Ai
پاکستان کا دارالحکومت اسلام آباد ایک بار پھر عالمی توجہ کا مرکز بننے جا رہا ہے۔ ایرانی اور پاکستانی ذرائع کے مطابق ایران اپنے وزیر خارجہ عباس عراقچی کی قیادت میں ایک اعلیٰ سطحی وفد پاکستان بھیج رہا ہے۔
اس وفد کا بنیادی مقصد امریکہ کے ساتھ ممکنہ طور پر امن مذاکرات کے دوسرے دور کا آغاز کرنا ہے۔ حال ہی میں سی این این کی ایک رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ ان مذاکرات کے لیے تیاریاں مکمل کر لی گئی ہیں۔
اگرچہ ابھی تک یہ واضح نہیں ہے کہ امریکہ ان مذاکرات میں باضابطہ طور پر شرکت کرے گا یا نہیں۔ تاہم اسلام آباد میں امریکی لاجسٹک ٹیم کی موجودگی اس بات کا واضح اشارہ ہے کہ کچھ بڑا ہونے والا ہے۔
امریکی فوجی دباؤ اور ناکہ بندی
امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے حال ہی میں ایک سخت بیان جاری کیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا ہے کہ امریکی فوج ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی جاری رکھے گی۔
اس ناکہ بندی کا مقصد تہران پر دباؤ بڑھانا ہے تاکہ وہ امن معاہدے کی میز پر آئے۔ پیٹ ہیگستھ کا کہنا ہے کہ عسکری دباؤ اور سفارتکاری ساتھ ساتھ چلیں گے۔
ٹرمپ انتظامیہ اس بار طویل مذاکرات کے حق میں نہیں ہے۔ وہ اس معاملے کا فوری اور پائیدار سفارتی حل تلاش کرنا چاہتی ہے تاکہ خطے میں کشیدگی کم ہو سکے۔
جوہری پروگرام: سب سے بڑی رکاوٹ
کسی بھی ممکنہ معاہدے کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ایران کا جوہری پروگرام ہے۔ ماہرین کے مطابق اس وقت ایران کے پاس تقریباً 440 کلو گرام بم گریڈ کے قریب یورینیم موجود ہے۔
امن مذاکرات میں اس ذخیرے کی منتقلی یا تلفی ایک بنیادی شرط ہو سکتی ہے۔ کسی بھی قابل تصدیق معاہدے کے لیے مذاکرات کاروں کو اس مشکل ٹاسک کو حل کرنا ہوگا۔
ایران کے جوہری عزائم پر قابو پانا امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی اولین ترجیح ہے۔ اس حوالے سے اسلام آباد میں ہونے والی بات چیت انتہائی حساس نوعیت کی ہوگی۔
ایرانی قیادت کا بحران اور خامنہ ای کی صحت
ان مذاکرات کو ایک اور پہلو سے بھی دیکھا جا رہا ہے اور وہ ہے ایرانی سپریم لیڈر کی صحت۔ رپورٹس کے مطابق سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای 28 فروری کو ہونے والے ایک حملے میں شدید زخمی ہوئے تھے۔
بتایا جاتا ہے کہ وہ اس وقت صرف تحریری پیغامات کے ذریعے رابطے میں ہیں۔ اس صورتحال نے ایران کے اندرونی فیصلہ سازی کے عمل کو پیچیدہ بنا دیا ہے۔
اب زیادہ تر سفارتی اور فوری فیصلے سپاہ پاسداران انقلاب (IRGC) کے ہاتھ میں ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ عباس عراقچی کا دورہ پاکستان اور ان کی تجاویز کو آئی آر جی سی کی مکمل حمایت حاصل ہونے کا امکان ہے۔
عسکری منصوبہ بندی اور ہرمز کی آبنائے
اگرچہ پینٹاگون کی پہلی ترجیح سفارتکاری ہے، لیکن عسکری آپشنز بھی میز پر موجود ہیں۔ امریکی دفاعی حکام نے مختلف اہداف پر حملوں کے منصوبے تیار کر رکھے ہیں۔
ان منصوبوں کا زیادہ تر رخ آبنائے ہرمز کی جانب ہے، جو عالمی تیل کی ترسیل کے لیے اہم ترین راستہ ہے۔ اگر جنگ بندی اور مذاکرات ناکام ہوتے ہیں تو امریکہ سخت کارروائی کر سکتا ہے۔
امریکی حکام کا ماننا ہے کہ ایران کو یہ پیغام دینا ضروری ہے کہ سفارتکاری کی ناکامی کی صورت میں اسے بھاری قیمت چکانی پڑے گی۔ ہرمز کی ناکہ بندی عالمی معیشت کے لیے ایک ڈراؤنا خواب ثابت ہو سکتی ہے۔
عالمی معیشت پر اثرات اور ماہرین کی رائے
ایک امریکی کانگریس مین نے خبردار کیا ہے کہ اس تنازع کو صرف بمباری سے حل نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ جنگ کی صورت میں عالمی معیشت بری طرح متاثر ہوگی۔
خاص طور پر تیل اور کھاد کی قیمتوں میں ہوش ربا اضافہ ہو سکتا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ مذاکرات کے دوران آبنائے ہرمز کو کھلا رکھنا عالمی مفاد میں ہے۔
اگر یہ راستہ بند ہوا تو عالمی سپلائی چین درہم برہم ہو جائے گی۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان میں ہونے والے یہ مذاکرات نہ صرف دو ممالک بلکہ پوری دنیا کے لیے اہمیت کے حامل ہیں۔
مذاکرات کا مستقبل: امیدیں اور خدشات
ٹرمپ انتظامیہ کا ‘فاسٹ ٹریک’ سفارتی منصوبہ کتنا کامیاب ہوتا ہے، یہ آنے والا وقت بتائے گا۔ پاکستان اس پورے عمل میں ایک سہولت کار کا کردار ادا کر رہا ہے۔
مذاکرات میں شامل ٹیمیں اس بات سے آگاہ ہیں کہ وقت کم ہے اور چیلنجز بہت زیادہ ہیں۔ اسلام آباد کی یہ بیٹھک مشرق وسطیٰ کا نقشہ بدل سکتی ہے۔
اگر فریقین کسی نتیجے پر پہنچ جاتے ہیں تو یہ اس دہائی کی سب سے بڑی سفارتی کامیابی ہوگی۔ تاہم کسی بھی غلط فہمی کی صورت میں خطہ ایک بڑی جنگ کی لپیٹ میں آ سکتا ہے۔