عمران خان کی صحت اور پاکستان کی بدلتی ہوئی سیاسی و سفارتی صورتحال

پاکستان کے موجودہ سیاسی بحران میں سابق وزیر اعظم عمران خان کی صحت کے حوالے سے تشویشناک اطلاعات موصول ہو رہی ہیں۔ تجزیہ کار اطہر کاظمی نے اپنے حالیہ تجزیے میں انکشاف کیا ہے کہ عمران خان کو گزشتہ پانچ ماہ سے اپنے اہل خانہ، ڈاکٹروں اور پارٹی قیادت سے ملاقات کرنے کی اجازت نہیں دی گئی۔

اس صورتحال نے ان کی صحت کے حوالے سے کئی سوالات کو جنم دیا ہے۔ خاص طور پر ان کی آنکھوں میں ہونے والے انفیکشن نے ان کے چاہنے والوں میں بے چینی پیدا کر دی ہے۔

رپورٹ کے مطابق یہ ایک عجیب اتفاق ہے کہ پہلے بشریٰ بی بی کی آنکھوں میں تکلیف کی خبر آئی۔ اب تحریک انصاف کی کارکن صنم جاوید بھی جیل میں آنکھوں کے شدید انفیکشن کا شکار ہو چکی ہیں۔

صنم جاوید کے شوہر کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ انہیں اور ایک دوسری کارکن عالیہ کو کئی ماہ سے منشیات کے عادی افراد کے ساتھ ایک تنگ بارک میں رکھا گیا ہے۔ وہاں انہیں طبی سہولیات فراہم نہیں کی جا رہی ہیں جو کہ انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔

اگر حکومت نے اپریل کے اختتام تک ملاقاتوں پر پابندی برقرار رکھی تو تحریک انصاف نئی حکمت عملی کا اعلان کر سکتی ہے۔ پارٹی قیادت اس وقت عالمی سفارتی سرگرمیوں کے ٹھنڈا ہونے کا انتظار کر رہی ہے جس کے بعد فائنل کال دی جا سکتی ہے۔

عالمی سفارت کاری اور مشرق وسطیٰ میں کشیدگی

مشرق وسطیٰ میں ایران، اسرائیل اور امریکا کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی میں پاکستان ایک اہم سفارتی کردار ادا کر رہا ہے۔ ایران کے وزیر خارجہ نے عمان کے دورے کے بعد حال ہی میں پاکستان کا دورہ کیا جو کہ انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔

خطے میں تناؤ کم کرنے کے لیے روس، چین، ترکیہ اور سعودی عرب بھی متحرک نظر آ رہے ہیں۔ سعودی عرب اور ایران کی قیادت کے درمیان براہ راست ٹیلیفونک رابطہ ہوا ہے جو خوش آئند قرار دیا جا رہا ہے۔

دوسری جانب روس کے وزیر دفاع نے شمالی کوریا کا دورہ کیا ہے جبکہ ایران کے حکام ماسکو میں اہم ملاقاتیں کر رہے ہیں۔ یہ تمام سرگرمیاں اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہیں کہ عالمی طاقتیں خطے میں کسی بڑے تصادم کو روکنا چاہتی ہیں۔

علاقائی ممالک عارضی جنگ بندی کے بجائے ایک مستقل حل تلاش کر رہے ہیں۔ اس مقصد کے لیے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے ایسی ضمانتیں مانگی جا رہی ہیں جن سے مستقبل میں جنگ کے دوبارہ آغاز کو روکا جا سکے۔

اسلام آباد کی بندش اور کاروباری نقصانات

وفاقی دارالحکومت اسلام آباد اور راولپنڈی میں حالیہ احتجاج اور سیکیورٹی اقدامات کی وجہ سے عوام کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ ریڈ زون کے اطراف میں راستوں کی بندش سے مقامی کاروبار بری طرح متاثر ہوئے۔

رپورٹ کے مطابق سرینا ہوٹل اور ریڈ زون کے قریبی بڑے ریستورانوں اور ہوٹلوں کے کاروبار میں 50 فیصد سے زائد کمی واقع ہوئی۔ اس بندش نے معیشت کو کروڑوں روپے کا نقصان پہنچایا ہے۔

نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر اطلاع دی ہے کہ اب ان راستوں کو کھول دیا گیا ہے۔ انہوں نے سیکیورٹی اقدامات کے دوران تعاون کرنے پر عوام کا شکریہ بھی ادا کیا ہے۔

لندن میں طاہر اشرفی کے ساتھ پیش آنے والا واقعہ

مذہبی اسکالر طاہر اشرفی کو حال ہی میں لندن کے دورے کے دوران عوامی مقامات پر لوگوں کے سخت سوالات اور احتجاج کا سامنا کرنا پڑا۔ اس واقعے کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر کافی وائرل ہوئیں۔

تجزیہ کار اطہر کاظمی کا کہنا ہے کہ اگرچہ علماء کا احترام ضروری ہے لیکن مغربی معاشروں میں عوامی شخصیات کو ایسے حالات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ وہاں کی پولیس عام شہریوں کی آزادی پر قدغن نہیں لگاتی۔

آزاد معاشروں میں ہر کسی کو سوال کرنے کا حق حاصل ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہاں عوامی شخصیات کو اپنی کارکردگی اور بیانات پر عوام کے سامنے جوابدہ ہونا پڑتا ہے۔

پاکستان ریلوے کی ویڈیو بنانے پر پابندی

پاکستان ریلوے نے ایک نوٹس جاری کیا ہے جس کے تحت اب ویڈیو بنانے والے، صحافی اور ڈیجیٹل تخلیق کار پیشگی اجازت کے بغیر ریلوے کی حدود میں فلم بندی نہیں کر سکیں گے۔

اس فیصلے پر کڑی تنقید کی جا رہی ہے کیونکہ دنیا بھر میں ٹرینوں کے سفر کی ویڈیوز سے سیاحت کو فروغ ملتا ہے۔ اس قسم کی پابندیاں ملک کے مثبت تشخص کو نقصان پہنچاتی ہیں۔

عوامی مقامات پر بلاوجہ کی پابندیاں ملک کو عالمی سطح پر تنہا کر سکتی ہیں۔ انڈونیشیا جیسے ممالک کی مثال موجود ہے جہاں سیاحت کو فروغ دینے کے لیے ایسی سرگرمیوں کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے۔

سی ڈی اے میں بدعنوانی کا ناسور

وفاقی وزیر محسن نقوی نے حال ہی میں اعتراف کیا ہے کہ کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی یعنی سی ڈی اے میں ایک معمولی کام کروانے کے لیے بھی ایک لاکھ روپے تک کی رشوت دینی پڑتی ہے۔

اس حوالے سے ایک سابق اعلیٰ سفارت کار کی کہانی بھی سامنے آئی ہے جن کے تعلقات براہ راست وزرائے اعظم سے تھے۔ اس کے باوجود انہیں اپنا مکان کا کام کروانے کے لیے رشوت دینی پڑی تاکہ چھ ماہ کی تاخیر سے بچا جا سکے۔

یہ واقعہ ظاہر کرتا ہے کہ بدعنوانی کس طرح نظام کی جڑوں میں بیٹھ چکی ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ ان اداروں کی صفائی کرے تاکہ عام شہری اور معزز افراد ذلت سے بچ سکیں اور ان کے مسائل میرٹ پر حل ہوں۔

ایک تبصرہ چھوڑ دو