Ai
آبنائے ہرمز پر ایران اور امریکہ کے درمیان جاری حالیہ سفارتی کوششوں نے خلیجی ممالک میں گہری تشویش اور بے چینی پیدا کر دی ہے جس سے خطے کے مستقبل پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔ رائٹرز کی ایک خصوصی رپورٹ کے مطابق خلیجی ریاستوں کو خدشہ ہے کہ یہ مذاکرات صرف عالمی سطح پر تیل کی ترسیل کو یقینی بنانے تک محدود رہ سکتے ہیں۔ اس صورتحال میں خلیجی ممالک کے اصل سیکیورٹی خدشات جیسا کہ ایران کا میزائل پروگرام اور اس کے علاقائی پراکسی گروہ مکمل طور پر نظر انداز ہونے کا امکان ہے۔
آبنائے ہرمز اور مذاکرات کا نیا رخ
ایران اور امریکہ کے درمیان سفارت کاری کا مرکز اب ایران کے میزائل پروگرام کو رول بیک کرنے کے بجائے یورینیم کی افزودگی کی حد مقرر کرنے پر مرکوز ہو چکا ہے۔ سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ واشنگٹن اب خاموشی سے آبنائے ہرمز پر تہران کے اثر و رسوخ کو تسلیم کرنے کی طرف بڑھ رہا ہے جو کہ ایک خطرناک رجحان ہے۔ خلیجی حکام کے مطابق یہ نقطہ نظر ایران کے قبضے کو ختم کرنے کے بجائے اسے صرف مینیج کرنے کی ایک کوشش ہے جس سے خطے کے ممالک تنہا رہ جائیں گے۔
آبنائے ہرمز دنیا کی سب سے اہم تیل کی گزرگاہ ہے جہاں سے عالمی تیل کی سپلائی کا تقریباً پانچواں حصہ گزرتا ہے جو اسے ایک کلیدی اہمیت کا حامل بناتا ہے۔ ایک خلیجی سرکاری ذریعے نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ اب آبنائے ہرمز ایران کے لیے ایک ریڈ لائن بن چکی ہے جو پہلے کبھی نہیں تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ مذاکرات کے اہداف تبدیل ہو چکے ہیں اور اب تمام تر توجہ صرف عالمی معاشی استحکام پر دی جا رہی ہے جو تشویشناک ہے۔
ایران کا دفاعی ہتھیار اور روسی موقف
روس کے سابق صدر دمتری میدویدیف نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک بیان میں آبنائے ہرمز کو ایران کا ایٹمی ہتھیار قرار دیا ہے جو تہران کی طاقت کو ظاہر کرتا ہے۔ میدویدیف کا کہنا تھا کہ اگرچہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان معاہدے کا نتیجہ واضح نہیں لیکن یہ طے ہے کہ ایران نے اپنی جغرافیائی پوزیشن کو ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کیا ہے۔ یہ بیان اس حقیقت کی عکاسی کرتا ہے کہ ایران نے ایٹمی حد عبور کیے بغیر ہی دنیا کے لیے اپنی اہمیت اور خطرے کو منوا لیا ہے۔
ایرانی سیکیورٹی حکام کا نجی طور پر یہ ماننا ہے کہ آبنائے ہرمز کوئی ہنگامی آپشن نہیں بلکہ ایک طویل عرصے سے تیار کردہ دفاعی آلہ کار ہے جو دشمن کو روکنے کے کام آتا ہے۔ ایک سینئر ایرانی سیکیورٹی ذریعے نے بتایا کہ ایران نے برسوں سے آبنائے ہرمز کو بند کرنے کے ہر پہلو پر منصوبہ بندی کر رکھی ہے تاکہ اسے ایک موثر دفاعی ہتھیار بنایا جا سکے۔ ان کے بقول یہ ایران کا وہ سنہرا اثاثہ ہے جو اس کے جغرافیے میں جڑا ہوا ہے اور دنیا اسے کسی صورت ایران سے چھین نہیں سکتی۔
خلیجی ریاستوں کے تحفظات اور امریکی کردار
متحدہ عرب امارات کے ایمریٹس پالیسی سینٹر کی صدر ابتسام الکتبی نے رائٹرز کو بتایا کہ جو کچھ آج ہو رہا ہے وہ کوئی تاریخی تصفیہ نہیں بلکہ ایک منظم تنازع کی انجینئرنگ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ میزائلوں اور ایرانی پراکسیز سے سب سے زیادہ نقصان اسرائیل اور خلیجی ریاستوں کو ہو رہا ہے لیکن مذاکرات میں ان مسائل کو اہمیت نہیں دی جا رہی۔ خلیجی ماہرین کا خیال ہے کہ امریکہ صرف اپنی معیشت کو بچانے کے لیے ایران کے ساتھ سودے بازی کر رہا ہے جبکہ خطے کے اتحادیوں کو نظر انداز کیا جا رہا ہے۔
سعودی عرب میں قائم گلف ریسرچ سینٹر کے چیئرمین عبدالعزیز صقر کا کہنا ہے کہ ایران کے معاملے سے نمٹنے کے لیے ایک مختلف اور جامع نقطہ نظر کی ضرورت ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ امریکہ علاقائی سلامتی کا حصہ تو ہے لیکن اسے خلیجی ممالک کو شامل کیے بغیر یکطرفہ فیصلے نہیں کرنے چاہئیں۔ خلیجی ممالک میں واشنگٹن کے ان اقدامات پر خاموش ناراضگی اور الجھن پائی جاتی ہے کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ ان کی بقا داؤ پر لگی ہوئی ہے۔
خطے کی سیکیورٹی اور مستقبل کے چیلنجز
متحدہ عرب امارات کے ماہر تعلیم عبدالخالق عبداللہ نے نشاندہی کی کہ خلیجی ممالک اب تک اپنی دفاعی صلاحیتوں اور امریکی ساختہ پیٹریاٹ اور تھاڈ سسٹمز کی بدولت محفوظ رہے ہیں۔ تاہم ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ صرف ایک بیرونی محافظ پر انحصار کرنے کی اپنی حدود ہوتی ہیں جنہیں نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ حالیہ جنگ کے دوران خلیجی ممالک نے یہ سبق سیکھا ہے کہ بین الاقوامی قوانین کے بجائے اب طاقت پر مبنی انتظامات کی طرف رجحان بڑھ رہا ہے جو کہ ایک نیا چیلنج ہے۔
دبئی میں قائم ریسرچ سینٹر کے ڈائریکٹر محمد بہارون کے مطابق موجودہ صورتحال نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ کسی ایک طاقت پر مکمل انحصار کرنا اب ممکن نہیں رہا۔ خلیجی حکام کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز کا مسئلہ اب صرف علاقائی نہیں رہا بلکہ ایک عالمی مسئلہ بن چکا ہے جس پر تمام فریقین کو مل کر سوچنا ہوگا۔ اگر واشنگٹن اور تہران کے مذاکرات میں خلیجی سیکیورٹی کو شامل نہ کیا گیا تو خطے میں طویل مدتی عدم استحکام پیدا ہونے کا قوی خدشہ موجود رہے گا۔
اکثر پوچھے گئے سوالات
سوال: آبنائے ہرمز عالمی معیشت کے لیے کیوں اہم ہے؟
جواب: آبنائے ہرمز سے دنیا بھر کے تیل کی سپلائی کا 20 فیصد گزرتا ہے اس لیے اس کی بندش سے عالمی معیشت اور تیل کی قیمتوں پر شدید اثر پڑ سکتا ہے۔
سوال: خلیجی ممالک ایران امریکہ مذاکرات سے کیوں پریشان ہیں؟
جواب: خلیجی ریاستوں کو خدشہ ہے کہ امریکہ ایران کے میزائل پروگرام اور علاقائی مداخلت کو روکنے کے بجائے صرف آبنائے ہرمز کو کھلا رکھنے پر سمجھوتہ کر لے گا۔
سوال: ایران آبنائے ہرمز کو کیسے استعمال کرتا ہے؟
جواب: ایران اس آبنائے کو اپنے جغرافیائی ہتھیار کے طور پر استعمال کرتا ہے تاکہ عالمی طاقتوں پر دباؤ بڑھا سکے اور اپنی سیکیورٹی کو یقینی بنا سکے۔