکت اور علمی گفتگو

اس تقریب میں مختلف شعبہ جات کے سربراہان نے بطور مہمان خصوصی شرکت کی جن میں ڈاکٹر جلت خان اور ڈاکٹر فرحان شامل تھے۔ ان کے علاوہ ڈاکٹر تنویر، انجینیئر ڈاکٹر سیف الرحمن اور ڈاکٹر طارق نے بھی اپنی موجودگی سے تقریب کی اہمیت کو بڑھایا۔

پروفیسر ڈاکٹر عطا علی الطاف نے بھی اس موقع پر اپنے خیالات کا اظہار کیا اور سائنسی تحقیق کی ترویج پر زور دیا۔ ادارے کے ڈائریکٹر نے تمام معزز مہمانوں کی جانب سے دی گئی حوصلہ افزائی اور فیڈ بیک پر ان کا شکریہ ادا کیا۔

طلبہ کی تخلیقی صلاحیتوں کا شاندار مظاہرہ

تقریب کی کامیابی میں منتظمین مس زینب علی اور مسٹر شاہد چولستانی نے کلیدی کردار ادا کیا۔ ان کی انتھک محنت کی بدولت ایونٹ کے تمام مراحل نہایت خوش اسلوبی کے ساتھ مکمل ہوئے اور نظم و ضبط برقرار رہا۔

ایونٹ کے دوران طلبہ نے مختلف سائنسی پوسٹرز اور تحقیقی منصوبے پیش کیے جو ان کی گہری علمی سوچ کا ثبوت تھے۔ ماہرین نے طلبہ کے ان اختراعی آئیڈیاز اور سائنسی تجسس کی تعریف کرتے ہوئے انہیں مستقبل کا اثاثہ قرار دیا۔

ایک تبصرہ چھوڑ دو