سعودی وزارت داخلہ نے اعلان کیا ہے کہ جو کوئی بھی تمام اقسام کے وزٹ ویزا رکھنے والے افراد کو غیر قانونی طور پر پناہ دے گا، اسے سخت ترین قانونی کارروائی کا سامنا کرنا پڑے گا۔ حکام کے مطابق ہوٹل، اپارٹمنٹ، نجی گھر یا کسی بھی پناہ گاہ میں ایسی رہائش فراہم کرنے والوں پر ایک لاکھ ریال تک کا بھاری جرمانہ عائد کیا جائے گا۔
حکام نے واضح کیا ہے کہ وزٹ ویزا رکھنے والوں کی پردہ پوشی کرنا یا انہیں کسی بھی قسم کی سہولت فراہم کرنا قانونی جرم تصور کیا جائے گا۔ سعودی عرب کی حکومت حج سیزن کے دوران سیکیورٹی اور نظم و ضبط کو یقینی بنانے کے لیے ان اقدامات پر سختی سے عمل درآمد کر رہی ہے۔
پابندیوں کا دورانیہ اور جرمانے کی تفصیلات
رپورٹ کے مطابق یہ نئی پابندیاں یکم ذی القعدہ سے شروع ہو کر 14 ذی الحجہ کے اختتام تک نافذ العمل رہیں گی۔ اس دوران مکہ مکرمہ اور مشاعرِ مقدسہ میں غیر قانونی طور پر قیام پذیر افراد کی مدد کرنا یا انہیں ٹھکانا فراہم کرنا سنگین خلاف ورزی شمار ہو گی۔
جرمانے کی رقم خلاف ورزی کرنے والے افراد کی تعداد کے مطابق بڑھائی جائے گی۔ سعودی وزارت داخلہ کا کہنا ہے کہ جتنے زیادہ افراد کو غیر قانونی طور پر پناہ دی جائے گی، جرمانے کی رقم اور سزا کی شدت میں بھی اسی تناسب سے اضافہ کیا جائے گا۔
حکام کی شہریوں اور زائرین سے تعاون کی اپیل
سعودی حکام نے تمام شہریوں، مقیم غیر ملکیوں اور زائرین سے اپیل کی ہے کہ وہ اس سال کے حج سیزن کو منظم کرنے کے لیے جاری کردہ ہدایات کی مکمل پابندی کریں۔ اس مہم کا بنیادی مقصد ضیوف الرحمن کی حفاظت اور سلامتی کو یقینی بنانا ہے۔
وزارت نے زور دیا ہے کہ متعلقہ حکام کے ساتھ تعاون کرنا ہر فرد کی ذمہ داری ہے تاکہ حج کے مناسک کو پرامن طریقے سے مکمل کیا جا سکے۔ کسی بھی مشکوک سرگرمی یا غیر قانونی قیام کی اطلاع فوری طور پر انتظامیہ کو دی جانی چاہیے۔
اکثر پوچھے گئے سوالات
Q: سعودی عرب میں غیر قانونی مقیم افراد کو پناہ دینے پر کتنا جرمانہ ہے؟
A: سعودی وزارت داخلہ کے مطابق تمام اقسام کے وزٹ ویزا رکھنے والے افراد کو غیر قانونی رہائش فراہم کرنے یا ان کی پردہ پوشی کرنے پر ایک لاکھ ریال تک جرمانہ عائد کیا جا سکتا ہے۔
Q: مکہ مکرمہ میں ویزا قوانین کی یہ پابندیاں کب تک نافذ رہیں گی؟
A: یہ پابندیاں یکم ذی القعدہ سے شروع ہو کر 14 ذی الحجہ کے اختتام تک مکہ مکرمہ اور مشاعرِ مقدسہ میں سختی سے نافذ رہیں گی۔