The White House
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اشارہ دیا ہے کہ ایران کے ساتھ مذاکرات کا دوسرا دور اگلے دو روز میں پاکستان میں منعقد ہو سکتا ہے۔ انہوں نے نیویارک پوسٹ کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ وہ مذاکرات کے لیے اسلام آباد جانے کی طرف زیادہ مائل ہیں۔ الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق یہ پیش رفت خطے میں امن کی نئی امیدیں پیدا کر رہی ہے۔
نیویارک پوسٹ کی رپورٹ کے مطابق صدر ٹرمپ نے ایک حالیہ ٹیلی فون انٹرویو میں تصدیق کی کہ ایران کے ساتھ بات چیت کے لیے پاکستان ایک اہم مقام بن سکتا ہے۔ انہوں نے صحافیوں سے کہا کہ وہ وہیں قیام کریں کیونکہ اگلے دو دنوں میں کچھ بڑا ہو سکتا ہے۔ اس سے قبل یہ خیال کیا جا رہا تھا کہ مذاکرات کسی یورپی ملک میں ہوں گے۔
گزشتہ ہفتے کے آخر میں ہونے والے مذاکرات کا پہلا دور کسی حتمی معاہدے کے بغیر ختم ہو گیا تھا۔ صدر ٹرمپ نے پہلے کہا تھا کہ دوسرا دور یورپ میں ہوگا لیکن اب وہ اسلام آباد کو ترجیح دے رہے ہیں۔ ٹرمپ نے پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل عاصم منیر کی کارکردگی کی بھی تعریف کی اور انہیں بہترین قرار دیا ہے۔
پاکستان کا بطور میزبان انتخاب بین الاقوامی سطح پر اس کی سفارتی اہمیت کو واضح کرتا ہے۔ صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ جنرل عاصم منیر بہترین کام کر رہے ہیں اور وہ پاکستان کے کردار سے مطمئن ہیں۔ اگر یہ مذاکرات اسلام آباد میں ہوتے ہیں تو یہ پاک امریکہ تعلقات میں ایک نیا موڑ ثابت ہوگا۔
آنے والے دو دن عالمی سیاست کے لیے انتہائی اہم قرار دیے جا رہے ہیں۔ تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ ایران اور امریکہ کے درمیان براہ راست بات چیت سے مشرق وسطیٰ میں تناؤ کم ہو سکتا ہے۔ تاہم ابھی تک حتمی تاریخ اور مقام کا باضابطہ اعلان ہونا باقی ہے جس کا دنیا کو انتظار ہے۔