سعودی عرب کا طریق مکہ منصوبہ، پاکستان سمیت 10 ممالک میں سہولیات

سعودی وزارتِ داخلہ نے حج عازمین کی سہولت کے لیے اپنا اہم منصوبہ طریق مکہ اقدام جاری رکھا ہوا ہے۔ یہ منصوبہ مملکت کے ویژن 2030 کے تحت خدمتِ ضیوف الرحمن پروگرام کا ایک کلیدی حصہ ہے جس کا مقصد عازمین کے سفر کو آسان بنانا ہے۔ العربیہ کی رپورٹ کے مطابق اس اقدام کے تحت عازمین کو ان کے اپنے ممالک میں ہی امیگریشن کی تمام ضروری سہولیات فراہم کی جاتی ہیں۔

اس منصوبے کے تحت عازمینِ حج کو ہوائی اڈوں پر تمام ضروری کارروائیاں مکمل کرنے کی سہولت دی جاتی ہے۔ اس میں صحت کی شرائط کی جانچ اور سامان کی کوڈنگ جیسے مراحل شامل کیے گئے ہیں۔ جب عازمین سعودی عرب پہنچتے ہیں تو وہ ہوائی اڈے پر انتظار کیے بغیر سیدھے اپنی رہائش گاہوں کی طرف روانہ ہو جاتے ہیں۔

سعودی عرب کی حکومت ویژن 2030 کے ذریعے حجاج کرام کے تجربے کو مزید بہتر بنانے کے لیے کوشاں ہے۔ طریق مکہ اقدام جدید ٹیکنالوجی کے استعمال سے عازمین کے وقت کی بچت کو یقینی بناتا ہے۔ اس اقدام کا بنیادی مقصد اللہ کے مہمانوں کو ان کی دہلیز پر بہترین اور تیز رفتار خدمات فراہم کرنا ہے۔

رواں سال طریق مکہ اقدام کے تحت سہولت 10 مختلف ممالک میں 17 مراکز کے ذریعے فراہم کی جا رہی ہے۔ ان ممالک میں پاکستان، مراکش، انڈونیشیا، ملائیشیا، بنگلہ دیش، ترکی، کوٹ ڈی آئیوری اور مالدیپ شامل ہیں۔ اس سال پہلی بار جمہوریہ سینیگال اور برونائی دارالسلام کو بھی اس اہم پروگرام کی فہرست میں شامل کیا گیا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اس منصوبے کی توسیع سے عالمی سطح پر سعودی عرب کی انتظامی صلاحیتوں کا اعتراف کیا جا رہا ہے۔ مستقبل میں مزید ممالک کو اس پروگرام کا حصہ بنائے جانے کی قوی توقع ہے تاکہ حج آپریشنز کو مزید آسان بنایا جا سکے۔ اس سے حج کے سیزن کے دوران سعودی ہوائی اڈوں پر رش کم کرنے میں بھی بڑی مدد ملے گی۔

ایک تبصرہ چھوڑ دو