IHC
پاکستان کے عدالتی نظام میں ایک غیر معمولی اور دور رس تبدیلیوں کا سلسلہ شروع ہو چکا ہے جس نے قانونی اور سیاسی حلقوں میں ہلچل مچا دی ہے۔ مشہور صحافی اور تجزیہ کار اجمل جامی نے اپنے حالیہ وی لاگ میں انکشاف کیا ہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے تین سینئر ججز کے تبادلے کے احکامات جاری کیے جا رہے ہیں۔
ان ججز میں جسٹس بابر ستار، جسٹس سامن رفعت امتیاز اور جسٹس محسن اختر کیانی شامل ہیں۔ ان تبادلوں کو نئی آئینی ترامیم کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے جنہوں نے جوڈیشل کمیشن کو ججز کی مرضی کے بغیر ان کی منتقلی کا اختیار دیا ہے۔
نئے آئینی ڈھانچے کے تحت عدالتی تبادلے
حالیہ منظور شدہ چھبیسویں اور ستائیسویں آئینی ترمیم نے پاکستان کے عدالتی نقشے کو تبدیل کر کے رکھ دیا ہے۔ ان ترامیم کے تحت اب جوڈیشل کمیشن کے پاس یہ طاقت ہے کہ وہ کسی بھی ہائی کورٹ کے جج کو دوسرے صوبے کی ہائی کورٹ میں منتقل کر سکے۔
اجمل جامی کے مطابق اس نئی اتھارٹی کا استعمال کرتے ہوئے جسٹس بابر ستار کو پشاور ہائی کورٹ منتقل کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اسی طرح جسٹس سامن رفعت امتیاز کو سندھ ہائی کورٹ اور جسٹس محسن اختر کیانی کو لاہور ہائی کورٹ بھیجے جانے کی اطلاعات ہیں۔
آزادانہ طرز عمل اور حکومتی حکمت عملی
تجزیہ کار نے ان تبادلوں کے پیچھے چھپے مقاصد پر روشنی ڈالتے ہوئے دعویٰ کیا کہ اس کا مقصد ججز کی حوصلہ شکنی کرنا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ جو ججز آزادانہ فیصلے کرتے ہیں یا حکومتی پالیسیوں کے خلاف جاتے ہیں، انہیں اس طرح کے تبادلوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
انہوں نے اس صورتحال کو ایک مثال سے واضح کیا کہ یہ بالکل ایسا ہی ہے جیسے کسی سیشن جج کو لاہور سے راجن پور منتقل کر دیا جائے۔ یہ اقدام ججز کو ایک پیغام دینے کی کوشش ہے کہ وہ اپنے رویوں میں لچک پیدا کریں یا دور دراز علاقوں میں منتقلی کے لیے تیار رہیں۔
لاہور ہائی کورٹ میں متوقع تبدیلیاں
تبادلوں کا یہ سلسلہ صرف وفاقی دارالحکومت تک محدود نہیں رہے گا بلکہ اس کا اگلا ہدف لاہور ہائی کورٹ ہے۔ اجمل جامی کا دعویٰ ہے کہ وہاں سے تقریباً 6 سے 7 ججز کو دوسرے صوبوں میں بھیجنے کی تیاری مکمل کر لی گئی ہے۔
ان میں سے 2 یا 3 ججز کو بلوچستان بھیجا جا سکتا ہے جو کہ ایک مشکل سٹیشن سمجھا جاتا ہے۔ اس اقدام کا مقصد عدلیہ کے اندر موجود ان عناصر کی صفائی کرنا بتایا جا رہا ہے جو اسٹیبلشمنٹ یا حکومت کے لیے چیلنج بن رہے ہیں۔
استعفوں کی بازگشت اور مستقبل کی حکمت عملی
عوامی سطح پر یہ قیاس آرائیاں کی جا رہی ہیں کہ یہ ججز اپنے تبادلوں کے فوری بعد احتجاجاً استعفیٰ دے دیں گے۔ تاہم اجمل جامی کے ذرائع کچھ اور ہی کہانی بیان کرتے ہیں جو کہ کافی دلچسپ ہے۔
ان کا دعویٰ ہے کہ یہ ججز فوری استعفیٰ دینے کے بجائے پہلے اپنی نئی تعیناتی والے مقامات پر جائیں گے۔ وہاں ایک ماہ یا کچھ وقت گزارنے کے بعد وہ عملے کے ساتھ عدم تعاون یا دیگر انتظامی مسائل کا بہانہ بنا کر باقاعدہ طور پر اپنے عہدوں سے دستبردار ہو سکتے ہیں۔
خبر کی صداقت اور صحافتی ذرائع
اس بڑی خبر کے پس منظر میں اجمل جامی نے روزنامہ دنیا کے صحافی محمد اشفاق کو کریڈٹ دیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ محمد اشفاق نے 22 اپریل کو ہی یہ خبر بریک کر دی تھی جو بعد میں درست ثابت ہوئی۔
سینئر صحافی انصار عباسی نے بھی اس حوالے سے 24 اپریل کو اپنی رپورٹ شائع کی تھی۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ عدلیہ کے اندر اس بڑے ردوبدل کی منصوبہ بندی کافی عرصے سے جاری تھی اور اب اس پر عمل درآمد کا وقت آ گیا ہے۔
عدالتی آزادی پر پڑنے والے اثرات
قانونی ماہرین کا خیال ہے کہ ججز کے اس طرح کے تبادلے عدلیہ کی آزادی پر ایک بڑا سوالیہ نشان کھڑا کرتے ہیں۔ اگر ججز کو ان کے فیصلوں کی بنیاد پر سزا کے طور پر منتقل کیا جائے گا تو اس سے عدل و انصاف کا نظام مفلوج ہو سکتا ہے۔
جوڈیشل کمیشن کے ان نئے اختیارات نے ججز کے تحفظ کو کمزور کر دیا ہے۔ آنے والے دنوں میں یہ دیکھنا اہم ہوگا کہ سپریم کورٹ یا بار کونسلز ان اقدامات پر کیا ردعمل ظاہر کرتی ہیں اور کیا یہ ججز واقعی استعفیٰ دیتے ہیں یا نہیں۔