Russian Foreign Ministry
روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے آبنائے ہرمز کے جاری بحران پر ایران اور امریکہ کے درمیان براہ راست مذاکرات کی اہمیت پر زور دیا ہے۔ انہوں نے ایرانی موقف کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ تہران کے اقدامات کے پیچھے بنیادی وجہ امریکی جارحیت ہے جس سے خطے کا امن داؤ پر لگا ہے۔
الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق سرگئی لاوروف نے اپنے دورہ چین کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ خلیجی عرب ممالک اس بات کو سمجھتے ہیں کہ امریکہ کی جانب سے دباؤ نہ ہوتا تو ایران کبھی آبنائے ہرمز بند کرنے کا قدم نہ اٹھاتا۔ ماسکو مسلسل اس بات کی کوشش کر رہا ہے کہ فریقین کسی پائیدار سفارتی حل تک پہنچ سکیں۔
روسی وزیر خارجہ نے واضح کیا کہ ان کا ملک ایران کے یورینیم افزودگی کے معاملے پر کسی بھی ایسے حل کو قبول کرنے کے لیے تیار ہے جو تہران کے قومی مفاد میں ہو۔ روس کا ماننا ہے کہ تہران پر یکطرفہ پابندیاں عالمی قوانین کی خلاف ورزی اور اشتعال انگیزی کا سبب بن رہی ہیں۔
سرگئی لاوروف نے اس بات کی نشاندہی کی کہ بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی نے کبھی بھی ایران کی یورینیم افزودگی کو فوجی مقاصد کے لیے استعمال ہوتے ریکارڈ نہیں کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کا ایٹمی پروگرام اب تک پرامن مقاصد کے لیے ہی استعمال ہوتا رہا ہے جس کی روس تائید کرتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ خطے میں پیدا ہونے والی کشیدگی کی بڑی وجہ واشنگٹن کا غیر لچکدار رویہ ہے۔ لاوروف کے مطابق امریکی پالیسیاں خطے کے استحکام کو نقصان پہنچا رہی ہیں اور اس سے عالمی توانائی کی ترسیل کے لیے خطرات پیدا ہو رہے ہیں جو کہ ایک سنگین عالمی مسئلہ ہے۔
روسی وزیر خارجہ نے امید ظاہر کی کہ امریکہ زمینی حقائق کو تسلیم کرے گا اور مشرق وسطیٰ میں اپنی جارحانہ کارروائیوں کا سلسلہ بند کر دے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ پالیسیاں نہ صرف خطے بلکہ خود امریکہ کے قریبی اتحادیوں کے لیے بھی معاشی اور سیکیورٹی کے لحاظ سے نقصان دہ ثابت ہو رہی ہیں۔
روس اس معاملے میں ایران کی سفارتی مدد جاری رکھنے اور مذاکرات کی میز پر لانے کے لیے اپنا کردار ادا کرتا رہے گا۔ لاوروف کا ماننا ہے کہ ایران کے خلاف فوجی طاقت کا استعمال پورے خطے کو تباہی کی طرف دھکیل سکتا ہے جس سے بچنا عالمی برادری کی ذمہ داری ہے۔
عالمی برادری کو خدشہ ہے کہ آبنائے ہرمز کی بندش سے عالمی تیل کی فراہمی شدید متاثر ہو سکتی ہے جس سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ ہوگا۔ روس کا موقف ہے کہ صرف شفاف مذاکرات اور ایک دوسرے کے مفادات کا احترام ہی اس عالمی توانائی کے بحران کو ٹالنے کا واحد راستہ ہیں۔
ماسکو نے تمام متعلقہ فریقین کو صبر و تحمل اور حقیقت پسندی اپنانے کا مشورہ دیا ہے تاکہ خطے کو کسی بڑی جنگ سے بچایا جا سکے۔ لاوروف کے مطابق روس اور چین مل کر خطے میں امن کے قیام کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھیں گے تاکہ تجارتی راستے محفوظ رہ سکیں۔