ایران اور امریکہ کے درمیان بڑا بریک تھرو اسلام آباد میں متوقع

پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات کا دوسرا دور شروع ہونے والا ہے جس میں ایک بڑے معاہدے کی توقع کی جا رہی ہے۔ دونوں ممالک کے وفود ایٹمی پروگرام سمیت تین اہم نکات پر اپنی قیادت سے مشاورت مکمل کر چکے ہیں۔ اب فریقین متنازع امور طے کرنے کے لیے تیار دکھائی دیتے ہیں۔

سینیئر صحافی محسن بیگ نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے تجزیے میں بتایا کہ دوسرے دور کا اسلام آباد میں ہونا پہلے دور کی کامیابی کا ثبوت ہے۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ دونوں ممالک کے وفود نے اہم نکات پر اپنی قیادت سے مشاورت کا عمل مکمل کر لیا ہے۔ اس پیشرفت کے بعد اب باقاعدہ معاہدے پر دستخط ہونے کی امید ظاہر کی جا رہی ہے۔

ایران اور امریکہ اب جنگ کو ایک قابل عمل آپشن قرار نہیں دے رہے جس کی وجہ سے سفارت کاری کو فوقیت دی جا رہی ہے۔ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ یعنی آئی ایم ایف کی ایک حالیہ رپورٹ نے بھی خبردار کیا ہے کہ جنگ جاری رہنے کی صورت میں عالمی کساد بازاری کا سنگین خطرہ پیدا ہو سکتا ہے۔ اس معاشی دباؤ نے دونوں ممالک کو میز پر بیٹھنے پر مجبور کیا ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے اپنے سابقہ سخت موقف میں تبدیلی پیدا کی ہے تاکہ خطے میں کشیدگی کو کم کیا جا سکے۔ ٹرمپ وسط مدتی انتخابات میں کامیابی حاصل کرنے کے لیے جنگ بندی اور کسی بڑے معاہدے کو اپنی بڑی سفارتی کامیابی کے طور پر پیش کرنا چاہتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ امریکی وفد اس بار زیادہ لچک دکھا رہا ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق اس بار اسلام آباد میں فریقین کے درمیان باقاعدہ معاہدہ سائن ہونے کے روشن امکانات موجود ہیں۔ اس معاہدے سے نہ صرف مشرق وسطیٰ میں امن قائم ہوگا بلکہ عالمی معیشت پر بھی مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔ پاکستان کا اس پورے عمل میں ثالثی کا کردار عالمی سطح پر سراہا جا رہا ہے جس سے خطے میں استحکام آئے گا۔

ایک تبصرہ چھوڑ دو