ایران کی پاسداران انقلاب (IRGC)نے دو بڑے تجارتی بحری جہازوں، ایم ایس سی فرانسسکا اور ایپامینوڈاس کو اپنی ساحلی حدود میں منتقل کر دیا ہے۔ اس اقدام کے بعد بین الاقوامی سمندری تجارتی راستوں پر ایک بار پھر کشیدگی کی لہر دوڑ گئی ہے اور مختلف ممالک کے حکام الرٹ ہو گئے ہیں۔
جہازوں کی شناخت اور ملکیت
پہلا بحری جہاز ایپامینوڈاس لائبیریا کے جھنڈے تلے کام کر رہا تھا تاہم اس کی انتظامی نگرانی ایک یونانی کمپنی کے پاس ہے۔ رپورٹ کے مطابق یہ جہاز بھارت کی جانب سفر کر رہا تھا جب اسے ایرانی حکام نے اپنی تحویل میں لیا۔
دوسرا بحری جہاز ایم ایس سی فرانسسکا پاناما کے جھنڈے تلے رجسٹرڈ ہے اور اس کی ملکیتمیڈیٹیرینین شپنگ کمپنی (MSC) کے پاس ہے۔ یہ کمپنی دنیا کی سب سے بڑی شپنگ لائنز میں شمار ہوتی ہے اور اس واقعے پر فی الحال خاموشی اختیار کیے ہوئے ہے۔
عملے کی تفصیلات اور موجودہ صورتحال
ایپامینوڈاس پر عملے کے کل 21 ارکان موجود ہیں جن کا تعلق یوکرین اور فلپائن سے بتایا جا رہا ہے۔ یونانی کوسٹ گارڈ نے ان اہلکاروں کی شناخت کی تصدیق کرتے ہوئے ان کی حالت پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔
ایم ایس سی فرانسسکا کے کپتان اور تین دیگر ملاحوں کا تعلق مونٹی نیگرو سے ہے جبکہ عملے میں دوکروشین شہری بھی شامل ہیں۔ کروشیا کی وزارت خارجہ نے اپنے شہریوں کی موجودگی کی تصدیق کی ہے اور ان کی باحفاظت واپسی کے لیے اقدامات شروع کر دیے ہیں۔
بین الاقوامی ردعمل اور تشویش
ایرانی حکام کی جانب سے ابھی تک اس حوالے سے کوئی معلومات فراہم نہیں کی گئیں کہ ان جہازوں پر کس قسم کا سامان لدا ہوا تھا۔ عالمی خبر رساں اداروں کے مطابق جہازوں پر موجود تمام عملہ محفوظ ہے لیکن ان کے آبائی ممالک مزید معلومات کے منتظر ہیں۔
مختلف ممالک کی حکومتیں ایران سے رابطے میں ہیں تاکہ ان کے شہریوں کی سلامتی کو یقینی بنایا جا سکے اور جہازوں کو جلد از جلد رہا کرایا جا سکے۔ اس واقعے نے خلیج فارس اور اس کے گردونواح میں بحری آمدورفت کے حوالے سے سیکیورٹی خدشات کو مزید بڑھا دیا ہے۔